سعود آباد اسپتال : کرپشن کے باوجود دواؤں کی خریداری کیلئے کروڑوں جاری

رپورٹ : (بابرعلی اعوان )سندھ گورنمنٹ اسپتال سعود آباد کو ادویات کے بجٹ میں کروڑوں کی مبینہ خرد برد کے بعد مذید ادویات خریدنے کے لئے ساڑھے 5 کروڑ روپے جاری کر دیئے گئے ہیں جبکہ خرد برد پر تین اداروں کی جانب سے تحقیقات کے دوران مذید 2 کروڑ کی ادویات کی خریداری کر لی گئی ہے جس نے تحقیقاتی اداروں کی کارکردگی پر سوال اٹھا دیئے ہیں۔

یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ جب کسی خرد برد پر تحقیقات جاری ہوں تو اس انتظامی سربراہ کو ہٹادیا جاتا ہے جبکہ مذید خریداری کے عمل کو روک دیا جاتا ہے اور تحقیقات مکمل کی جاتی ہیں اگر کچھ ثابت ہو تو کاروائی کی جاتی ہے بصورت دیگر انتظامی سربراہ کو واپس بحال کر دیا جاتا ہے اور خریداری کی اجازت دی جاتی ہے لیکن سعود آباد اسپتال کے معاملے میں ایسا نہیں کیا گیا ۔

مزید پڑھیں: کھلابٹ ، کھلی کچہری کا انعقاد ، عوام نے مسائل کے انبار لگا دیئے

اس ضمن میں صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو کا کہنا تھا کہ مریضوں کے دباؤ کی وجہ سے صحت کے کچھ اداروں نے اضافی گرانٹ طلب کی تھی۔ اسپتال کے ڈی ڈی اوز کی جانب سے درخواست ملنے اور گرانٹ منظوری ہونے کے بعد تمام رسمی کاروائی پوری کی جاتی ہے ۔ ان کا مذید کہنا تھا کہ اس معاملے پر تین ادارے تحقیقات کر رہے ہیں جن میں محکمہ صحت کا پی ایم اینڈ آئی ونگ، وزیر اعلیٰ سندھ کی انسپیکشن، انکوائریز اینڈ امپلی مینٹیشن ٹیم ڈیپارٹمنٹ اور اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ ایسٹ زون شامل ہیں۔

ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو سے ان کی ترجمان مہر خورشید کے ذریعے تحریری طور پر موقف طلب کیا گیا تھا جب ان سے خریداری کے عمل کو روکنے پر سوال کیا گیا تو انہوں نے کوئی جواب نہ دیا۔ بعد ازاں ان کا کہنا تھا کہ محکمہ صحت سے پوچھا ہے اضافی گرانٹ جاری نہیں کی گئی ۔

مزید پڑھیں: پاک بحریہ کے اہلکاروں کو عسکری اعزازت کی تفویض

واضح رہے کہ اسپتال میں رواں مالی سال (جولائی 2021 سے فروری 2022 تک) کے 8 ماہ کے دوران 2 کروڑ 25 لاکھ 35 ہزار 465 روپے کی ادویات خریدی گئیں جو اوسطاً ماہانہ 28 لاکھ روپے کی بنتی ہیں تاہم مالی سال کے 9ویں مہینے (مارچ ) میں 4 کروڑ 91 لاکھ 62 ہزار 112 روپے کی ادویات خریدی گئیں۔ مبینہ طور پر چند لاکھ کی ادویات منگوا کر کروڑوں کی بلنگ کر دی گئی جس کی تحقیقات جاری تھیں کہ عین تحقیقات کے دوران انتظامیہ نے 10ویں مہینے اپریل میں 1 کروڑ 20 لاکھ 64 ہزار 245 روپے اور مئی میں 84 لاکھ 74 ہزار 612 روپے کی مذید ادویات کی بلنگ کر دی۔

اسی پر اکتفا نہیں کیا گیا بلکہ اسپتال انتظامیہ نے محکمہ صحت سندھ سے ساز باز کرکے محکمہ خزانہ سے ادویات کے بجٹ میں مذید 5 کروڑ 65 لاکھ روپے ریوائزڈ بجٹ/ایڈیشنل گرانٹ کے نام پر حاصل کرلئے حالانکہ ادویات کے بجٹ میں پہلے سے 3 کروڑ 25 لاکھ 79 ہزار 423 روپے باقی تھے۔ جو مالی سال کے تین مہینوں کے استعمال کے لئے کافی تھے لیکن پھر بھی اضافی کروڑوں روپے جاری کیے گئے۔

مزید پڑھیں: جے یو آئی نے یوسی 2اتحادٹاﺅن کیلئے بلدیاتی پینل تشکیل دے دیا، مولانا فخرالدین رازی

اب بجٹ آنے اور مذید خریداری کے بعد بھی اسپتال میں ادویات کے بجٹ میں 6 کروڑ 85 لاکھ 40 ہزار 566 روپے باقی ہیں۔ ذرائع کے مطابق ان پیسوں کو مالی سال کے بل جمع کرانے کی آخری تاریخ 15 جون تک استعمال کر لیا جائے گا۔

دوسری جانب ڈیڑھ ماہ گزرنے کے باوجود وزیر اعلیٰ سندھ کی انسپیکشن، انکوائریز اینڈ امپلی مینٹیشن ٹیم ڈیپارٹمنٹ ، محکمہ صحت کا پی ایم اینڈ آئی ونگ اور اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ ایسٹ زون تحقیقات مکمل نہیں کر سکے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *