پاکستان کا سری لنکا سے موازنہ اور معیشت پر منفی تجزیے درست نہیں: گورنر اسٹیٹ بینک

گورنر اسٹیٹ بینک ڈاکٹر مرتضیٰ سید نے پاکستان کی معاشی صورت حال کے حوالے سے سوشل میڈیا پر پھیلائی جانے والی منفی خبروں کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے ہمارا سری لنکا سے موازنہ بالکل بھی درست نہیں ہے۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے قائم مقام گورنر ڈاکٹر مرتضیٰ سید نے حالیہ دنوں میں معاشی صورتحال کے حوالے سے پائے جانے والے خدشات اور اسٹیٹ بینک سے متعلق پھیلائی جانے والی بے بنیاد خبروں پر گفتگو کرتے ہوئے ایک پوڈ کاسٹ میں کہا ہے کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ اگلے 12مہینے عالمی معیشت کے لیے بہت اہم ہیں لیکن پاکستان کے پاس آئی ایم ایف کا کور موجود ہے اس لیے پاکستانی معیشت اس وقت اتنی کمزور نہیں جتنا لوگ اسے سمجھ رہے ہیں۔

ڈاکٹر مرتضیٰ سید نے کہا کہ کورونا سے متاثرہ بیشتر ممالک کے مقابلے میں ہمارے اشاریے بہت بہتر ہیں، ہماری ترقی کورونا سے متاثرہ معیشتوں میں سب سے بہترین تھی،گزشتہ سال ہماری ترقی کی شرح تقریباً 6 فیصد رہی اور کوشش ہے اس سال ترقی شرح مزید بہتر ہو۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے تمام قرضوں کے اشاریے بہت بہتر ہیں، چاہے وہ بیرونی ہوں یا اندرونی اور اس کی تین بنیادی وجوہات ہیں۔

پاکستان پر عوامی قرضوں کی سطح گھانا، مصر، زمیبیا اور سری لنکا سمیت دیگر ملکوں کے مقابلے میں بہت کم ہے، جی ڈی پی پر ہمارا عوامی قرض 70 فیصد ہے جبکہ زمیبیا کا قرض 100فیصد اور سری لنکا کا قرضہ اس وقت 120 فیصدپر پہنچ چکا ہے۔

دوسری وجہ بیرونی قرضہ ہے، پاکستان پر بیرونی قرضہ 40 فیصد ہے جبکہ تیونس کا 90 فیصد، انگولا کا 120 اور زمیبیا کا 150فیصد سے بھی زیادہ ہے، اس کا مطلب پاکستان کیلئے بیرونی قرضے اتنے اہم نہیں بلکہ اندرونی قرضے اہم ہیں۔

تیسری وجہ مختصر دورانیے کے قرضے ہیں، پاکستان کے کیس میں صرف 7 فیصد بیرونی قرضہ ہے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *