پٹرولیم مصنوعات کی بٹرھتی قیمتوں کا ذمہ دار کون؟

عمران خان حکومت نے آئی ایم ایف سے انتہائی سخت شرائط پر معاہدہ کیا۔ جس کے تحت پاکستان کو دسمبر 2021 میں تیل کی قیمتوں میں تیس روپے فی لیٹر اضافہ کرنا تھا اور پھر ہر ماہ چار روپے فی لیٹر تب تک اضافہ کرتے رہنا تھا جب تک کہ مزید تیس روپے اضافہ نہ ہو جاتا۔ ساتھ میں جی ایس ٹی کو 17فیصد اور پٹرولیم لیوی کو 38روپے تک لانا تھا۔

لیکن عمران خان نے جب تحریک عدم اعتماد میں حکومت ختم ہوتے دیکھ لی تو انھوں نے آئی ایم ایف کے معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے نہ صرف تیل کی قیمتیں نہیں بڑھائیں بلکہ مزید دس روپے کم کرکے آنے والوں کے لیے بارودی سرنگ بچھا دی۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ آئی ایم ایف نے پاکستان کو بلیک لسٹ کر دیا اور بلیک لسٹ ہونے کی وجہ سے ورلڈ بینک سمیت دیگر اداروں اور ملکوں نے بھی اپنے فنڈز روک لیے یا واپس مانگ لیے، یوں پاکستان ایک گرداب میں پھنس گیا۔

مزید پڑھیں: سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں

نئی حکومت نے کامیاب مذاکرات سے پاکستان کو بلیک لسٹ سے نکلوا کر آئی ایم ایف پروگرام بحال تو کرا دیا مگر شرائط وہی رہیں جو عمران حکومت مان چکی تھی۔ اس لیے پٹرول ڈیزل مہنگا کرنا پڑ گیا، لیکن دوسری طرف ورلڈ بینک و دیگر اداروں اور ملکوں نے بھی اپنے پروگرام بحال کر دیئے۔ جس سے اب ان شاءاللہ پاکستان واپس اپنے ٹریک پر آ جائے گا۔ لیکن عمران حکومت کی جانب سے وطن عزیز کو دی گئی کڑوی گولی نگلنی پڑے گی۔

بلاول کے کامیاب دورہ چین کے بعد چینی حکومت نے عمران حکومت سے واپس لیے گئے اپنے دو ارب تیس کروڑ ڈالر بھی واپس کرنے کی منظوری دے دی ہے اور شرح سود بھی 2019 کے مقابلے میں ایک فیصد کم کیا گیا ہے، یہ پیسے جلد مل جائیں گے جن سے ڈالر نیچے آ جائے گا۔ آئی ایم ایف کے ساتھ عمران حکومت کا معاہدہ اور چین سے ملنے والی رقم کی تفصیلات تحریر کے ساتھ شیئر کی گئی ہیں۔ خود سنیں، خود پڑھیں پھر سوچیں کے اقتدار کے لیے کس نے وطن کو بلی چڑھایا۔
نوٹ: ادارے کا تحریر سے متفق ہونا ضروری نہیں، یہ بلاگ مصنف کی اپنی رائے پر مبنی ہے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *