نیب قوانین میں ترامیم کا بل بھی منظور


قومی اسمبلی اجلاس میں احتساب بیورو آرڈیننس 1999میں ترمیم کا بل کثرت رائے سے منظور کر لیا۔ترامیم کے مطابق نیب گرفتار شدگان کو 24 گھنٹوں میں نیب کورٹ میں پیش کرنے پابند ہوگا، کیس دائر ہونے کے ساتھ ہی گرفتاری نہیں ہوسکے گی۔

بل کے مطابق اپیل کا حق 10کی بجائے 30 روز کر دیا گیا ، نیب گرفتاری سے پہلے ثبوت کو یقینی بنانے گا، نیب چھ ماہ میں انکوائری کا آغاز کرنے کا پابند ہے۔

مزید پڑھیں: کراچی، سرکاری محکموں میں بدعنوانی کی دوڑ جاری

ریفرنس دائر ہونے سے قبل نیب افسر میڈیا میں کوئی بیان نہیں دے گا ریفرنس دائر ہونے سے قبل بیان دینے پر متعلقہ نیب افسر کو ایک سال تک قید اور 10 لاکھ تک جرمانہ ہو سکے گا، کسی کے خلاف کیس جھوٹا ثابت ہونے پر ذمہ دار شخص کو 5 سال تک قید کی سزا ہو گی۔نیب قانون میں ترمیم کرکے ریمانڈ 90 دن سے کم کرکے 14 دن کر دیا گیا، وفاقی یا صوبائی ٹیکس معاملات نیب کے دائرہ اختیار سے نکال دیے گئے۔

بل میں چیئرمین نیب کی ریٹائرمنٹ کے بعد کا طریقہ کار وضع کر دیا گیا چیئرمین نیب کی ریٹائرمنٹ پر ڈپٹی چیئرمین قائم مقام سربراہ ہوں گے، جبکہ ڈپٹی چیئرمین کی عدم موجودگی میں ادارے کے کسی بھی سینئر افسر کو قائم مقام چیئرمین کا چارج ملے گا۔احتساب عدالتوں میں ججز کی تعیناتی 3 سال کے لیے ہوگی۔

مزید پڑھیں: خاتون ٹیچر نے اپنی کار طلبا پر چڑھا دی، متعدد طلبا زخمی ـ

احتساب عدالت کے جج کو ہٹانے کے لیے متعلق ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سے مشاورت ضروری ہوگی،نئے چیئرمین نیب کے تقرر کے لیے مشاورت کا عمل 2 ماہ پہلے شروع کیا جائے گا، نئے چیئرمین نیب کے تقرر کے لیے مشاورت کا عمل 40 روز میں مکمل ہوگا۔

وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر میں اتفاق رائے نہ ہونے پر تقرر کا معاملہ پارلیمانی کمیٹی کو جائے گا، پارلیمانی کمیٹی چیئرمین نیب کا نام 30 روز میں فائنل کرے گی، چیئرمین نیب کی 3 سالہ مدت کے بعد اسی شخص کو دوبارہ چیئرمین نیب نہیں لگایا جائے گا، ڈپٹی چیئرمین کی تقرر کا اختیار صدر سے لے کر وفاقی حکومت کو دے دیا جائے گا۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *