کیا بینکوں سے رقم نکلوانا کافی ہے؟

تحریر: فیض اللہ خان

بینکوں سے بطور احتجاج رقوم نکالنے والی بات ایک حد تک ٹھیک ہے مگر مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے پاس متبادل کیا ہے ؟ یقینی طور پہ کچھ نہیں ہے مثلاً توہین مذھب سے لیکر مسلم خطوں پہ حملوں تک بطور احتجاج کبھی پیپسی کبھی کوک کبھی ٹیلے نار کا بائیکاٹ ہوا کبھی مخصوص اسٹورز انکی مصنوعات کی بائیکاٹ کی مہم چلی جذبات کے پیش نظر دیکھیں تو چلیں نفس کی تسکین بھی ہوگئی اور احتجاج بھی ہوگیا۔

مگر دل پہ ہاتھ رکھ کر بتائیں یہ مہمات کتنا عرصہ چل سکیں ؟ ایک خاص وقت کے بعد بائیکاٹ کرنے والوں کی اکثریت دوبارہ انہی اشیاء کی خریداری پہ لگ جاتی ہے ۔

مزید پڑھیں: چنیوٹ مدر اینڈ چائلڈ اسپتال عوام کیلئے جہنم بن گیا

مسئلہ انکے نہ صرف متبادل بلکہ اس سے بہترین بینک چاکلیٹ کپڑے گاڑی موبائل سروس تعلیمی اداروں وغیرہ وغیرہ کی فراہمی ہے ہم بائیکاٹ کردیتے ہیں متبادل پہ کوئی توجہ نہیں دیتا اسی جذباتی نظریات کے سہارے ہماری زندگیاں گزر گئیں ۔

مفتی تقی عثمانی صاحب نے ایک کوشش کی ہے اور اچھی کی ہے مگر ذاتی طور پہ اسلامی و غیر اسلامی بینکاری کی چونکہ ککھ سمجھ نہیں ہے مگر جو موٹی بات میری موٹی عقل میں لوگوں کو سنکر بیٹھی ہے اسکے مطابق اسلامی بنکاری مختلف ناموں اصطلاحات یا اپنے طریقہ کار کے مطابق سودی بنکاری سے بھی مہنگی پڑتی ہے اسے بہتر کیا جاسکتا ہے۔

اس میں کام ہوسکتا ہے خامیاں دور کیجاسکتی ہیں مطلب بہت کچھ ممکن ہے اگر ریاست واقعی سنجیدہ ہو اندرون ملک تو یہ معاملہ پھر شاید سنبھل جائے مگر عالمی سطح پہ ایک مضبوط سودی نظام معیشت ہے جس سے ہمارے نکلنے کے دور دور تک امکانات نہیں مگر پھر بھی اپنے حصے کی کوشش ضرور ہونی چاھئیے
کچھ احباب جمعیت علمائے اسلام سے اس معاملے پہ حکومت سے نکلنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

مزید پڑھیں: سندھ بھر میں 56 ہزار اساتذہ کی بھرتی کا عمل مکمل

میرے خیال سے یہ بھی جذباتی مطالبہ ہے بائیکاٹ وغیرہ کی سیاست سے پارلیمان کے اندر رھنا زیادہ مناسب ہوتا ہے اگر انہوں نے دلچسپی لی تو حکومت پہ دباؤ بڑھ سکتا ہے کہ اس ضمن میں کچھ کام کرلے مگر موجودہ حالات میں حکومت کو اپنی پڑی ہے وہ اس معاملے کو کیوں دیکھے گی ؟

آخری بات ، توہین مذھب و رسالت ہو سودی معاملہ یا اس سے جڑے دیگر مسائل ، ہمیں جزیات کے بجائے لوگوں کو یہ سمجھانا ہوگا کہ مکمل اسلامی نظام کے نفاذ تک ان سے چھٹکارہ ممکن ہے نا ہی اپنی توانائی ان میں صرف کرنا عقلمندی ، پوری طاقت کیساتھ نہ صرف اسلامی نظام کے نفاذ کی جدوجہد ہو بلکہ اس سے پہلے اقامت دین کا کام کرنے والی جماعت اسلامی ہو تنظیم اسلامی جے یو آئی جمعیت اہلحدیث لبیک یا دیگر انکے پاس مطلوبہ ویژن اخلاق طریقہ کار ماہرین منتظمین اور منصوبہ بھی ورنہ مناسب ہوگا کہ اسلامی نظام کی بات ہی نہ کریں۔

کیونکہ جس نظام کو چلانے کے افراد ہوں منصوبہ نا ہی ماہرین تو پھر چپ کرکے بیٹھے رہیں تو بائیکاٹ و مظاہروں جیسی جذباتی باتوں سے نکل کر ہر شعبے کے بہترین ماہرین تیار کریں ، مذھبی جماعتوں کا اقتدار میں آنا ناممکن کی حد تک مشکل ہے مگر ماہرین تیار ہوں تو وہ کسی بھی حکومت کی کم از کم ایسے تمام معاملات میں بہترین معاونت اور اصلاح کرسکتے ہیں

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *