ایف پی سی سی آئی معاشی نظام کو سود سے پاک کرنے کی بھرپور حمایت کرتی ہے:عرفان اقبال شیخ

10 ماہ میں 39.3 بلین ڈالر کا تجارتی خسارہ معیشت کیلئے شدید نقصان دہ ہے: عرفان اقبال شیخ

کراچی () صدر ایف پی سی سی آئی عرفان اقبال شیخ نے کہا ہے کہ تاجر برادری وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے کے مطابق پاکستان کی معیشت اور بینکنگ سسٹم کو سود سے پاک نظام میں تبدیل کرنے کی بھرپور حمایت کرتی ہے؛ جس کے تحت معیشت اور بینکاری نظام سے پانچ سال کی مدت میں سود پر مکمل پابندی لگانے کا کہا گیا ہے۔

وفاقی شرعی عدالت نے سود پر مکمل پابندی کے لیے 2027 تک کی مدت مقرر کی ہے؛ کیونکہ اس کے مطابق فیصلے پر عمل درآمد کے لیے یہ عرصہ کافی ہے۔

مزید پڑھیں:اوگرا نے ایل پی جی کی قیمت میں اضافے کا اعلان کردیا

انہوں نے مزید کہا کہ فیصلے میں حکومت سے ضروری ریگولیٹری تبدیلیاں کرنے کا کہا گیا ہے؛ تاکہ سود سے پاک مالیاتی نظام کی طرف سفر کو ممکن بنایا جا سکے۔صدرایف پی سی سی آئی نے پاکستان کی معیشت اور مالیاتی نظام کو مساوات، اثاثوں پر مبنی، رسک شیئرنگ اور سود سے پاک معیشت میں تبدیل کرنے پر زور دیا ہے؛ تاکہ سود پر مبنی نظام کے اندر پا ئی جانے والی برائیاں اور خطرات سے بچا جا سکے۔

عرفان اقبال شیخ نے کہا کہ اسلامی بینکنگ پاکستان میں کامیابی سے اور مالیاتی ڈیسپلین سے اپنے کام کو آگے بڑھا رہی ہے اور بینکنگ انڈسٹری میں اسلامی بینکاری کے ڈیپازٹ اور اثاثوں کا مارکیٹ شیئر سال 2021 کے لیے بالترتیب 19.4 فیصد اور 18.6 فیصد تھا۔ مزید برآں، 2021 میں اسلامی بینکاری کے ذریعے فنانسنگ میں 38.1 فیصد اضافہ ہو؛ا جو کسی بھی معیار کے لحاظ سے فنانسنگ میں بہت اچھے گروتھ ریٹ کو ظاہر کرتا ہے۔

عرفان اقبال شیخ نے بتایا کہ میکرو اکنامک پیمانے پر پاکستان کا کل ریونیو اکٹھا ہو نے کی توقع سال 2022-23 میں 7 کھرب روپے ہے؛جس میں سے 4 کھرب روپے صرف قرضوں کی ادائیگی اور سود کی مد میں خرچ ہو جائیں گے۔ جو کل محصولات کا تقریباً 56 فیصد ہو گا۔

مزید پڑھیں:پاکستان جونیئر لیگ کے مینٹورز کی چاندی ہوگئی، کروڑوں روپے کمائیں گے

سنیئر نائب صدر ایف پی سی سی آئی سلیمان چاولہ نے مطالبہ کیا ہے کہ وزارت خزانہ، وزارت قانون، بینکنگ کونسل اور دیگر اسٹیک ہولڈرز اکٹھے ہو کر پاکستان کو سود سے پاک ملک بنانے کے لیے کام کریں۔

انہوں نے مزید کہا کہ اسلام میں قرآن و سنت کے مطابق سود کی ممانعت اپنی تمام صورتوں اور مظاہر میں مطلق ہے۔ مزید برآں، عرفان اقبال شیخ نے تجویز پیش کی کہ اسٹیٹ بینک کو سود پر مبنی نظام کو سود سے پاک نظام میں تبدیل کرنے کے لیے ایک واضح روڈ میپ اور فریم ورک پیش کرنا چاہیے؛ جوکہ پانچ سال کی مدت پر محیط ہو۔تا کہ وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے پر بغیر کسی تاخیر کے عمل در آمد ہو سکے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *