حب ڈیم اور کراچی پر منڈلاتا خطرہ

تحریر: آغا خالد

کراچی والوں کے سر پر خطرہ بری طرح منڈلارہا ہےاورصوبائی و شہری حکومت سرریت میں دےکرخطرہ قدرتی طور پرٹل جانےکی منتظرہے۔

حب ڈیم اپنی تعمیرکےبعد پہلی بار نہ صرف مکمل بھر چکاہے بلکہ ماہرین کےمطابق اضافی پانی کےاخراج کانظام انجنیرنگ کے اصولوں کے برعکس ہونےکی وجہ سے ڈیم شدید خطرہ میں ہے کیونکہ ڈیم میں کیرتھراوربلوچستان کےپہاڑوں سےآنےوالاتیزرفتارپانی ڈیم کے بندوں کوبری طرح نقصان پہنچا رہا ہے۔

مزید پڑھیں:جوڈیشل کمیشن کا اجلاس، چیف جسٹس کے تجویز کردہ نام مستر

خدانہ خواستہ اگریہ بند ٹوٹاتوکراچی میں ناقابل بیان تباہی آسکتی ہےجس کےلیے انتظامیہ قبل ازوقت کوئی تیاری نہیں کرہی نہ ہی حب ڈیم سےمتصل گوٹھوں ،شہر کی نواحی اورکچی آبادیوں کواس سلسلہ میں ذہنی طورپرتیارکیاجارہاہے اورنہ ہی ہنگامی حالات کےلیے کوئی منصوبہ بندی کی جارہی ہے ۔

جبکہ ذرائع کےمطابق حب ڈیم کے انتظامی عملے نے حکومت کوخطرے سےآگاہ کردیاہے اور کہاہےکہ اب تک توصورت حال کنٹرول میں ہے لیکن اگربلوچستان میں بارشوں کانیااسپیل بھی اسی شدت سےآیاتوحب ڈیم ٹوٹ سکتاہے اور اگرخدانہ خواستہ ایسا ہوا تو حب ڈیم میں پانی کےموجودہ ذخیرہ کے مطابق آدھاکراچی مکمل اورباقی جزوی ڈوب جائےگا ۔

کراچی کے نواح اورحب ڈیم سے قریب تر آبادیوں میں 16 فٹ تک پانی تباہی برپاکردےگا جواپنےساتھ سب بہاکرلےجائے گااورچند سال بیشتربھارت میں اس طرح کےبند ٹوٹنےسےہونےوالے نقصان کوسامنے رکھتےہوئے بڑےانسانی المیہ کے خطرے کونظرانداز نہیں کیاجاسکتا جس کےلیے حکومت کووفاق اور افواج پاکستان سےمدد حاصل کرکے پہلےسےتیاری کرلینی چاہئے کیونکہ محکمہ موسمیات مسلسل خطرے کی گھنٹیاں بجا رہا ہے۔

مزید پڑھیں:ٹام کروز کے ایک خطرناک اسٹنٹ کی تصاویر وائرل

اس کی رپورٹ کےمطابق رواں ہفتہ شدید بارشوں کی زد میں رہےگااوریہ سلسلہ اگست کےآخرتک جاسکتاہے جبکہ حب ڈیم لبالب بھرچکاہےاور پانی کےاخراج کاراستہ غیرفطری ہونےکی وجہ سے اس کےحفاظتی بندمتاثرہورہےہیں ورنہ اصولاً یہاں اسپیل وے ہونےچاہیےتھے جن کےدروازےکھول کراضافی پانی خارج کردیاجاتاتوبندوں پراس قدر شدید دبائونہ آتا جیسا آرہاہے۔

تاہم ابھی خطرہ کےابتدائی اثرات ظاہرہوناشروع ہوئےہیں تاہم موسم کی سنگینی خطرات کوجنم دےرہی ہےجس کاقبل ازوقت ازالہ ضروری ہے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *