شیطانی چکر کیا ہوتا ہے۔۔؟؟

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہولناک اضافہ صرف آئ ایم ایف کی ایک قسط کے لیے ہے۔معیشت کی بہتری کے لیے ہرگز نہی۔ اب ہو گا یہ کہ پیداواری لاگت اپنی انتہا کو چھونے لگے گی۔۔برآمدات بری طرح متاثر ہوں گی بھارت اور بنگلہ دیش عالمی منڈی میں اپنی کم پیداواری لاگت کی وجہ سے مزید منڈیوں پر قابض ہوں گے۔

تجارتی خسارے کے پیش نظر پھر آئ ایم ایف ،پھر روپے کی قدر میں کمی ،پھر ضروریات زندگی کی قیمتوں میں اضافہ۔۔۔یہ شیطانی چکر دنیا کے کئ ملکوں میں موجود ہے ۔۔اور وہاں مصنوعات پر پرائس ٹیگ کا تصور ہی ختم ہو چکا۔۔ہو گا یہ کہ اس جبر کے نظام کو قائم رکھنے کے لیے بندوق برداروں کو مزید قوت فراہم کی جائے گی۔۔

مزید پڑھیں: پٹرولیم مصنوعات کی بٹرھتی قیمتوں کا ذمہ دار کون؟

بچے کھچے اداروں میں نچلی سطح تک فوج کے ریٹائرڈ اور حاضر سروس افراد کو کھپایا جائے گا تاکہ بندوق برداروں کی وفاداریاں برقرار رہیں۔۔عدلیہ اور میڈیا مالکان کو مزید نوازا جائے گا۔۔طاقت کے چاروں سے ستون عوام کے چاروں خانوں پر استادہ ہوں گے۔۔ ترقیاتی بجٹ ختم ہو جائے گا۔۔صحت تعلیم عیاشی تصور ہوگی۔۔
یہاں تک کہ ریاست سے وفاداری ناپید ہو جائے گی۔۔۔ملکی کرنسی کی قدر گرانے کا یہی نتیجہ ہوتا ہے جو ہم آج بھگت رہے ہیں ۔۔
لوگ پوچھتے ہیں حل کیا ہے۔۔
حل صرف اتنا سا ہے سمجھوتوں کے زریعے اقتدار حاصل کرنے کے بجائے عوامی قوت کے بل بوتے پر اقتدار حاصل کریں۔۔اصل مراعات یافتہ طبقات کو ان کی اصل جگہ پر لائیں۔۔

مزید پڑھیں: سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں

اور جرات کے ساتھ کھڑے ہو کر آئ ایم ایف کی شرائط ماننے سے انکار کریں۔۔
جان رکھیں کہ عالمی دنیا کو کدو کوئ غرض نہی کہ یہ ملک ستائیس رمضان کو بنا یا پچیس دسمبر کو قائم ہوا
دنیا کا واحد خوف یہ ہے کہ ایک ایٹمی قوت معاشی بدحالی کا شکار ہو کر انار کی کی طرف نہ جائے اس صورت میں یہ ہتھیار کس کے ہتھے چڑھیں اور کون اسے اچھالتا پھرے ۔۔ یہ تصور سوہان روح ہے۔

یہ واحد خوف اور خطرہ ہے جو انہیں درپیش ہے ۔۔دو ہزار چودہ کے بعد ہمیں سبق سکھانے کے لیے لاتعداد مرتبہ یہ بحث ہوئ اور اسی ایک نکتے پر آکر ختم ہو گئ۔۔۔

پھر سوچا یہی گیا کہ پہلے یہ ٹنٹا ختم کریں اور پھر انہیں ان کے حال پر چھوڑ دیں۔۔بچھو جب آگ میں گھر جائے تو اپنے آپ کو ڈسنے لگتا ہے۔اور ہم یہ سمجھتے رہے کہ ہم دنیا کو بیوقوف بنا رہے ہیں۔۔ایڈے تسی اسٹیٹس مین

نوٹ: ادارے کا تحریر سے متفق ہونا ضروری نہیں، یہ بلاگ مصنف کی اپنی رائے پر مبنی ہے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *