شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم کا سودی نظام کے خلاف صوتی پیغام

مفتی تقی عثمانی

سوال : جو حضرات سودی بینکوں کی اسلامی ونڈوز میں کام کرتے ہیں، وہ غیر سودی بینکاری کی تائید نہ کرنے والے ان بینکوں کی اسلامی ونڈوز میں کام جاری رکھیں یا مستعفی ہوں ؟

جواب : میں اس بارے میں کوئی حتمی فیصلہ تو نہیں کرتا، نہ میری طرف سے اس سلسلے میں کوئی حتمی ہدایت ہے، لیکن میرا عمل یہ رہا ہے کہ جہاں کہیں ایسا ہوا تو میں نے وہاں کے شریعہ بورڈ سے استعفیٰ دے دیا۔

یہ واقعہ خیبر بینک میں پیش آیا، خیبر بینک کلی اسلامک تھا، جب انہوں نے اس کو محول کیا اور اس کو صرف ایک اسلامک ونڈو بنادیا، تو میں اس سے مستعفی ہوگیا۔

اسی طرح بینک دبئی جو پہلے کلی اسلامی تھا اور اس نے یہ اعلان کیا کہ اس کو کنونشل میں تبدیل کیا جارہا ہے اور صرف ایک ونڈو باقی رکھی جائے گی، تو میں اس سے مستعفی ہوگیا۔

اسی طرح جب میں ایچ ایس پی سی (HSPC) کے بارے میں کہ پہلے شامل ہوا تھا تو میں نے یہ کہا تھا کہ میری شمولیت اس وقت تک ہے جب تک کہ آپ اس کو ایک مستقل کلی اسلامی بینک نہیں بنالیتے، جب انہوں نے اس سلسلے میں لیت و لعل سے کام لیا تو میں نے اس وقت اس سے استعفیٰ دے دیا۔

مزید پڑھیں:صدر عارف علوی کا جامعہ اردو کا دورہ

اسٹیٹ بینک آف پاکستان میں، میں نے شریعہ بورڈ کی صدارت قبول کی تھی، پھر لیکن جب اسٹیٹ بینک نے یہ موقف اختیار کیا کہ یہ ربا نہیں ہے تو میں اس سے مستعفی ہوگیا۔

تو بہرحال ہر ایک کا اپنا اپنا فیصلہ ہے اور اپنے حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے ہے۔

البتہ میں ہمیشہ اپنے ساتھیوں سے یہ کہتا رہا ہوں کہ وہ اپنی نظام زندگی کو وہاں کی تنخواہوں کے تابع نہ بنائیں، تاکہ کبھی استعفیٰ کی نوبت آئے تو پھر ان کو یہ سوچنا نہ پڑے کہ ہمارا گذارہ کیسے ہوگا اور یہ میں ہمیشہ کہتا رہا ہوں اور میرا عمل بھی یہی رہا ہے کہ میں نے کبھی بھی اپنی نظام زندگی کو وہاں سے حاصل ہونے والے پیسوں پر موقوف نہیں رکھا، اس لئے الحمدللہ کبھی کوئی کسی جگہ سے استعفیٰ دینے کی جہاں ضرورت پیش آئی تو مجھے اس حوالے سے ایک منٹ کا بھی تأمل نہیں ہوا الحمدللہ!

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *