لاہور میں پولیس مقابلہ، قیدیوں کی منتقلی کے دوران فائرنگ سے دو جاں بحق

لاہور میں پولیس مقابلہ، قیدیوں کی منتقلی کے دوران فائرنگ سے دو جاں بحق

لاہور: لاہور میں مبینہ پولیس مقابلے میں 2 زیر حراست قیدی پولیس کی فائرنگ سے جاں بحق ہوگئے۔ اطلاعات ہیں کہ دونوں قیدیوں کا تعلق بلوچستان سے تھا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق قیدیوں کو ایک مقام سے دوسری مقام پر لے جایا جا رہا تھا جہاں راستے میں پولیس نے جعلی مقابلہ بناتے ہوئے فائرنگ کر دی، فائرنگ کے نتیجے میں دونوں قیدی فائرنگ کی زد میں آکر جاں بحق ہو گئے۔

دونوں قیدیوں عبدالرزاق اورثناءاللہ کو 17 مئی کو انارکلی بم دھماکے کے شبہ میں گرفتار کیا گیا۔ چند روز قبل یہ خبر آئی تھی کہ لاہور انارکلی دھماکے کا مرکزی ملزم گرفتار ہوا ہےـ ترجمان سی ٹی ڈی کے مطابق انارکلی دھماکے میں ملوث مرکزی ملزم سمیت دو شدت پسندوں کو گرفتار کر لیا گیا۔

ترجمان سی ٹی ڈی کا کہنا تھا کہ شدت پسند ثناءاللہ اور عبد الرزاق کو آئی ای ڈیز، ڈیٹونیٹر، ریموٹ کنٹرول اور بیٹریوں سمیت گرفتار کیا گیا ہے، دونوں شدت پسند بلوچستان سے لاہور ایک اور دھماکہ کرنے کے لیے پہنچے تھے۔

چند روز قبل کراچی یونیورسٹی دھماکے کی طرح مزید چینی باشندوں کو نشانہ بنانے کے لیے تیار کی گئی خودکش بمبار خاتون کو گرفتار کیا گیا تھا۔ سی ٹی ڈی اور وومن پولیس کی جانب سے عمل میں لائی گئی کارروائی کے نتیجے میں سی پیک روٹ پر چینی قافلے کو نشانہ بنانے کے لئے تیار کی گئی خاتون خودکش بمبار کو گرفتار کیا گیا تھا۔ اس مقصد کے لیے سکیورٹی اداروں نے بلوچستان کے علاقہ ہوشاب میں آپریشن کیا۔

اس حوالے سے ترجمان سی ٹی ڈی نے بتایا ہے کہ تربت سی ٹی ڈی اور وومن پولیس نے خفیہ اطلاع پر ہوشاب میں آپریشن کے دوران خودکش بمبار خاتون کو گرفتار کیا، جس کے قبضے سے دھماکہ خیز مواد اور ڈیٹونیٹر برآمد ہوئے ، خاتون کا تعلق کالعدم تنظیم بی ایل اے مجید بریگیڈ سے ہے۔

معلوم ہوا ہے کہ بلوچ علیحدگی پسندوں کی طرف سے تیار کی گئی خود کش بمبار خاتون سی پیک روٹ پر چینی قافلے کو نشانہ بنانا چاہتی تھی جبکہ گرفتار خاتون کا تعلق اسی گروپ سے ہے جس نے کراچی یونیورسٹی میں خودکش حملہ کیا تھاـ

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *