کراچی، نجی اسٹور میں آتش زدگی کا معملہ ، آگ کیوں لگی حقیقت سامنے آگئی

کراچی: () تفصیلات کے مطابق جیل چورنگی کے قریب نجی اسٹورمیں لگنے والی آگ سے متعلق سندھ ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی گئی۔ جس کی سماعت سندھ ہائی کورٹ کے دو رکنی بینچ نے کی۔ درخواست میں عدالت کے سامنے مؤقف پیش کیا گیا کہ نجی اسٹور نے عمارت کی پارکنگ کو بطور گودام استعمال کررکھا تھا۔

وکیل درخواست گزار نے مؤقف پیش کیا کہ یس بی سی اے نے بھی عمارت کی پارکنگ کو بطورگودام استعمال کرنے پرخاموشی اختیارکی۔ درخواست گزارایڈوکیٹ سارہ کنول اورایڈوکیٹ محمد شاہد نے عدالت کے سامنے مؤقف پیش کیا کہ پارکنگ کو گودام کے طورپراستعمال کرنا غیر قانونی ہے۔ درخواست پرعملدرآمد ہوتا تو شاید یہ آگ ہی نہ لگتی۔

مزید پڑھیں: اسلام آباد ، آرپاٹیک کے دفتر کا افتتاح، تازہ ہوا کا جھونکا ہے، بریگیڈیئر طارق رفیق

درخواست میں کہا گیا کہ پارکنگ کو گودام کے طور پر استعمال کرنے سے بلڈنگ کی بنیاد بھی خطرناک ہوچکی ہیں۔ آگ لگنے کے باعث ایک شخص جھلس کر جاں بحق اورمتعدد لوگ زخمی ہوئے۔

وکیل محمد شاہد نے کہا کہ سپریم کورٹ نے بھی غیرقانونی تعمیرات اور تجاوزات روکنے کا حکم دے رکھا ہے۔ آگ لگنے کے بعد عمارت کو مخدوش قرار دے دیا ہے۔ جب کہ اطراف کی عمارتوں کو خالی کرنے کا کہا ہے رہائشیوں کے لئے ایسی صورتحال میں کیا بنیگا۔

عدالت نے درخواست گزار این جی او کے ممبران سے کوائف طلب کرکے انتظامیہ کو بغیر کسی نوٹس جاری کیے سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کردی۔

مزید پڑھیں: ایشیا کپ ہاکی ٹورنامنٹ جنوبی کوریا نے جیت لیا

کراچی کے علاقے جیل چورنگی پر نجی ڈیپارٹمنٹل اسٹور میں گزشتہ روز لگنے والی آگ پر بالآخر کئی گھنٹوں بعد قابو پالیا گیا ہے۔ کے ایم سی فائر بریگیڈ کے چیف افسر مبین احمد چیف فائر کے مطابق جیل چورنگی کے قریب کثیر المنزلہ عمارت میں ڈپارٹمنٹل اسٹور کے تہہ خانے میں بھڑک اٹھنے والی آگ پر ایک درجن سے زائد فائر ٹینڈرز کی مدد سے قابو پایا گیا تاہم کولنگ کا عمل ابھی جاری ہے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *