عمران خان کا لانگ مارچ کیوں ناکام ہوا؟

تحریر شکیل نائچ

رواں سال 7 مارچ کو اپنی وال پر ایک تجزیہ پیش کیا تھا کہ کیا عمران خان کی حکومت جارہی ہے اس میں اتحادیوں کے چھوڑ جانے اور تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کا ذکر کیا گیا تھا دوستوں نے کئی اعتراضات اٹھائے مگر ہم اپنے تجزیہ پر قائم رہے 24 مئی کو ہم نے پھر لکھا کہ عمران خان کا لانگ مارچ کیوں ناکام ہوگا اس کے تمام وجوہات تحریر کئے 25 مارچ کو عمران خان کے لانگ مارچ کو پولیس کی طاقت سے ناکام بنادیا گیا ۔

کراچی میں سابق گورنر عمران اسماعیل موٹر سائیکل پر سوار ہوکر بھاگ گئے علی زیدی نے نمائش چورنگی پر ہنگامہ آرائی کرانے کے بعد پتلی گلی سے نکل گئے پی ٹی آئی کا برگر کلاس لانگ مارچ سے بھاگ گیا کیونکہ وہ عمران کے کارکن نہیں بلکہ ان کے مداح ہیں وہ کیوں جیلوں میں جائیں گے 2014ء کے لانگ مارچ میں نواز شریف وزیر اعظم تھے چوہدری نثار وزیر داخلہ تھے۔

مزید پڑھیں: پی ٹی آئی بڑی سوگ میں ڈھوب گئی

انہوں نے عمران خان سے دوستی نبھائی اور پولیس رینجرز کا استعمال نہ کیا اوپر سے حساس ادارے کے سربراہ جنرل پاشا مکمل طور پر عمران خان کی حمایت کررہے تھے کھانے پینے کا انتظام جہانگیر ترین اور علیم خان کررہے تھے اب ماحول دوسرا ہے حساس ادارے کے سربراہ اس کھیل میں شامل نہیں ہیں اسٹیبلشمنٹ نے خود کو غیر جانبدار رکھ دیا ہے۔

جہانگیر ترین اور علیم خان جیسے مالی امداد کرنے والے ان کے ساتھ نہیں ہیں وزیر اعظم شہباز شریف نے وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ کو فری ہینڈ دیا جنہوں نے اس لانگ مارچ کو اس طرح تہس نہس کیا ہے جس طرح شیخ رشید نے تحریک لبیک کے پرامن احتجاج کو تہس نہس کیا تھا سپریم کورٹ نے اسلام آباد کی انتظامیہ کو حکم دیا ہے کہ عمران کو ایک گراؤنڈ دیا جائے جہاں وہ جلسہ کرسکیں جہاں سے ان کے کارکن واپس چلے جائیں مگر عمران نے ڈی چوک پر جانے کی ضد پکڑ لی ہے جو سپریم کورٹ کے حکم کی خلاف ورزی ہے۔

مزید پڑھیں: سابق فاسٹ بولر عمر گل افغانستان کرکٹ ٹیم کے بولنگ کوچ مقرر

وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے عمران کو ڈی چوک جانے سے روکنے کا اعلان کیا ہے اب حکومت اپنی طاقت آزمائی کرے گی عمران اپنی ضد پکڑیں گے جس کے نتیجہ میں عمران کی گرفتاری یا نظربندی ہوسکتا ہے لانگ مارچ کو رانا ثناء اللہ نے پولیس کی مدد سے ناکام بنادیا ہے آگے بھی وہ عمران کے احتجاج کو ناکام بنانے کے لئے پرعزم ہیں عمران کو ایک بات سمجھنی چاہئیے کہ وہ بادشاہ نہیں تھے کہ جن کو اتار دیا گیا ہے یا پھر وہ لاڈلے نہیں ہیں کہ ان کے غیر جمہوری مطالبات مان کرانتخابات کرائے جائیں۔

زمینی حقیقت کو تسلیم کریں کہ انہیں اتحادی چھوڑ گئے جس کی وجہ سے ان کی حکومت چلی گئی وہ پارلیمینٹ میں جاکر اپنا کردار ادا کریں ورنہ اپنا سیاسی نقصان کر بیٹھیں گے اسٹیبلشمنٹ نے اب ان کی پشت پناہی سے توبہ کرلی ہے لہٰذا اب دوبارہ اقتدار میں آنا خواب ہی ہوسکتا ہے ۔

نوٹ: ادارے کا تحریر سے متفق ہونا ضروری نہیں، یہ بلاگ مصنف کی اپنی رائے پر مبنی ہے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *