شہباز حکومت میں پیٹرول کی قیمتوں میں اب تک کتنا اضافہ ہوا؟

سبسڈی ختم ہونے کی صورت میں پیٹرول 200 روپے تک جا سکتا ہے

مسلم لیگ (ن) کی مخلوط حکومت کی جانب سے گزشتہ روز مسلسل چوتھی مرتبہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق موجودہ حکومت کی جانب سے پہلی بار 26 مئی کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 30 روپے فی لیٹر اضافہ کیا گیا تھا۔ جس کے بعد پیٹرول 179 روپے 86 پیسے، ڈیزل 174 روپے 15 پیسے، مٹی کا تیل 155 روپے 56 روپے اور لائٹ ڈیزل 148 روپے 31 پیسے کا ہو گیا تھا۔

حکومت نے 2 جون کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک مرتبہ پھر 30 روپے اضافہ کیا۔ جس کے بعد پیٹرول کی قیمت 209 روپے 86 پیسے جبکہ ڈیزل کی قیمت 204 روپے 15 پیسے ہوگئی تھی۔

15 جون کو مسلسل تیسری بار حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کیا تھا۔ جس کے بعد پٹرول کی قیمت 233 روپے 89 پیسے، ڈیزل کی قیمت 263 روپے 31 پیسے روپے ہو گئی تھی۔

گزشتہ روز پیٹرول کی قیمت میں 14 روپے 85 پیسے  اضافہ کیا جس کے بعد نئی قیمت 248 روپے 74 پیسے فی لیٹر ہو گئی ہے۔

دوسری جانب گزشتہ روز پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے متعلق اعلان کے بعد سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ٹوئٹ کرتے ہوئے وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے لکھا ’’ پیٹرول کی قیمت میں اضافے کا اعلان مجھے ٹی وی پر آکر نہیں کرنا چاہیے تھا‘‘َ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *