ٹرانسپورٹرز کیلئے ہڑتال اب ناگزیر ہو چکی ، اب سوچیں مت فیصلہ کریں، کیپٹن(ر)آصف محمود

کراچی: () چیئرمین سپریم کونسل آف آل پاکستان ٹرانسپورٹرز کیپٹن (ر) آصف محمود کی سربراہی میں اجلاس منعقد ہوا ۔ اجلاس میں ڈیزل کی قیمتوں میں حالیہ ہوشربا اضافہ اور دیگر ٹرانسپورٹ تنظیموں کی جانب سے اس اضا فے پر ردِّ عمل کا جائزہ لیا گیا۔

اجلاس میں جنرل سیکریٹری محمد حنیف خان مروت، حاجی عبدالرّؤف خان نیازی، دلاور خان نیازی، مراد خان درّانی، اقبال شاہ زئی، اختر سعید خان و دیگر عہدیداران نے شرکت کی۔

مزید پڑھیں: سندھ، غیر قانونی ہائیڈرئنٹس کیخلاف آپرہچن ، 10 ہائیڈرنٹس مسمار

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیپٹن (ر) آصف محمود کا کہنا تھا کہ ڈیزل کی قیمتوں میں حالیہ ہو شربا اضافہ ٹرانسپورٹرز کے کاروبار کو بالکل تباہ و برباد کرنے کے مترادف ہے۔ ٹرانسپورٹ کے کاروبار سے وابستہ لاکھوں افراد جو پہلے ہی مہنگے اسپیئر پارٹس ، ٹائرز پر ہیوی ڈیوٹی ،ایکسائز اورکسٹم ڈیوٹیز ،ٹال ٹیکسز، روٹ پرمٹس ، ہیوی جرمانوں اور دیگر مختلف ٹیکسز کے بوجھ تلے دب کر تباہ ہو چکے ہیں، اب ڈیزل کی قیمتوں میں 30 روپے اضافے کی صورت میں جوایٹم بم گرا دیا گیا ہے اس سے باقی ماندہ ٹرانسپورٹرز بھی سڑکوں پر آجائیں گے۔

چیئرمین سپریم کونسل کیپٹن (ر) آصف محمود نے کراچی گڈز کیریئرز ایسوسی ایشن، سندھ گڈز ٹرک ٹرالرز اورنرز ایسوسی ایشن، پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ الائنس اور ٹرانسپورٹ سے وابستہ تمام تنظیموں اور ایسوسی ایشنز سے پُرزور اپیل کی ہے کہ اس صورتحال میں سوائے ملک گیر ہڑتال کے اور کوئی دو رائے نہیں ہو سکتی۔

گزشتہ چند سال میں بے شمار ٹرانسپورٹرز اور ٹرک/ ٹریلر مالکان ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے اور مہنگائی کی وجہ سے کروڑوں کےمقروض ہو چکے ہیں۔ اس مشکل وقت میں ہڑتال کا فیصلہ نہ کرنا اور حکومت ِ وقت سے ٹرانسپورٹ کے شعبے کیلئے ریلیف حاصل نہ کرنا پورے پاکستان کے ٹرانسپورٹرز کے ساتھ منافقت اور دشمنی کے مترادرف ہوگا۔

مزید پڑھیں: بھارت، کالج کیمپس میں نماز کیوں پڑھی؟

ہمیں ہر حال میں حکومت کو باور کرانا ہوگا کہ اب آپکو ٹرانسپورٹ کے شعبے کواہمیت دینا ہوگی۔ کہا جاتا ہے کہ ماضی کی حکومت اور وزیرِ تجارت انڈسٹریل طبقے کو فیور کر تے تھے اس لئے ایکسل ویٹ نافذ نہ ہو سکا، لیکن مجھے بتایا جائے کہ اب ایکسل ویٹ کے نفاذ میں کیا چیز رکاوٹ ہے؟ اگر اب بھی ٹرانسپورٹرز کی نمائندہ تنظیموں کی جانب سے فی الفور ہڑتال سے اپنےمطالبات نہ منوائے گئےتو یہ ٹرانسپورٹرز کے ساتھ غدّاری کے مترادف ہوگا۔

میری اپیل ہے کہ 5 سے 10 دن کے الٹی میٹم کے ساتھ ہڑتال کا اعلان کیا جائے لیکن یہ ہڑتال گزشتہ روایتی ہڑتالوں کی طرح محض میڈیا پر آگے آنے اور پبلسٹی کیلئے نہ ہو ۔حکومت کے سامنے تمام ٹرانسپورٹ تنظیموں کا یکساں مؤقف پیش کیا جائے اور اتحاد اور اتفاق کے ساتھ اپنے مطالبات منوائے جائیں اور ہڑتال کو ختم کرنے کا فیصلہ بھی کسی ایک تنظیم کا نہ ہو بلکہ تمام تنظیموں کا مشترکہ ہو، وگرنہ ماضی کی طرح حکومت ہم میں سے کسی کو اپنے ساتھ ملا کر ہڑتال کو سبوتاژ کر دےگی اور اس تلخ حقیقت کے گواہ ہم سب ہیں۔

مزید پڑھیں: حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں 30 روپے اضافہ کردیا، تاریخ میں پہلی بار 200 سے اوپر چلا گیا

آج کے حالات اس چیز کا مطالبہ کرتے ہیں کہ ہم اپنی اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد نہ بنائیں بلکہ یکجان اور یک زبان ہو کر ہر طرح کے عہدوں،لیڈر شپ اور تنظیموں سے بالا تر ہو کر برادری کی خاطر قربانی دیں اور ٹرانسپورٹ کے شعبے کو بربادی سے بچا ئیں۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *