ضلع تناول کا قیام تناول قبائل کا بنیادی حق اور درینہ مطالبہ ہے، حاجی محمد اکرم تنولی

کھلابٹ (نمائندہ خصوصی) 27 یونین کونسلوں پر مشتمل ضلع تناول کا قیام تناول قبائل کا بنیادی حق اور درینہ مطالبہ ہے قیام پاکستان کے وقت تمام ریاستوں کو اضلاع کے درجے دئیے گئے مگر تناول کی ریاست امب کو ضلع تناول کا درجہ نہ مل سکا۔ سرزمین تناول قدرتی ذخائر سے مالامال ہے ضلع تناول کے قیام تک جدوجہد جاری رہے گی۔

ان خیالات کا اظہار ضلع تناول تحریک کے بانی ڈاکٹر عبدالرؤف تنولی اور آل پاکستان تنولی اتحاد ضلع ہری پور کے چیئرمین حاجی محمد اکرم تنولی نے کھلابٹ یونین آف جرنلسٹس ہری پور کے صدر قاضی نثار احمد خان تنولی سے ملاقات کے دوران اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کیا۔

مزید پڑھیں: منافق عمران پاکستان کو غاروں کے زمانے میں لےکر جا رہا ہے: جواد احمد

انھوں نے کہا کہ جس وقت تک ضلع تناول کا قیام عمل میں نہیں آتا خاموش نہیں رہیں گے ضلع تناول کا قیام ایک مکمل حقیقت کا نام ہے گزشتہ کئی برسوں سے ضلع تناول تحریک کے کارکنان اور راہنما ضلع تناول کے لیے کوشاں ہیں۔

ضلع تناول تحریک اور آل پاکستان تنولی اتحاد کے کارکنان و عہدے داران نے ضلع تناول کے قیام کا مطالبہ منظم اور بہترین انداز سے حکومتی ارکان کے سامنے پیش کیا جس کی بدولت تحصیل لوئر تناول شیروان اور تحصیل دربند کا قیام عمل میں آیا جو کہ لائق تحسین اقدام ہے جبکہ تناول کی تیسری تحصیل بھی ہوگی۔

انھوں نے کہا کہ جس وقت تک ضلع تناول کا قیام عمل میں نہیں آتا کسی صورت خاموش نہیں بیٹھیں گے ضلع تناول کے قیام سے ہی تناول کی تعمیر و ترقی اور عوام کی خوشحالی ممکن ہے قیام پاکستان کے وقت تمام ریاستوں کو اضلاع کے درجے دے کر پاکستان میں ضم کیا۔

مزید پڑھیں:خیبرپختونخوا پولیس نے موبائل فون ایپ متعارف کروادی

مگر تناول کو ضلع کا درجہ دینے کی بجائے ہزارہ کے تیںن اضلاع میں تقسیم کر کے تناول قبائل کو بھی تقسیم کر کے ظلم کی داستان رقم کی گئی تاکہ یہ قوم صدیوں تک ترقی یافتہ اقوام کی صفحوں میں شامل نہ ہو سکے ۔

یہی وجہ رہی کہ پوری دنیا ترقی کے سفر میں بہت آگے نکل گئی مگر علاقہ تناول میں بسنے والے قبائل آج بھی پسماندگی کی دلدل میں پھنسے ہوئے ہیں آخر میں۔

انھوں نے کہا کہ تحریک انصاف کی صوبائی حکومت اور تناول سے تعلق رکھنے والے ارکان اسمبلی اپنے اپنے وعدوں کا پاس رکھتے ہوئے ضلع تناول کا نوٹیفکیشن جاری کروائیں تاکہ ضلع تناول کا قیام عمل میں آسکے

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *