ایس ایس ٹی کیڈر کا مقدمہ

تحریر: حافظ سرفراز قادری خان ترین

ایس ایس ٹیز (SSTs)کیڈر محکمہ تعلیم میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔1985؁ء سے پہلے SSTsکیڈر کے اساتذہ ہی پروموشن کے ذریعے ہائی اسکول کے ہیڈ ماسٹر ز، ڈسٹرکٹ ا یجوکیشن آفیسرز، ڈویژنل ڈائریکٹرز اور صوبائی ڈائریکٹرکے عہدے تک پہنچتے تھے اور تمام اساتذہ کیڈرز اس امید کے ساتھ ٹیچرز بھرتی ہوتے تھے کہ وہ SSTبن کر آگے ترقی کریں گے۔

لیکن 1985؁ء کے بعد جب ہائی سکولز کے ساتھ ہائیر سیکنڈری کلاسز کے اجراء اور سبجیکٹ سپیشلسٹ، پرنسپل اور وائس پرنسپل کی آسامیاں پیدا تو کر دی گئیں لیکن ان کے لیے کوئی الگ سروس سٹرکچر نہ دیا گیا بلکہ انھیں ہائی اسکول کے ساتھ منسلک کرکے ایس ایس اور ہیڈ ماسٹر کی سینارٹی یکجا کر دی گئی۔

جس نے SSTsکیڈر کی ترقی کے عمل کو جمود کا شکارکردیاجس سےSSTsکی پروموشن رک کر رہ گئی اور دس سال بعدہیڈ ماسٹر بننے ایس ایس ٹی 24سال بعد بھی ترقی کا منتظرر ہتے تھے
ہیڈماسٹرپر کوٹہ شروع سے برقرار رہا۔

مزید پڑھیں:پاکستان پٹرولیم گروپ کا درآمدی بل نئی ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا

تاہمSS کوٹہ شروع میں 80٪ کے بدلے 20٪رکھا گیا یہاں سے خرابی شروع ہوئی جو MMA گورنمنٹ نے زیرو کر دیا جو ایس ایس ٹیز تحریک کے نتیجے میں سے زیرو سے 50٪ ملا.

1985 تک 8 سال میں ایس ایس ٹیز HM بن جایا کرتے تھے.
جبکہ 1992میں چاردرجاتی فارمولے کے نفاذکے بعدایس ایس ٹیز 25 سال بعد ہیڈماسٹر کی پوسٹ پر پروموٹ ہوئے

یہ ساری خرابی 1992 کے چار درجاتی میں پیدا ہوئی کہ 50٪ HM کی گریڈ 17 کی 1765پوسٹیں گریڈ 18، 19 اور 20 کنورٹ ہوئیں تو اتنا نقصان ہوا.

2012 میں دوبارہ 4 درجاتی اپ گریڈ ہو اس میں گریڈ 17 کی مزید پوسٹیں کنورٹ ہوئیں. اب پھر تیسری بار اپ گریڈ ہونے جا رہا ہے. جس سے گریڈ17کی مزید پوسٹیں کم ہو جائیں گی جس سے نہ صرف ایس ایس ٹیزکی ہیڈماسٹر کی پوسٹ پرترقی کے چانسز کم ہوجائیں گے بلکہ ایس ایس ٹیزکی ترقی رکنے کی وجہ سے دوسرے کیڈرز کی ایس ایس ٹی پوسٹ پر ترقی کاعمل بھی جمود کا شکار ہو جاتے گا اس لیے ایس ایس ٹیز کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کا ازالہ کرنے کے لیے ضروری ہیکہ ایس ایس پوسٹ پرایس ایس ٹی کا 80٪ کوٹہ مختص کیاجائے۔

مزید پڑھیں:جماعت اسلامی کا ’’بلدیاتی الیکشن سے فرار نامنظور تحریک‘‘ کا آغاز

ایس ایس ٹیز ویلفیئر ایسوسی ایشن کے صوبائی صدر نادر خان مرحوم، احمد جان مرحوم، ڈاکٹر جمشید خان،ولی محمدمردان۔ محمد آصف خان،محمدشفیق ملک نثار سکندرخان ترین مرحوم، منظور الرحمان خان ہری پورنعیم الحسن شاہ سعیدخان ایبٹ آبادشبیرحسن راجہ واجد مانسہره اور دیگر قائدین کی کوششوں اوراس وقت کے ڈائریکٹرایجوکیشن محمدرفیق خٹک کے تعاون سے
ہیڈ ماسٹر پوسٹ پر 80 فیصد کوٹہ اور سبجیکٹ سپیشلسٹ کی پوسٹ پر 50فیصدکوٹہ ملنے کے بعد ایس ایس ٹی کی محکمانہ پروموشن کا سلسلہ شروع ہوا۔

ایس ایس ٹیز نے اپنے ساتھ ہونے والی نا انصافی پر شروع دن سے ہی آواز بلند کی جس پر1994؁ء میں SS کی تقرری میں SSTsکا 50%کوٹہ مختص کیا گیا لیکن بدقسمتی سے 2004؁ء میں یہ کوٹہ ختم کر دیا گیا۔

جس پر ایک بار پھرSSTsنے آواز اُٹھائی تو حکومت وقت نے 2007؁ ؁ء میں نوٹیفکیشن نمبرSo(FR)10-22(B)2005مورخہ01-10-2007 کے تحت ایم اے ایم ایس سی معہ بی ایڈ سیکنڈ ڈویژن کے حامل ایس ایس ٹیز کو گریڈ 17دیانیز اسی نوٹیفکیشن میں دیگر اساتذہ کیڈر کو اپ گریڈ کرنے کے ساتھ ڈی پی ایز اور لائبریینز کو بھی گریڈسولہ سے اپ گریڈکرکے گریڈ سترہ دیا گیا.

لیکن 20-1-2008 کو محکمہ تعلیم کی طرف سے ایک اور نوٹیفیکیشن کے ذریعے ایس ایس ٹیز کے لیے ایم اے ایم ایس سی بی ایڈ کے بجائے دس سالہ سروس کی شرط عاید کردی گئی اور ستم بالائے ستم یہ کہ جب ایس ایس ٹی کی گریڈ 17 کے لیے ڈی پی سی کا نوٹیفکیشن ہو ا تو اس میں ریگولر کے بجائے پرسنل گریڈ کر دیا گیا۔

مزید پڑھیں:افضل بٹ پی ایف یو جے کے صدر منتخب

جبکہ مندرجہ بالا اول الذکر ہر دو نوٹیفیکیشن میں کسی جگہ بھی پرسنل کا ذکر نہی ں ملتا۔ دوسری طرف ا سی دور میں MA/MScکی بنیاد پر کنٹریکٹ پر بھرتی ہونے والےSSکو گریڈ 17میں ریگولر کر دیا گیا۔

2012میں ایک بار پھر محکمہ تعلیم خیبر پختونخوا کے تمام کیڈر ز کو اپ گریڈ کیا گیا لیکن اس مراعاتی پیکج میں ایس ایس ٹی کیڈر کو حسب سابق نظر انداز کر دیا گیا۔

2007میں ہونے والی اپ گریڈیشن کے نتیجے میں سی ٹی، ڈرائنگ ماسٹر، فزیکل ایجوکیشن ٹیچر،معلم عربی کی پوسٹیں بی پی ایس 9سے اپ گریڈکرکے بی پی ایس 15میں کردی گئیں۔معلم اسلامیات کی پوسٹ بی پی ایس 7سے اپ گریڈکرکے بی پی ایس 15میں کردی گئی جبکہ 2012میں ان تمام کیڈرز کے اساتذہ کو بی پی ایس 16میں پروموٹ کیا گیا۔

اسی طرح 2007ء میں ہونے والی اپ گریڈیشن میں قاری اور پرائمری ٹیچرز کو بی پی ایس 7سے بی پی ایس 12میں اپ گریڈ کیا گیا جبکہ 2012میں پروموٹ کرکے بی پی ایس 15دیا گیا۔لیکن محکمہ تعلیم میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھنے والے سیکنڈری سکول ٹیچرز(ایس ایس ٹی)1991سے بدستور گریڈ 16میں کام کررہے ہیں۔

مزید پڑھیں: ’چوہدری شجاعت نے پارٹی کے کسی رکن کو براہ راست خط جاری نہیں کیا‘

وطن عزیزکے باقی صوبوں بشمول آزاد کشمیر، گلگت، بلتستان اور فیڈرل ایجوکیشن میں کام کرنے والے SSTsکو ٹائم سکیل دیا گیا ہے جس کے مطابق 21سال تک SSTپوسٹ پر کام کرنے والے SSTsکو گریڈ 19تک مل چکا ہے۔

سابقہ ادوار میں SSTsکے ساتھ ہونے والی نا انصافیوں کو مدِ نظررکھتے ہوئے سابق وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا جناب پرویز خٹک صاحب نے SSTsکی طرف سے دوسرے صوبوں کے ایس ایس ٹیز کے برابر مراعات اور ٹائم سکیل(یکم اکتوبر 2007سے گریڈ 17پرسنل میں کام کرنے والے ایس ایس ٹیز کو گریڈ 17ریگولر اور ایس ایس ٹی کا بنیادی سکیل 17کیا جائے) دینے کی درخواست پر 01-02-2014کو صوبائی سیکرٹری ایجوکیشن کو احکامات جاری کیے کہ خیبر پختون خوا کے ایس ایس ٹیز کو دوسرے صوبوں کی طرز پر مراعات اور ٹائم سکیل دینے کے لیے سمری بھیجی جائے لیکن ان احکاما ت پر عمل درآمد میں لیت ولعل سے کام لیاگیا۔

2015ء میں خیبر پختونخوا حکومت نے محکمہ ابتدائی وثانوی تعلیم سمیت مختلف صوبائی محکموں کے گریڈایک تا پندرہ تک ملازمین کو اپ گریڈ کیا لیکن ایس ایس ٹیز کو پھر بھی محروم رکھا گیا۔

مزید پڑھیں:پنجاب میں ڈپٹی اسپیکر نے عدالتی فیصلے کی روشنی میں رولنگ دی: احسن بھون

لہذاضرورت اس امر کی ہیکہ جس طرح دیگر ملازمین کے امور میں ہر طرح سے اچھی پیش رفت ہو رہی ہے ہم بھی چاہتے ہیں کہ گزشتہ ادوار میں SSTsکے ساتھ ہونے والی نا انصافیوں کا ازالہ کرتے ہوئے ایس ایس ٹیزکے مندرجہ ذیل مطالبات پورے کرنے کے احکامات صادر فرمائے جائیں۔

1۔ ایس ایس ٹی پوسٹ کو بی پی ایس 16سے اپ گریڈکرکے بی پی ایس 17ریگولر کیاجائے۔

2۔سبجیکٹ اسپیشلسٹ کی پوسٹ پر ایس ایس ٹی کاکوٹہ 50فیصد سے بڑھاکر 80فیصد کیاجائے۔

3۔خواتین ایس ایس ٹیز کی ایس ایس ٹی پرسنل اور ایس ایس، ہیڈمسٹریس پر پروموشن کے لیے فوری طور پر ڈی پی سی کا انعقاد کیاجائے۔

4۔ایس ایس ٹیز کے موجودہ سروس سٹرکچر کو برقراررکھتے ہوئے خیبر پختونخوا کے ایس ایس ٹی اساتذہ کو ٹائم سکیل دیا جائے جیسا کہ بلوچستان،سندھ،آذاد کشمیر،گلگت بلتستان اور وفاقی حکومت نے دے رکھا ہے۔

5۔ایس ایس ٹیز کو دس سالہ مدت ملازمت کی تکمیل پر پرسنل 17دینے کے بجائے پانچ سال بعد پرسنل 17دیاجائے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *