خواتین اینکرز سے اظہار یکجہتی کیلئے مرد اینکرز نے بھی چہرے ڈھانپ لئے ـ

کابل: طالبان حکومت کی جانب سے خواتین اینکرز کو چہرہ ڈھانپ کر ٹی وی اسکرین پر آنے کے حکم پر مرد اینکرز بھی اظہار یکجہتی کے لیے اپنے چہرے ماسک سے چھپا کر ٹی وی اسکرین پر آئے اور لائیو پروگرام کیے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق افغانستان کے دارالحکومت کابل میں نجی ٹی وی چینل طلوع نیوز کے نیوز بلیٹن اور ٹاک شو کے مرد اینکرز اپنا چہرہ ڈھانپ کر اسکرین پر نمودار ہوئے۔

مزید پڑھیں: ملک میں سونے کی قیمت میں بڑا اضافہ

مر اینکرز کا کہنا ہے کہ یہ اقدام اپنی کولیگز خواتین پریزینٹرز کو چہرہ ڈھانپ پر کر ٹی وی اسکرین پر آنے کے طالبان حکومت کے حکم کے ردعمل میں اُٹھایا ہے جس سے ہمیں اندازہ ہوا کہ ناک اور ہونٹ کپڑے سے ڈھکے ہوں تو بولنے اور سانس میں لینے میں کتنی تکلیف ہوتی ہے۔طالبان حکومت کی وزارت امر بالمعروف و نہی عن المنکر نے ایک حکم نامے کے ذریعے اتوار تک خواتین اینکرز کو چہرہ ڈھانپ کر ٹی وی اسکرین پر آنے کی ڈیڈ لائن دی تھی۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے طلوع نیوز کے ڈائریکٹر خپلواک ساپئی کا کہنا تھا کہ حکم نامے پر عملدرآمد شروع کر دیا ہے تاہم طالبان کے سپریم لیڈر کے فرمان میں خواتین پریزنٹرز کے پردے کے حوالے سے کوئی واضح اشارہ نہیں تھا۔ڈائریکٹر خپلواک ساپئی کا یہ بھی کہنا تھا کہ میرے خیال میں ٹی وی پر خواتین کی تصویر یا ویڈیو ورچوئل ہوتی ہے اور وہ اصل میں موجود نہیں ہوتیں اس لیے یہ حکم ان پر لاگو نہیں ہوتا۔

مزید پڑھیں: تھر، مٹھی ، نگر پارکر سمیت تمام سندھ میں پینے کا صاف پانی فراہم کیا جائے، ناصر حسین شاہ

طلوع نیوز کی خواتین اینکرز خاطرہ احمدی اور سونیا نے عالمی میڈیا کے نمائندے سے گفتگو میں بتایا کہ چہرہ ڈھانپنے سے ہم درست طریقے سے نہ تو سانس لے سکتے ہیں اور نہ ہی مناسب طریقے سے اپنی بات پہنچا سکتے ہیں۔

دوسری جانب وزارت امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے ترجمان عاکف مہاجر کا کہنا ہے کہ چہرہ ڈھانپنے کا حکم یہ ہمارا نہیں بلکہ اللہ کا حکم ہے۔ چہرہ ڈھانپنا بھی پردے کا حصہ ہے۔

واضح رہے کہ رواں ماہ کے آغاز میں طالبان کے سپریم لیڈر ہبتہ اللہ اخونزادہ نے اپنے فرمان میں خواتین کو اپنے چہرے مکمل طور پر ڈھانپنے اور روایتی نیلے رنگ کے ٹوپی والا برقع استعمال کرنے کا حکم دیا تھا۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *