دو روزہ ورلڈ اسلامک فائنانس فورم 2022 میں شرکت

تحریر: عبید الرحمٰن رؤفی

پچھلی بدھ کو آئی بی اے سیف کے ڈائریکٹر جناب احمد علی صدیقی صاحب کی طرف سے تیسری سالانہ دو روزہ ورلڈ اسلامک فائنانس فورم 2022 میں بطور مہمان شرکت کی دعوت ملی تو موضوع سے مناسبت اور کانفرنس کی اہمیت وافادیت کو دیکھ کر استفادے کی پرجوش حامی بھر لی۔

کانفرنس سے پہلے اتوار کی رات اگلے دو دنوں کی مصروفیات کو ادھر ادھر کرنے بیٹھا تو استفادے کا جذبہ ذرا ڈگمگانے لگا۔آئی بی اے میں راقم سے ایک کورس پڑھنے والی اور اب ملائیشیا سے اسلامک فائنانس کی تعلیم حاصل کرکے میزان بینک میں خدمات سر انجام دینے والی عیشہ سے مشورہ کیا تو وہ بولیں : سر ! ضرور آئیں،کانفرنس کی انتظامیہ میں میں بھی ہوں۔چنانچہ صدر کے قریب واقع شہر کے معروف ہوٹل موون پک میں دو دن کے علمی اعتکاف کا پکا تہیہ کر ہی لیا۔

مزید پڑھیں: پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں بڑھتے ہی ٹرانسپورٹ کرایوں میں بھی اضافہ

30 ،31 مئی 2022 کو موون پک ہوٹل میں” آئی بی اے سیف”،”لمز "،لاہور ،”انسیف” ،ملائیشیا اور حمد بن خلیفہ یونیورسٹی ،قطر کے باہمی اشتراک سے تیسری دو روزہ ورلڈ اسلامک فائنانس فورم منعقد ہوئی۔کانفرنس کا موضوع تھا:
"Development of Islamic finance Ecosystem for global prosperity”
یعنی عالمی خوشحالی کےلئے اسلامک فائنانس کے مجموعی نظام کی ترقی ۔

پیر کی صبح جامعہ بنوریہ عالمیہ میں دو سبق پڑھا کر اور تیسرے کی چھٹی لیکر دس بجے کانفرنس ہال میں داخل ہوا تو عیشہ اور آئی بی اے کے اسلامک بینکنگ اینڈ فائنانس ڈیپارٹمنٹ کے MS پروگرام کی ڈائیریکٹر محترمہ ڈاکٹر ارم صبا سامنے کھڑی دکھائی دیں۔ڈاکٹرصاحبہ کی خوش خلقی میں اللہ برکت دے ،میرے ساتھ رجسٹریشن ڈیسک پہ آئیں اور بولیں : یہ ہمارے بھائی ہیں ،انہیں خصوصی پروٹوکول دینا ہے۔

مزید پڑھیں: ٹرانسپورٹرز کیلئے ہڑتال اب ناگزیر ہو چکی ، اب سوچیں مت فیصلہ کریں، کیپٹن(ر)آصف محمود

راقم چونکہ اپنی مختلف مصروفیات کو ادھر ادھر کرکے استفادے کے پرجوش جذبے سے شریک ہوا تھا اس لئے پورے دو دن کوشش رہی کہ جتنا ہو سکے کچھ نا کچھ حاصل کیا جائے۔کانفرنس میں اسلامی مالیاتی نظام کے ملکی وغیر ملکی ماہرین،قانونی اداروں کے ذمہ داران ،تعلیمی اداروں اور انڈسٹری سے وابستہ ماہرین اور مختلف بینکوں اور تکافل کمپنیوں کے سربراہان نے اپنے خیالات کا اظہار کیا ۔

کانفرنس میں "اسلامی مالیاتی نظام کے مستقبل” ،”اسلامی مالیاتی نظام کا تعلیمی ماضی ،حال اور مستقبل”،”اسلامی مالیاتی نظام میں ٹیکنالوجی کا استعمال” اور "اسلامی مالیاتی نظام کو درپیش مختلف چیلنجز” سمیت دیگر اہم موضوعات پر ماہرین کی معلومات افزا اجتماعی گفتگو اور خطابات ہوئے۔کانفرنس کے دونوں دنوں کے ایک سیشن میں کچھ تحقیقی مقالات بھی پیش کئے گئے ۔

کانفرنس کے پہلے دن کے پہلے سیشن کے مہمان خصوصی شیخ الاسلام حضرت مفتی تقی عثمانی صاحب نے زوم پر اپنے خطاب میں سود کو آج کل کی معیشت کا ناسور اور اس سے بچاؤ کو صرف مسلمانوں کی ہی نہیں بلکہ انسانیت کی ضرورت قرار دیا ۔پہلے سیشن کے اختتام سے کچھ پہلے حضرت مفتی منیب الرحمٰن صاحب کا پرجوش درد مندانہ خطاب ہوا۔

آپ نے وفاقی شرعی عدالت کے سود سے متعلقہ حالیہ فیصلے کی تنفیذ میں مختلف اداروں کو اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے،اسلامی بینکاری کی ترقی میں علماء کی اجتماعیت ،اسلامی بینکاری کی ترقی میں حائل بعض ملکی قوانین کی اصلاح اور اسلامی بینکوں سے وابستہ افراد کی فکری تربیت پر زور دیا ۔انہوں نے چار پیسوں کی خاطر ادھر سے ادھر کی جمپنگ کو اسلامی بینکاری کی ترقی میں حائل ایک بڑی رکاوٹ قرار دیا ۔

مزید پڑھیں: سندھ، غیر قانونی ہائیڈرئنٹس کیخلاف آپرہچن ، 10 ہائیڈرنٹس مسمار

ویسے تو اس اہم کانفرنس سے بہت کچھ سیکھنے کو ملا، تاہم کانفرنس کے دوسرے روز کھانے کے وقفے کے بعد فیصل بینک کی اسلامی بینکنگ کے ہیڈ جناب فیصل شیخ کی ایمان افروز گفتگو نے بھرے پیٹ کی نیند کو تو بھگایا ہی ،اس کے ساتھ ان کے عین الیقین نے آنکھیں بھی نم کردیں۔

انہوں نے فیصل بینک کی سودی بینکاری کو چھوڑ کر اسلامی بینکاری کی طرف آنے کی کئی سالوں کی ایمان افروز کہانی سنائی۔کورونا کی وبا کے دوران ہزاروں اکاؤنٹ ہولڈروں سے ملاقاتوں کی صبر آزما جدوجہد کا والہانہ ذکر کیا۔فیصل شیخ بتا رہے تھے کہ جب ہم نے تبدیلی کا سفر شروع کیا تو لوگ کہتے تھے کہ یہ ناممکن ہے ۔ایسی کوئی مثال نہیں ملتی مگر ہم اپنے مشن کی تکمیل میں عین الیقین کی حد تک پہنچے ہوئے تھے ۔جب ان سے اس ناممکن دکھائی دئیے جانیوالے مشن کی تکمیل کے پیچھے کار فرما ذریعے کے بارے میں دریافت کیا گیا ۔

انہوں نے فضا میں شہادت کی انگلی لہرا کر بتایا کہ اس ناممکن تبدیلی کے پیچھے ایک ہی سبب کارفرما ہے۔وہ ہے نیت اور سچا جذبہ۔وہ یہ بھی بتا رہے تھے کہ اس سال جون کے وسط تک فیصل بینک مکمل اسلامی بینک کا روپ دھار لے گا اور یہ دنیا کا واحد اسلامی بینک ہوگا جو سود کے گرداب سے نکل کر اسلام کے عادلانہ مالیاتی نظام سے آراستہ ہوا۔

مزید پڑھیں: بھارت، کالج کیمپس میں نماز کیوں پڑھی؟

فیصل شیخ کی گفتگو کے اختتام پر تالیوں کی گونج میں انہیں "بابائے تبدیلی ” کا لقب دیا گیا۔کانفرنس کے پہلے سیشن میں فیصل بینک کے سربراہ یوسف حسین بتارہے تھے کہ میزان کے بعد فیصل بینک دوسرا بڑا اسلامی بینک ہوگا۔

کانفرنس کے آخری سیشن میں اسٹیٹ بینک کے گورنر اور وزیر خزانہ جناب مفتاح اسمعیل کے بھی اسلامی بینکاری کے حوالے سے حوصلہ افزا خطابات ہوئے۔

کانفرنس میں ہمارے مخدوم حضرت مفتی ارشاد احمد اعجاز صاحب کی بھی نپی تلی معتدل لب کشائی سننے کو ملی۔کانفرنس میں اسلامی مالیاتی نظام تعلیم کے حوالے سے جب پینل ڈسکشن جاری تھی تو اس بارے میں اپنی دینی جامعات کے نصاب ونظام کی درماندگی کا مجھے بڑا احساس ہو رہا تھا۔حقیقت یہ ہیکہ ایک دو جامعات کو چھوڑ کر آپ ملک کی کسی بھی دینی جامعہ چلے جائیں اور دورہ حدیث کے طالب علم سے اس موضوع کے بارے میں استفسار کریں تو شاید ننانوے فیصد طلبہ آپ کا منہ ہی تکتے رہ جائیں گے ۔

مزید پڑھیں: حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں 30 روپے اضافہ کردیا، تاریخ میں پہلی بار 200 سے اوپر چلا گیا

کانفرنس کے کچھ مقالات ،خطابات اور تبصروں سے لگا کہ سالہا سال سے اس میدان میں کام کرنے والے بھی خود کو کھپانے کے بجائے خالی توکل کے سہارے ہی دنیا میں اسلامی معاشی انقلاب کے خواہاں ہیں ۔کانفرنس کے بعض مواقع میں مطلوبہ گہرے غور وفکر اور ٹھوس تحقیقی مزاج کی مہک کے بجائے سطحیت کا پھیکا پن منہ چڑاتا دکھائی دیا۔

کانفرنس کی ساری کاروائی انگریزی میں تھی۔بلا کسی طرف داری کے یکسوئی سے اس بارے میں سوچا تو لگا کہ "مجمع” نے جو اپنے نصاب میں خامسہ تک انگریزی کو نصاب کا حصہ بنایا ہے ،یہ بالکل صحیح کیا ہے۔اس کانفرنس کے انعقاد میں کسی بھی طرح کا حصہ ڈالنے والے بلا شبہ لائق تحسین وقابل تبریک ہیں۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *