ایچ ای جے جرنل کلب‘ کے تحت جامعہ کراچی میں سیمینار کا انعقاد

کراچی:۔ایچ ای جے ریسرچ انسٹی ٹیوٹ آف کیمسٹری، جامعہ کراچی میں جمعہ کوایک نامور غیر ملکی سائینسدان کے تازہ ترین ریسرچ پیپر کا علمی و تحقیقی جائزہ لینے کے لیے ’ایچ ای جے جرنل کلب‘ کے تحت ایک سیمینار کا انعقاد ہوا۔

جس میں ایچ ای جے ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے پی ایچ ڈی اسکالر حنین علی نے دنیا کے نامور ساینسدان کے تازہ ترین ریسرچ پیپر پر گفتگو کی جبکہ آخر میں سوالات و جوابات کا سیشن بھی ہوا۔

حنین علی نے ریسرچ پیپر کے تجزیے میں کہا کہ انسانی علاج معالجے میں استعمال ہونے والی تقریباً تمام ادویات کی تیاری میں کاربن کا استعمال ہوتا ہے، کاربن دراصل حیاتی اور غیر حیاتی نظام کا ایک بنیادی حصہ ہے۔ واضح رہے کہ متعلقہ ریسرچ پیپر امریکن کیمیکل سوسائٹی کے تحت چھپنے والے معروف ریسرچ جرنل ’آرگینک لیٹرز‘ سے منتخب کیا گیا تھا۔

مزید پڑھیں:محکمہ ریلوے میں ‘غیر مصدقہ ملازمین’ کو 35 ارب روپے پینشن دینے کا انکشاف

یہ جرنل اپنے معیار کے اعتبار سے دنیا بھر میں معروف ہے جو آرگینک کیمسٹری کے موضوعات کا احاطہ کرتا ہے۔اپنی گفتگو میں پی ایچ ڈی طالب علم نے کہا کہ ’پیراسیٹا مال‘ سب سے عام دوا ہے اور اس میں بھی کاربن کا حصہ نمایاں ہے دورسری طرف کیموتھیرپی میں استعمال ہونے والے اینٹی کینسر دوا ’ڈوکسوربائیسن‘ میں بھی کاربن نمایاں ہے، اس کے علاوہ کاربن کی موجودگی وائٹامن ڈی اور چند بنیادی غذا وں میں بھی واضح ہے۔

واضح رہے کہ بین الاقوامی مرکز برائے کیمیائی و حیاتیاتی علوم (آئی سی سی بی ایس)، جامعہ کراچی کے سربراہ اور کامسٹیک کے کوارڈینیٹر جنرل پروفیسر ڈاکٹرمحمد اقبال چوہدری کی تجویز پر کیمیکل اور بائیو کیمیکل جیسے سائینسی موضوعات پر تبادلہئ خیال کے لئے’ایچ ای جے جرنل کلب‘ تشکیل دیا گیا ہے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *