بلوچستان، طوفانی بارشوں، سیلابی ریلوں سے معمولات زندگی معطل

بلوچستان کے مختلف علاقوں میں طوفانی بارشوں اور سیلابی ریلوں نے تباہی مچاکر عام زندگی معطل کردی ہے، مختلف واقعات  میں خواتین اور بچوں سمیت 9 افرد جاں بحق ہوگئے ہیں جبکہ مختلف علاقوں میں بنے7 ڈیم ٹوٹ گئے ہیں جس سے متعدد علاقے زیر آب گئے ہیں۔

تیز بارشوں اور سیلابی ریلوں کے باعث بلوچستان کے علاقے پشین، قلعہ سیف اللہ، مسلم باغ، قلعہ عبداللہ اور ژوب میں 7 ڈیم ٹوٹ گئے ہیں جبکہ کان مہتر زئی کے ڈیم میں بھی شگاف پڑگیا ہے۔
مختلف علاقوں میں سیلابی ریلوں میں بہہ جانے کے مختلف واقعات میں خانہ بدوشوں کی سیکڑوں جھونپڑیاں اور مویشیوں کے بہہ جانے کے ساتھ عورتوں اور بچوں سمیت 5 افراد  سیلابی ریلوں میں بہہ کر جاں بحق جبکہ 2 خواتین اور 3 بچے لاپتہ ہوگئے ہیں۔

مزید پڑھیں:

پشین میں سیلابی ریلوں سے کئی کچے مکانات گر گئے جبکہ کئی افراد بھی لاپتہ ہوگئے ہیں۔ پنجگور میں بارش کے باعث گھر کی دیوار گرنے سے 4 بچے جاں بحق ہونے کی بھی اطلاعات ہیں۔

بارشوں اور سیلابی ریلوں سے پاک افغان سرحدی دیہات کی رابطہ سڑکیں بہہ گئی ہیں جبکہ  بلوچستان پنجاب شاہراہ مختلف مقامات پر بند ہوگئی ہے ۔ رابطہ پل بہہ جانے سے کوہلو سے کوئٹہ سمیت اندرون بلوچستان سے زمینی رابطہ منقطع ہو چکا ہے۔

بلوچستان کے مختلف علاقوں میں بارشوں اور سیلابی ریلوں سے متاثرہ علاقوں میں پاک فوج اور لیویز کی امدادی سرگرمیاں جاری ہیں۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *