سندھ میں مزدور کی 25 ہزار روپے اجرت کے اعلان پر عملدرآمد نظر نہیں آتا۔ سول سوسائٹی

سندھ میں مزدور کی 25 ہزار روپے اجرت کے اعلان پر عملدرآمد نظر نہیں آتا۔ سول سوسائٹی

کراچی: سندھ میں مزدوروں کے حالات کار و اوقات کار کی مسلسل بگڑتی ہوئی صورت حال اور مزدور حقوق کے تحفظ کے اداروں کے مزدور دشمن طرز عمل سے متعلق سول سوسائٹی اور مزدور رہنماؤں نے ایک اہم پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ 25 ہزار روپے اجرت کے اعلان پر عملدرآمد کرایا جائے۔

پریس کانفرنس میں کیے گیے مطالبات کی روشنی میں رواں ہفتے سندھ کی تمام نمائندہ مزدور تنظیموں کا ہنگامی اجلاس طلب کیا جارہا ہے، جس میں باہمی مشاورت سے آئندہ کے لائحہ عمل اور راست اقدامات کا اعلان کیا جائے گا۔

اس پریس کانفرنس کی توسط سے ہم سندھ کے عوام کو آگاہ کرنا چاہتے ہیں کہ سندھ حکومت لیبر قوانین پر عمل درآمد کروانے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔ سندھ کے صنعتی، مالیاتی اور دیگر اداروں میں مزدور اپنے بنیادی حقوق سے محروم ہیں۔

سندھ کا لیبر ڈپارٹمنٹ فرائض کی ادائیگی سے مجرمانہ حد تک پہلو تہی برت رہا ہے۔ داد رسی کےلیے لیبر ڈیپارٹمنٹ سے رابطہ کرنے والے متاثرہ مزدوروں کو حق دلانے کی بجائے خوف زدہ کیا جاتا ہے. یہ ادارہ مکمل طور پر رشوت ستانی کی آماج گاہ بن گیا ہے جہاں مزدوروں کے حقوق اور آواز کو دبایا جاتا ہے ۔

لیبر ڈپارٹنمنٹ مزدوروں کے حقوق کا تحفظ کرنے کی بجائے فیکٹری مالکان کا نمائندہ اور ترجمان بنا ہوا ہے۔ یونین سازی کو شجرِ ممنوعہ بنا دیا گیا ہے۔ لیبر ڈیپارٹمنٹ نئی رجسٹرڈ ہونے والی یونینز کے اعداد وشمار شایع کرنے سے مسلسل انکار کر رہا ہے جو اس کی نااہلی اور مزدور دشمنی کا کھلا ثبوت ہے۔ لیبر ڈپارٹمنٹ کے دفاتر ان علاقوں میں قائم کیے گئے ہیں جہاں تک مزدوروں کا پہنچنا تقریبا نا ممکن ہے جس کے نتیجے میں مزدور کسی بھی قسم کی داد رسی سے محروم ہیں۔

سندھ وہ صوبہ تھا جس نے مزدور قوانین میں قابل تحسین بہتری لائی ہے لیکن یہ بھیانک حقیقت ہے کہ ان پر عمل درآمد نہ ہونے کے برابر ہے۔ سندھ واحد صوبہ ہے جہاں سہہ فریقی لیبر کانفرنس کا انعقاد کیا گیا اور سندھ لیبر اسٹینڈنگ کمیٹی تشکیل پائی جو کہ مزدوروں سے متعلقہ تمام امور پر حکومت کو معاونت کرے گی لیکن تین سال گزرنے کے باوجود اس کمیٹی کو عضو معطل بنا کر رکھ دیا گیا ہے اور اسے کام کرنے سے مسلسل روکا جا رہا ہے۔

یہی دگرگوں صورت حال سندھ سوشل سیکورٹی انسٹیٹوٹ ( سیسی) کی بھی ہے۔ عرصہ ہوا بے نظیر مزدور کارڈ کے اجرا کے اعلان کے باوجود ابھی تک مزدوروں کو نہ تو کارڈز دیئے جا رہیں ہیں اور نہ ہی کمپوٹرائز طریقہ کار کا اجراء کیا گیا ہے. لاکھوں محنت کش نئے اود پرانے طریقہ کار کی چکی میں پس رہے ہیں اور سیسسی کے افسران دن دگنی اور رات چوگنی ترقی کر رہے ہیں، بدعنوانی کی ہوش ربا اسکینڈلز زبان زدِ عام ہیں۔

سوشل سیکورٹی کے زیرِ انتظام صوبہ کے تمام اسپتال عموماً جب کہ ویلکا اور لانڈھی اسپتال خصوصاً مزدوروں کے لیے مذبح خانہ بنے ہوئے ہیں۔ مضر صحت اور جعلی ادویات کھلے عام دے کر مزدوروں کی زندگیوں سے کھیلا جا رہا ہے جبکہ اسپتالوں میں صحت و صفائی کے ناقص انتظامات مریضوں کے لیے خطرہ کا باعث بنے ہوئے ہیں۔ مزدوروں کے علاج معالجہ کے لیے جمع کرائی جانے والی خطیر افسران اور ان کے پشتی بانوں کی جیبوں میں جا رہی ہے۔

سندھ حکومت نے دو سال پہلے صوبہ میں ہر شہری کو صحت کی سہولت فراہم کرنے کے لیے ” یونی ورسل ہیلتھ اسکیم” کا فیصلہ کیا تھا اور اس کے لیے رقم بھی مختص کی تھی لیکن نوکر شاہی اور ان کے پشت پناہی کرنے والوں نے اس عوام دوست، مزدور دوست منصوبہ کو ذاتی مفادات کی بھینٹ چڑھا کر ناکام بنا دیا۔

مزدوروں کی فلاح و بہبود کے لیے جاری ورکرز ویلفئیر بورڈ کی تمام اسکیمز جن میں تعلیمی وظائف بھی شامل ہیں کا حصول رشوت دیئے بغِیر ممکن ہی نہیں۔ اور اس ادارے کے اہل کار ڈنکے کی چوٹ پر ہرچھوٹے بڑے جائز کام کے لیے مزدوروں سے رشوت طلب کرتے ہیں۔

گلشن معمار میں موجود مزدوروں کے لیے تعمیر کیے گیے فلیٹس کی حالت نہایت ہی مخدوش ہے جہاں بجلی، پانی اور گیس جیسی بنیادی سہولیات موجود نہیں ہیں۔ ان فلیٹس کے الاٹیز ہزاروں مزدور خان دان عرصہ دراز سے سراپا احتجاج ہیں لیکن ان کی فریاد کہیں بھی نہیں سنی جار ہی ہے۔

سندھ وہ صوبہ تھا جس نے غیر ہنر مند ورکر کے لیے 2021ء میں سب سے پہلے پچیس ہزار روپے کم از کم اجرت کا اعلان کیا تھا جسے سندھ ہائی کورٹ نے بھی اپنے فیصلے میں برقرار رکھا تھا۔ ہائی کورٹ کے فیصلہ کے خلاف مالکان نے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی تھی۔ سپریم کورٹ نے فیصلہ صادر کرتے ہوئے سندھ مینیمم ویج بورڈ کو پابند کیا تھا کہ وہ دو ماہ میں اجرتوں کا تعین کرے۔

لیکن بدقسمتی یہ ہے کہ سندھ مینیمم ویج بورڈ کے سرکاری اہل کار سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق اجرتوں کے تعیںن کی راہ میں مسلسل روڑےاٹکا رہے ہیں جو کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کی کھلی خلاف ورزی اور توہین عدالت کے زمرے آتا ہے۔ بدقسمتی سے یہ اس وقت میں ہو رہا ہے جب وفاق اور دیگر تین صوبے پچیس ہزار روپے ماہانہ اجرت کا اعلان کر چکے ہیں۔ سندھ جس نے سب سے پہلے اجرتیں بڑھانے کا اعلان کیا تھا میں مزدور پچیس ہزار اجرت کے اعلان اور اس پر عمل درآمد کے منتظر ہیں۔

حکومت سندھ کا ایک کارنامہ سندھ ہوم بیسڈ ورکرز ایکٹ تھا اور اس ایکٹ کے تحت لاکھوں ہوم بیسڈورکرز کو لیبر ڈپارٹنمنٹ نے رجسٹرڈ کرنا تھا لیکن لیبر ڈپارٹمنٹ اور اس کے اہلکار اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے سے مسلسل انکار کر رہے ہیں ۔ حال آنکہ بین الاقوامی اداروں اور ہوم بسیڈ وومن ورکرز فیڈریشن نے لیبر ڈیپارٹمنٹ کو ضروری آلات بھی مہیا کر دیئے ہیں اور رجسٹریشن کے عمل میں مددگار بنے ہوےَ ہیں لیکن لیبر ڈیپارٹمینٹ کے آفسران رجسٹریشن کے تاریخی عمل کو ہر صورت ناکام بنانے پر تُلے ہوئے ہیں۔

یہی صورتِ حال زرعی اور فشریز کے وررکز کو قانونی حق دینے سے متعلق ہے۔ ذراعت و ماہی گیروں سے متعلق مزدوروں کو سندھ انڈسٹریل ریلیشن ایکٹ 2014 کے تحت مزدور تو تسلیم کر لیا ہے گیا تھا لیکن سوشل سیکیورٹی اور دیگر اداروں سے رجسٹریشن سے متعلق کوِئی پیش رفت کی گئ اور نہ ہی رولز بنانے کی جانب پیش رفت کی گئی ہے جو قانون کی رو سے ضروری ہے۔

قانوناً ٹھیکیداری نظام غیر قانونی ہے اور سپریم کورٹ اس بارے میں واضح احکامات جاری کرچکی ہے لیکن پورے سندھ میں لیبر دیپارٹمینٹ کے ناک کے نیچے محنت کش غیر قانونی ٹھیکیداری نظام کے تحت کام کرنے پر مجبور ہیں یہاں تک کہ حکومتی اداروں میں بھی ٹھیکہ داری نظام کے تحت بھرتیاں جاری ہیں۔

حکومتِ سندھ نے اپنے سینئر وزراء کے توسط سے اسٹیل ملز کی بحالی اور اسٹیل ملازمین کے مسائل حل کرنے کی یقین دہانی کروائی تھی لیکن اس سلسلے میں کوئی بھی وعدہ ایفا نہیں ہوا۔

حکومتِ سندھ نے مالکان اور صنعت کاروں کے وفود سے ملاقاتوں کا سلسلہ شروع کیا ہوا ہے اور انہیں خوش کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جارہی ہےلیکن ان سرمایہ داروں کے معاشی جبر کے شکار ورکرز سے بات کرنا اور ان کی مسائل سننا حکومتی ایجنڈہ میں شامل نہیں۔

ہم سندھ کے محنت کشوں کی جانب سے حکومت سندھ اور خصوصاّ چیرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو سے مطالبہ ہے کے مزدوروں کے حقوق پر ہونے والے مسلسل حملوں کو روکنے کے لیے ضروری اقدامات کئے جائیں۔

مینیمم ویج بورڈ کے اجلاس میں کم از کم اجرت پچیس ہزار مقرر کرنے کا فی الفور فیصلہ کیا جائےاور نئے بورڈ کی تشکیل کے لیے قوائد کے مطابق طریقہ کار اپنایا جائے۔

سوشل سیکیورٹی، ورکرز ویلفیئر بورڈ جیسے تمام اداروں کا فرائزک اور انتظامی آڈٹ کروایا جائے تاکہ ان اداروں میں پھیلی ہوئی بدعنوانی، لاقانونیت اور بد انتظامی کو روکا جا سکے۔ یونی ورسلائزیشن آف سوشل سیکورٹی کے عوام دوست منصوبہ پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے۔ ٹھیکیداری نظام کے خاتمے کے لیے راست اقدامات کئے جائیں۔

ورکرز ویلفئیر بورڈ کے تعمیر شدہ فلیٹ کو رہائش کے قابل بنانے کے لیے ضروری اقدامات کیے جائے. بجلی، پانی اور گیس کی سہولیات فی الفور فراہم کی جائیں۔

ہوم بیسڈ ورکرز ایکٹ کے تحت کونسل کی تشکیل جلد از جلد کی جائے۔ ہوم بیسڈ کی گورننگ بورڈ کو فعال بنایا جائے اور ہوم بیسڈ ورکرز کی رجسٹریشن کے عمل کو یقینی بنایا جائے۔ رجسٹریشن کی راہ میں رکاوٹ بنے والے لیبر آفسران کی سرزنش کی جائے۔

زرعی مزدور اور ماہی گیرون کو قانون کے مطابق حقوق فراہم کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جائیں اور ان کے لیے رولز کا فوری اجراء کیا جائے تاکہ ان مزدوروں کو بھی قانون کے مطابق فوائد حاصل ہو سکیں۔ اسٹیل ملز کی بحالی اور اس کے ۔ملازمین سے کیے گیے وعدوں پر عملاً فوری اقدامات کیے جائیں۔

لیبر ڈیپارٹمنٹ کے ذیلی دفاتر ان علاقوں میں قائم کیے جائیں جہان تک عام مزدور کی پہنچ آسانی سے ہو۔ پریس کانفرس میں NTUF کے جنرل سیکرٹری ناصر منصور، فاٸیلر کے کرامت علی، ویمن فیڈریشن کے زہرہ اکبرخان، مینوویج بورڈ کے ممبر اور لیبر لیڈر لیاقت علی ساہی، NTUF سندھ کے جنرل سیکرٹری ریاض عباسی اور سایٹ لیبر فورم کے جنرل سیکرٹری بخت زمین خان شریک تھے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *