سودی بینکوں پر دباؤ بڑھائیے

تحریر: یمین الدین احمد

آج صبح ایک بزنس کنسلٹنگ کلائینٹ (بزنس اونر) کے ساتھ میٹنگ تھی۔ بات اس اپیل پر چل نکلی جو اسٹیٹ بینک اور مبینہ طور پہ چار کنوینشنل بینکوں کی طرف سے سپریم کورٹ میں دائر کی گئی ہے۔ ان کی کمپنی کے اور ذاتی کچھ اکاؤنٹس ان ہی میں سے دو بینکس میں ہیں۔ مجھ سے میری رائے مانگی کہ کیا ان بینکوں میں اکاؤنٹس بند کروا دینے چاہئیں جس پر میری رائے یہی تھی کہ بالکل، کم از کم یہ تو ہم کر ہی سکتے ہیں اور ہمیں ضرور کرنا چاہئے کہ ہم ان لوگوں میں سے تو نہیں تھے جو ان اداروں کو سپورٹ کرتے ہیں جو سینہ ٹھونک کر اللہ اور اس کے رسول سے جنگ کرنے میں پہلی صف میں ہیں۔

اب ظاہر بات ہے ایک بڑا کاروباری گروپ ہے جس کی ماہانہ ٹرانسیکشنز کروڑوں اور سالانہ اربوں میں ہیں۔ ذاتی اکاؤنٹس میں بھی ایک وقت میں اچھی خاصی رقم موجود ہوتی ہوگی۔

الحمد للہ، آدھے گھنٹے کی گفتگو کے بعد فورا” اپنے اکاؤنٹنٹ کو بلایا کہ ان بینکس میں جاو اور اکاؤنٹس بند کرنے کی کاروائی کرو۔ تمام رقوم میزان اور دو اور اسلامک بینکس میں ٹرانسفر کرو۔

مزید پڑھیں: بھارتی فوجی کی فائرنگ سے اپنے ہی ساتھی قتل

اکاؤنٹنٹ اپنے ساتھی کو لیکر بینک چلا گیا اور کہا کہ ہمیں اپنی کمپنی کا اکاؤنٹ بند کروانا ہے، ابھی کے ابھی! برانچ مینیجر نے سمجھایا، پھر منتیں کرنے لگا تو اس نے کہہ دیا کہ سیٹھ صاحب کا حکم ہے، میں کچھ نہیں کرسکتا، آپ ان سے بات کرلیں جو بھی کرنی ہے۔

تھوڑی ہی دیر میں مینیجر صاحب نے سیٹھ صاحب کو کال کردی کہ آپ ایسا نہ کریں۔ جون کی کلوسنگ ہونے والی ہے، آپ کا ہمارے ہاں 30 سال سے اکاؤنٹ ہے، ہمارا خیال کر لیں۔ سیٹھ صاحب نے کہا کہ جب آپ لوگوں کو اللہ اور اس کے رسول کا اتنا بھی خیال نہیں ہے کہ کم از کم سودی بینکاری کو ختم کرنے میں روڑے نہ اٹکائیں تو میں آپ کا خیال کیوں کروں؟

بینک مینیجر نے شاید اپنے ہیڈ آفس کال کردی تو وہاں سے کسی وائس پریذیڈنٹ کی کال آگئی کہ سر ہم آپ سے ملنا چاہتے ہیں، آپ اکاؤنٹ بند نہ کریں، ہم کوئی راستہ نکال لیتے ہیں۔ ہم آپ کی اپنے شریعہ ایڈوائزر سے بات کروا دیتے ہیں اور آپ کے اکاؤنٹس کو اسلامک ونڈو آپریشن کی طرف منتقل کئے دیتے ہیں۔

اندازہ یہ ہوا کہ سودی بینکاری کے خلاف موجودہ احتجاج کا ان بینکس پر کافی دباؤ پڑا ہے، پھر پندرہ منٹ بعد اس بینک کے شریعہ ڈپارٹمنٹ سے ایک مفتی صاحب کا فون آگیا۔ میں نے سیٹھ صاحب سے کہا کہ ان سے میری بات کروائیں۔ ان کو میں نے اپنا تعارف کروایا۔ انہوں نے کہا کہ آپ کا اور آپ کے ادارے کا غائبانہ تعارف تو ہے لیکن کبھی ملاقات نہیں ہوئی۔ 600 ملی گرام کی ایک ڈوز فون پر ہی ان کو میں نے دے دی۔۔۔

مزید پڑھیں:۔ ایل پی جی کی قیمت میں 10روپے فی کلو اضافہ

ان سے بات کرنے کے بعد اندازہ ہوا کہ ان بینکوں میں شریعہ ایڈوائزرز نہ صرف شرمندہ ہیں بلکہ سخت پریشان ہیں۔ میں نے انہیں مشورہ دیا کہ آپ تمام علماء اور مفتیان کرام کو، جو ان بینکوں سے وابستہ ہیں اجتماعی طور پہ استعفے دینے چاہئیں، کم از کم بات تو چلائیں۔ میں نے عرض کیا کہ نوکری کی فکر نہ کریں، رازق اللہ ہے اور وہ بہتر انتظام کر دے گا۔

میں نے ان کے جذبے کو تحریک دینے کی غرض سے عرض کیا کہ ہم نے اپنے ادارے ٹائم لینڈرز میں بہت شروع میں ہی آپ علماء سے مشورے کے بعد یہ فیصلہ کیا تھا کہ ہم کنوینشنل بینکوں، انشورنس کمپنیوں اور کسی بھی ایسے ادارے کو اپنی ٹریننگ اور کنسلٹنگ سروسز فراہم نہیں کریں گے جو یا تو کلی طور پہ حرام کام کرتا ہے یا ایسی مصنوعات اور خدمات کی فراہمی پر کام کرتا ہے جو لوگوں کے لیے سخت نقصان دہ ہیں جیسے سگریٹ بنانے والی کمپنیز، میوزک اور اس نوع کے کاموں کو کرنے والے ادارے وغیرہ۔ میں نے کہا کہ الحمد للہ ہم آج بھی اپنی اس پالیسی پر قائم ہیں۔

ان کے جذبے کو مزید بڑھانے کے لیے میں نے انہیں یہ بتایا کہ بہت سال پہلے ان ہی بینکوں میں سے ایک بینک نے ہمیں پورے سال کا ٹریننگ کنٹریکٹ آفر کیا تھا جس کی مالیت کروڑوں میں تھی لیکن ہم نے بالاتفاق اور پورے اطمینان کے ساتھ یہ کنٹریکٹ چھوڑ دیا تھا۔ فللہ الحمد!

ایک اور بینک نے ٹریننگ اور کنسلٹنگ کے حوالے سے میٹنگ کی درخواست کی۔ ہمارے ایک ساتھی ملنے ضرور گئے لیکن یہ بتانے کے لیے کہ ہم آپ کے ساتھ کام نہیں کرسکتے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ براہ راست ایسا کام کر رہے ہیں جو اللہ اور اس کے رسول سے جنگ کے مترادف ہے۔ جن مینیجر صاحب سے ہمارے ساتھی کی یہ میٹنگ ہوئی تھی، وہ بہت حیران ہوئے کہ کوئی ٹریننگ کمپنی ایسے کیسے لاکھوں روپے کی ڈیل چھوڑ سکتی ہے؟ اگلے ماہ وہ میری ایک تین دن کی ٹریننگ میں خود آگئے۔ اور اس کے بعد اللہ کی توفیق سے استعفی دے دیا۔ آج اپنا ایک چھوٹا سا کام کرتے ہیں اور بہت خوش ہیں۔

مزید پڑھیں: سدھو موسے والا کا آخری گانا یوٹیوب سے ہٹادیا گیا

میں نے مفتی صاحب کو کہا کہ 20 برس ہوگئے ہیں لیکن اللہ تعالٰی کے فضل سے ہمارا کام کم نہیں ہوا بلکہ بڑھا ہے اور کراچی سے نکل کر آج دنیا کے کئی ممالک میں ہمارے کلائینٹس ہیں۔ وقتی طور پہ مشکلات ضرور آئیں لیکن ہمارے بڑوں کی تربیت اور مشورے سے ہونے والے ان فیصلوں کے نتیجے میں، میں نے ہمیشہ برکات کا ہی مشاہدہ کیا ہے۔ یہ ہمارے اندر کا خوف ہوتا ہے کیونکہ

"شیطان تمہیں فقر سے ڈراتا ہے لیکن اللہ تم سے اپنے فضل کا وعدہ کرتا ہے۔”

اور۔۔۔۔

"کون ہے جو اللہ سے زیادہ اپنے وعدوں کو سچا کرنے والا ہو۔”

اب مفتی صاحب نے بھی مختلف آپشنز پر غور وفکر کرنے کی حامی تو بھرلی ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اس اپیل میں صرف یہ چار بینک نہیں ہیں بلکہ دیگر بینک بھی شامل ہیں۔

بہرحال عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ چند بڑے کاروباری ادارے یا ایسے اکاؤنٹ ہولڈرز جن کے اکاؤنٹس میں بڑی رقوم ان بینکوں میں موجود ہیں، اگر وہ اپنے اکاؤنٹس ان بینکوں سے منتقل کر دیں اور کہہ کر کریں، اور دوسری سطح پر ان بینکوں میں اسلامک ونڈو میں جو شریعہ ایڈوائزر کام کر رہے ہیں، وہ اجتماعی طور پہ استعفے دے دیں تو میرا خیال ہے کہ یہ اپنی درخواست واپس لینے پر مجبور ہو جائیں گے۔

اور اگر نہ بھی ہوں تو کم از کم اپنے حصے کا کام تو پورا کردیا جائے اور دباؤ بڑھانے والوں میں تو شامل ہو ہی سکتا ہے بندہ۔ بہرحال اتنی تفصیل لکھنے کا مقصد صرف یہ ہے کہ۔۔۔۔

اس کی وہ جانے اسے پاس وفا تھا کہ نہ تھا
تم فراز اپنی طرف سے تو نبھاتے جاتے
شکوہ ظلمت شب سے تو کہیں بہتر تھا
اپنے حصے کی کوئی شمع جلاتے جاتے

و ما توفیقی الا باللہ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *