صدر عارف علوی کا جامعہ اردو کا دورہ

صدرپاکستان و چانسلر وفاقی جامعہ اردو ڈاکٹر عارف علوی نے جامعہ اُردو گلشن اقبال، کراچی کیمپس کے دورے کے موقع پر فنون کے شعبہ جا ت کے فروغ اور انہیں جدید تقاضوں و عالمی معیار کے مطابق تشکیل دینے کی اہمیت کو اجاگر کیا۔

شیخ الجامعہ پروفیسر ڈاکٹر اطہر عطاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ جامعہ کو ملکی و بین الاقوامی سطح پر ترقی کی جانب گامزن کرنے کے لئے موثر اقدامات کریں گے۔

صدر پاکستان و چانسلر وفاقی جامعہ اردو ڈاکٹر عارف علوی نے جامعہ اُردو گلشن اقبال کراچی کیمپس کے مختلف شعبہ جات کے دورے کے بعد خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سائنس کے ساتھ فنون کے مضامین کو بھی ازحد اہمیت حاصل ہے۔ اس سلسلے میں تحقیق اور سروے کے ذریعے ان کی مارکیٹ ویلیو کا درست اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ ان مضامین کے ذریعے نہ صرف معاشرے کی اصلاح اور ترقی ممکن ہے بلکہ امن کو بھی فروغ دیا جاسکتا ہے۔

طلبا کے لئے بہت ضروری ہے کہ وہ نظری تعلیم کے ساتھ عملی تجربات سے بھی مستفید ہوں۔ انہوں نے مزید کہا کہ خصوصی افراد کو بھی عمومی شعبہ جات میں داخلہ ملنا چاہئے اس کے علاوہ ان کے لئے علیحدہ شعبہ بھی قائم کیا جاسکتا ہے تاکہ وہ معاشرے میں فعال کردار ادا کرسکیں۔اعلی تعلیمی کمیشن نے اساتذہ اور طلباء کے لئے تقریبا 4 ہزار مفت کورسز متعارف کرائے ہیں۔

انہوں نے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے فروغ اور جامعہ کے نجی شعبہ سے پارٹنر شپ پر زور دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ دور میں انفاارمیشن ٹیکنالوجی کی مدد کے بغیر کسی بھی شعبے کی ترقی ممکن نہیں
اس کے ذریعے فاصلاتی آن لائن کورسز بھی شروع کئے جاسکتے ہیں۔

انہوں نے جامعہ میں پودالگا کر ماحولیات کی اہمیت سے بھی آگاہ کیا۔پروگرام میں وفاقی اُردو یونیورسٹی کے شیخ الجامعہ پروفیسر ڈاکٹر اطہر عطاء،قائم مقام رجسٹرار پروفیسرڈاکٹر زرینہ علی،سینیٹ کے ڈپٹی چیئر اے کیو خلیل،سنیٹر واجد جواد، ڈاکٹرطاہر علی، کنوینرسابق سرچ کمیٹی ذہیر عشیر،رؤسائے کلیہ جات پروفیسر ڈاکٹر محمد ضیاء الدین، پروفیسر ڈاکٹر محمد زاہد، پروفیسر ڈاکٹر مسعود مشکور،ڈاکٹرمہہ جبیں اور انچارج اسلام آباد کیمپس عامر ندیم نے شرکت کی۔

پروفیسر ڈاکٹر اطہر عطاء نے جامعہ کے تینوں کیمپسز کے بارے میں پریزینٹیشن دیتے ہوئے کہا کہ جامعہ کے 41شعبہ جات میں تقریبا 22ہزار طلبہ زیر تعلیم ہیں اور 270مستقل ودیگر معاہداتی اساتذہ تدریس کے فرائض سرانجام دیتے ہیں جو بہت قابل اور با صلاحیت ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وہ جامعہ کو عالمی معیار کے مطابق لانے کے لئے نئے شعبوں اور جدید پروگرامز کا جلد آغاز کریں گے جن میں جنوبی امریکا کی جامعات کے تعاون سے آن لائن کورسز،بیرون ملک جامعات سے اساتذہ اور طلبہ کا تبادلہ، جامعہ کا صنعت سے رابطہ اور قومی زبان میں نصاب کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا شامل ہے۔ ان کا عزم ہے کہ وہ تدریسی و غیر تدریسی عمال کی مدد سے جامعہ کو ملکی و بین الاقوامی سطح پر ترقی کی جانب گامزن کریں گے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *