برطانوی جنگی جہاز کا حوثیوں کے جدید ایرانی میزائلوں پر قبضہ

برطانیہ کی شاہی بحریہ کے ایک جنگی جہاز نے رواں سال کے اوائل میں خلیج عمان میں ایرانی میزائلوں کی ایک جدید کھیپ قبضے میں لے لی تھی اور اس کارروائی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ یمن میں ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں کے لیے تہران کی حمایت کا ایک بڑاثبوت ہے۔

برطانوی حکومت کا بیان اس بات کا ثبوت ہے کہ تہران حوثیوں کوعرب اتحاد کے خلاف جنگ میں خلیج عرب کے ذریعے اسمگل کیے جانے والے جدید ہتھیاروں سے مسلح کر رہا ہے۔

متحدہ عرب امارات میں برطانیہ کے سفارت خانے نے کہا ہے کہ پہلی بار برطانوی بحری جنگی جہاز نے ایران سے اس طرح کے جدید ترین ہتھیار لے جانے والے بحری جہاز سے ٹاکراہوا تھا۔

مزید پڑھیں: کراچی میں کہاں کتنی بارش ہوئی؟ اعداد و شمار جاری

برطانوی مسلح افواج کے وزیر جیمز ہیپی نے کہا کہ ان کا ملک یمن میں پائیدار امن کی حمایت میں کام جاری رکھے گا۔

وہ بین الاقوامی بحری سلامتی کے لیے پرعزم ہے تاکہ تجارتی جہاز رانی بغیر کسی رکاوٹ کے محفوظ طریقے سے جاری رہ سکے۔

اقوام متحدہ میں ایران کے مشن نے اس انکشاف پرتبصرے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔برطانیہ کی جانب سے یہ اعلان کشیدگی میں اضافے کابھی اشارہ ہے کیونکہ مغربی حکام ماضی میں عوامی سطح پر ایسے بیانات سے گریزکرتے رہے ہیں جن میں یمن میں حوثیوں کوممنوعہ فوجی مواد سے مسلح کرنے کے لیے ایران کو یقینی طور پر مورد الزام ٹھہرایا گیا ہو۔

تاہم بحیرہ عرب یا خلیج عدن کے ذریعے اسمگل کیے جانے سامان اورہتھیاروں کے راستے نے ان کی منزل کا واضح اشارہ دیا ہے۔

مزید پڑھیں: اداکار ہارون شاہد نے پاکستانی شوبز انڈسٹری کا غلیظ ترین سچ بے نقاب کردیا

یمن پراقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے عاید کردہ ہتھیاروں کی پابندی کے باوجودایران پرشُبہ ہے کہ وہ 2015 میں تباہ کن جنگ شروع ہونے کے بعد سے حوثیوں کو رائفلیں، راکٹ سے چلنے والے دستی بم، میزائل اور دیگر ہتھیار منتقل کررہا ہے۔

ایران حوثیوں کو مسلح کرنے کی تردید کرتا ہے لیکن آزاد تجزیہ کاروں، مغربی ممالک اور اقوام متحدہ کے ماہرین نے یمن میں ایسے اجزاء کا سراغ لگایا ہے جن کا سرا ایران سے جاملتا ہے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *