قدرتی جمالیات ایک اچھی صحبت

تحریر: صبور فاطمہ

سکون، خاموشی، تنہاٸی، منفیت سے دوری، ہموار راستہ، خوب صورت موسم یہ سب کیا ذہن کےتفکرات کو مثبت داٸرے میں مستحکم کرنے کے لیے کم ہے؟؟؟ نہیں۔۔۔۔۔

افسوس یہ ہے کہ ہمارے ہاں کی اکثریت قدرت کے اس بامقصد حُسن کو چھوڑ کر بے مقصدیت پر اپنی فکر اور توجہ کو اس قدر مرکوز رکھتے ہیں کہ انھں احساس ہی نہیں ہوپاتا کہ لاشعوری طور پر وہ اندر سے اپنے آپ سے ،اپنی حقیقت سے کس قدر دور ہوچکے ہیں۔ یہ قدرتی جمالیات انسان کو اس کی اپنی حقیقت سے قریب کرتے ہیں۔

مزید پڑھیں: پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ

، غلط، باطل، بے مقصدیت، لغویات سے دور کرتی ہیں۔ویسے بھی کاٸنات کی ہرشے مسلمان ہے تو اس میں بے جان چیزوں کے پاس اپنی چاہ سے کوٸی عقیدہ قبول یا تبدیل کرنے کا آپشن نہیں ہے علاوہ انسان کے۔اور یہ قدرتی جمالیات تو اپنے اپنے انداز سے ہر لمحے اللہ کی تسبیح بیان کرتی ہیں تو قدرتی جمالیات میں تفکر ایک اچھی اور مسلمان صحبت سے تعلق پیدا کرنا ہے،حقیقت سے قریب ہونا ہے خوش رہنا ہے ہردم شکر گزار رہنا ہے۔

خلاصہ یہ ہے شخصیت کی مثبت تعمیر میں یہ قدرتی جمالیات اچھا اور بھرپور حصہ ڈالتے ہیں ۔ہمارے ہاں لوگ اسے کوٸی غیر اہم چیز سمجھ کر نظر انداز کردیتے ہیں کہ۔یہ فالتو کی۔باتیں اور سوچ ہے حالاں کہ خود قرآن میں اللہ تعالیٰ نے اونٹ پہاڑ دن رات کے آنے جانے میں تفکر اور غور کا کہا ہے تویقنا یہ اہم ہے۔ یہ تفکرانسان کو بور،پریشان اور غم زدہ نہیں کرتا تکلیف نہیں دیتا۔

مزید پڑھیں: عمران خان ضمانتوں کے پیچھے چھپنے کی بجائے مقدمات کا سامنا کریں، کیپٹن عاصم ملک

بلکہ مزید تروتازہ کردیتا ہے۔ اسی لیے کہ یہ ان قدرتی جمالیات کا مزاج ہے۔اسی لیے قدرت سے جڑیے، اللہ کو ہر دم یادکیجیے اور خوش رہیے۔ اپنے ذہن میں قدرتی جمالیات کے تفکر کو جگہ دیجیے۔ کیوں کہ ذہن کا کام صرف سوچنا ہی ہے تو اچھا سوچیے،تعمیری فکر کیجیے اور بامقصد زندگی گزاریے۔

جس طرح ہر صحبت کے شخصیت پر اثرات ہوتے ہیں تو ان تفکرات کے بھی مثبت، حوصلہ مند اثرات آپ کی شخصیت کا حصّہ بن جاتے ہیں۔ لہذا اچھی صحبت اختیار کیجیے اور اللہ کے قریب رہیے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *