نئی حلقہ بندیاں: کس صوبے میں کتنی نشستیں؟

فارن فنڈنگ کیس

الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) کی جانب سے ابتدائی حلقہ بندیاں جاری کردی گئیں، جس کے مطابق قومی اسمبلی کی نشستیں 342 سے کم ہو کر336 ہوگئیں۔قومی اسمبلی میں جنرل نشستوں کی تعداد 266 جبکہ خواتین کی نشستیں 60 ہوں گی۔ ایوانِ زیریں میں اقلیتوں کی مخصوص نشستیں 10 ہوں گی۔پنجاب سے قومی اسمبلی کی جنرل نشستیں 141 ہوں گی،سندھ سے قومی اسمبلی کی جنرل نشستیں 61 ہوں گی۔

خیبر پختونخوا سے قومی اسمبلی کی جنرل نشستیں 45 ہوں گی، بلوچستان سے قومی اسمبلی کی جنرل نشستیں 16 ہوں گی جبکہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سے 3 ہوں گی۔قومی اسمبلی کی نشستوں میں ردوبدلبلوچستان میں قومی اسمبلی کی جنرل نشستوں کی تعداد 14 سے بڑھا کر 16 کردی گئیں، خیبر پختونخوا میں 35 سے بڑھ کر 45 ہوگئیں۔

مزید پڑھیں: آل پاکستان تنولی اتحاد کی مرکزی باڈی کا 14 اگست کو تنظیم نو کا اعلان

پنجاب کی 148 سے کم ہو کر 141 ہوگئیں۔سندھ کی 61 نشستیں برقرار ہیں، وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی ایک نشست بڑھ کر مجموعی تعداد 3 ہوگئی جبکہ سابقہ فاٹا کی 12 نشستیں ختم کردی گئیں۔صوبائی اسمبلیوں کی نشستیںصوبائی اسمبلیوں میں بلوچستان اسمبلی کی جنرل نشستیں 51 جبکہ مجموعی نشستیں 65 ہوں گی۔خیبر پختونخوا اسمبلی میں جنرل نشستیں 115 جبکہمجموعی نشستیں 145 ہوں گی۔پنجاب اسمبلی میں جنرل نشستیں 297 جبکہ مجموعی نشستیں 371 ہوں گی۔ سندھ اسمبلی میں جنرل نشستیں 130 جبکہ مجموعی نشستیں 168 ہوں گی۔

آبادی کے حساب سے حلقہ بندی
قومی اسمبلی:

اسلام آباد میں قومی اسمبلی کا ایک حلقہ 6 لاکھ 67 ہزار 789 ووٹرز پر مشتمل ہو گا۔پنجاب میں قومی اسمبلی کا ایک حلقہ 7 لاکھ 80 ہزار 69 ووٹرز پر مشتمل ہوگا۔سندھ میں قومی اسمبلی کا ایک حلقہ 7 لاکھ 84 ہزار 500 ووٹرز پر مشتمل ہوگا۔
خیبر پختونخوا میں قومی اسمبلی کا ایک حلقہ 7 لاکھ 88 ہزار 933 ووٹرز پر مشتمل ہوگا۔بلوچستان میں قومی اسمبلی کا ایک حلقہ 7 لاکھ 70 ہزار 946 ووٹرز پر مشتمل ہوگا۔

مزید پڑھیں: سندھ میں مزدور کی 25 ہزار روپے اجرت کے اعلان پر عملدرآمد نظر نہیں آتا۔ سول سوسائٹی

صوبائی اسمبلیاں:
پنجاب اسمبلی کا ایک حلقہ 3 لاکھ 70 ہزار 336 ووٹرز اور سندھ اسمبلی کا ایک حلقہ 3 لاکھ 68 ہزار 112 ووٹرز پر مشتمل ہوگا۔خیبر پختونخوا اسمبلی کا ایک حلقہ 3 لاکھ 8 ہزار 713 ووٹرز جبکہ بلوچستان اسمبلی کا ایک حلقہ 2 لاکھ 41 ہزار 864 ووٹرز پر مشتمل ہوگا۔

حلقہ بندی میں تبدیلیاں:نئی حلقہ بندیوں میں فاٹا کے قومی اسمبلی کے 12 حلقے ختم کر کے ان پر 6 حلقے بنائے گئے ہیں جو خیبر پختون خوا میں شامل کردیے گئے۔قومی اسمبلی کا پہلا حلقہ این اے 1 چترال ہوگا، خیبر پختون خوا میں این اے 1 سے لے کر این اے 45 تک حلقے ہوں گے۔اسلام آباد میں این اے 46 سے لے کر این اے 48 تک قومی اسمبلی کے حلقے ہوں گے۔پنجاب کا پہلا حلقہ این اے 49 اٹک ہوگا، جبکہ اس نمبر سے این اے 189 راجن پور تک ہوں گے۔سندھ کا پہلا حلقہ این اے 190 جیک آباد جبکہ آخری حلقہ این اے 250 کراچی ہوگا۔بلوچستان کا پہلا حلقہ این اے 251 اور آخری حلقہ این اے 266 ہوگا۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *