چنیوٹ مدر اینڈ چائلڈ اسپتال عوام کیلئے جہنم بن گیا

چنیوٹ مدر اینڈ چائلڈ اسپتال عوام کیلئے جہنم بن گیا

کراچی: ناظم آباد میں واقع ایک نجی اسپتال چنیوٹ مدر اینڈ چائلڈ اسپتال عوام کیلئے جہنم بن گیا ہے۔ عملے اور ایڈمنسٹریٹر مسیحا بننے کے بجائے دہشت گردوں کی طرح دھمکیاں دینے لگے۔

ناظم آباد نمبر 4 میں واقع نجی اسپتال نے ایڈمٹ بیمار خواتین کے ساتھ انتہائی بدتمیزی اور دھمکی آمیز رویہ سے پیش آرہے ہیں۔ جو مریض ایڈمٹ ہیں انہیں 3 سے 4 دن اضافی رکھ کر بل بنایا جارہا ہے اور اگر کوئی مریض آواز اٹھاتا ہے تو اسے آخری موقع پر کہا جاتا ہے کہ کہیں اور چلے جاؤ ہمارا اصول یہی ہے۔

اسپتال کے ایڈمنسٹریٹر ڈاکٹر فاروق انتہائی بدتمیز آدمی ہیں جن سے کوئی بھی شکایت جاکر کرے تو اسے کی شکایت دور کرنے کے بجائے اسے دھمکی آمیز لہجے میں دبانے اور اپنے عملے کی طرفداری کرنے لگتے ہیں۔

موقع پر موجود مریضوں اور ان کے تیمار داروں نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ یہ ہسپتال تقریبا 2 سے 3 سال سے قبل کافی بہتر تھا۔اب انہیں نجانے کیا ہوگیا ہے کہ یہ ہر ایک آنے جانے والے سے بدتمیزی کررہے ہیں۔

3 تین دن سے اندر مریض رکھا ہوا ہے مگر کسی ایک تیماردار کو ساتھ رکنے نہیں دے رہے ہم باہر گرمی میں اسپتال سے باہر روڈ پر بیٹھے ہیں جبکہ پرائیویٹ روم والے مریضوں کے پاس بھی کسی کو جانے نہیں دیا جارہا اور اگر کوئی شکایت کرے تو انکے گارڈ اور عملہ بدتمیزی اور دھمکیاں دینے لگتے ہیں۔

ایک مریض نے کہا یہاں ڈاکٹر رانا ارشد مشہور گائینی ہیں لوگ انکی وجہ سے آتے تھے مگر اب یہاں آنا جانا باعث زلت ہوگیا ہے۔ہم پیسے دیتے ہیں مفت میں علاج نہیں کراتے تاہم اس قدر ہتک آمیز رویہ اور تکلیف دی جارہی ہے جو برداشت سے باہر ہے۔

ایک تیماردار نے بتایا کہ کورونا کی آڑ میں ہر قسم کی تکلیف دی جارہی ہے۔ اگر ایک خاتون تیماردار بھی ساتھ رکے تو اسے کہا جاتا ہے جاکر مسجد یا کینٹین کی جگہ جاکر بیٹھ جاؤ اور اس کے وہاں جانے کے بعد کہا جاتا ہے کہ تم مریض کے پاس نہیں لکھ کر دے دو اگر مریض کو کچھ ہوا تو ذمہ دار تم خود ہوگے۔ عجیب رویہ ہے۔انسان مشکل میں یہاں پھنس تو جاتا ہے مگر پھر یہاں سے نکلنا مشکل کردیئے ہیں یہ لوگ۔

ایک خاتون نے بتایا کہ میرا ایچ بی 8 اعشاریہ 9 آیا ہے اور مگر صرف مجھے خوار کرنے اور زیادہ روکنے کیلئے کہا جارہا ہے ولادت کے آپریشن سے قبل خون کا انتظام کرکے پہلے بوتل لگواؤں پھر آپریشن کے بعد کیلئے 2 بوتلیں اور لاؤ جبکہ مجھے اسکی ضرورت نہیں۔

بس پیسے بنارہے ہیں نہ یہ خیال کہ اس وقت خون لگانا کتنا نقصان دہ ہوسکتا ہے میرے اور بچے کیلئے۔ 3 دن پہلے سے ایڈمٹ کر رکھا ہے اور آپریشن کی تاریخ آگے سے آگے کرر ہے ہیں۔ عوام نے حکومت سندھ اور وفاق سے اپیل کی ہے کہ اس ہسپتال کا نوٹس لیں۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *