اٹک کی عدالت کا عمران ریاض کو فوری رہا کرنے کا حکم

اٹک کی مقامی عدالت نے اینکر عمران ریاض کو فوری رہا کرنے کا حکم دے دیا۔

اٹک کے جوڈیشل مجسٹریٹ نے اینکر عمران ریاض کے کیس سے متعلق رات کو ہونے والی سماعت پر محفوظ فیصلہ سنایا جس میں عدالت نے عمران ریاض کو کیس سے ڈسچارج کرتے ہوئے فوری رہائی کا حکم دیا۔

عدالت نے عمران ریاض کو کیس سے ڈسچارج کرنےکا 8 صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کیا۔ عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ اینکر عمران ریاض کسی اور مقدمے میں گرفتار نہیں تو انہیں رہاکیاجائے۔

اٹک پولیس نے اینکر عمران ریاض کوگرفتارکر کے 3 دن کےجسمانی ریمانڈ کی استدعا کی تھی جب کہ گزشتہ روز اسلام آباد ہائیکورٹ نے عمران ریاض کی گرفتاری سے متعلق درخواست نمٹاتے ہوئے ان کے وکیل کو لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کی تھی۔

اس سے قبل اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے عمران ریاض خان کی گرفتاری کے خلاف درخواست پر لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کرنے کا حکم دیدیا۔

تفصیلات کے مطابق اینکر پرسن عمران ریاض خان کی گرفتار کے خلاف درخواست پر چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس اطہر من اللہ نے سماعت کی۔

دوران سماعت عدالت نے عمران ریاض کے وکیل کو لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کرنے کا حکم دیتے ہوئے ان کی گرفتاری سے متعلق درخواست نمٹا دی۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ رات کو رپورٹ آئی کہ عمران ریاض کو گرفتار کیا گیا۔

جس پر عمران ریاض کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ عمران ریاض نے مجھے فون کرکے بتایا کہ وہ اسلام آباد ٹول پلازہ پر ہیں ، ان کی گرفتاری اسلام آباد کی حدود سے ہوئی ہے ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *