تلخ نواٸی اور شدّت پسندی اب ”پرنٹ میڈیا“ پر بھی

تحریر : زاہد احمد
بدقسمتی سے پرتشدّد رحجانات ، عدم ِ برداشت ، جذباتیّت اور تلخ نواٸی کا رواج ، کسی زہر کی مانند تیزی سے ہمارے معاشرے میں پروان پارہا ہے جس کی وجہ سے ہر شعبہ ٕ زندگی میں شدّت پسندی نظر آرہی ہے ۔ موجودہ سیاسی صورتحال میں یہ معاشرتی رویّے ”سوشل میڈیا“ اور ”الیکٹرانک میڈیا“ پر روزانہ کی بنیاد پر دیکھے جاسکتے ہیں ۔

شام کے اوقات میں نشر ہونے والے ٹی وی ٹاک شوز دیکھ لیجٸے آپ کو بخوبی اندازہ ہوجاٸیگا کہ یہ عدم ِ برداشت اور پر تشدّد رحجانات کس قدر عام ہوتے جارہے ہیں ۔ ” سوشل میڈیا“ اور ”الیکٹرانک میڈیا“ پر تو یہ سب کچھ عام ہو ہی چکا ہے ، مگر اب ”پرنٹ میڈیا“ بھی اس دوڑ میں شامل ہوگیا ہے ۔

مزید پڑھیں: الفاروقیہ ٹرسٹ کا چولستان کے فت زدہ علاقوں میں رفاہی کام کا آغاز

ذیل میں دی گٸی روزنامہ ”جنگ“ کراچی میں آج شاٸع ہونے والی ایک خبر کا عکس ملاحظہ ہو ، جس میں الفاظ کے چناٶ میں بے احتیاطی کی وجہ سے ویسٹ انڈیز کی کرکٹ ٹیم کو کھیل کے میدان میں ہرانے کے لٸے ”ہرانے“ ، ”شکست دینے“ یا ”زیر کرنے“ جیسے مناسب اور موزوں الفاظ کے بجاٸے ” کُچلنے“ جیسا پُر تشدّد رویّوں کے مظہر ، غیر مناسب اور غیر موزوں لفظ کا استعمال کیا گیا ہے ۔

ذرا غور فرماٸیے کہ اگر ویسٹ انڈیز کی ٹیم کو یہ ادراک ہوجاٸے کہ پاکستان ہمیں کرکٹ کے میدان میں ”ہرانے“ یا ”شکست دینے“ کے بجاٸے ”کُچلنے“ کے عزاٸم رکھتا ہے تو اس کا کیا ردّ ِ عمل سامنے آسکتا ہے ۔

مزید پڑھیں: خود کو موبائل کی دنیامیں قیدنہ کریں، پروفیسر ڈاکٹر سروش لودھی

کوٸی اس اخبار سے ذرا یہ سوال تو کرے کہ کرکٹ کے میدان میں مقابلہ ایک ٹیم کی جانب سے دوسری ٹیم کو ”ہرانے “ ، ”شکست دینے“ یا ”زیر کرنے“ کے لٸے ہوتا ہے یا اسے ”کُچلنے“ کے لٸے ؟ یہ تو معاشرے میں الفاظ کے چناٶ میں بے احتیاطی ، شدّت پسندی اور تلخ نواٸی کے بڑھتے ہوٸے رجحان کی ایک چھوٹی سی جھلک ہے ، اگر ہم اپنے ارد گرد نظر دوڑاٸیں تو ہمیں ہر جانب ایسے ہی رویّے دیکھنے کو ملیں گے ۔

نوٹ: ادارے کا تحریر سے متفق ہونا ضروری نہیں، یہ بلاگ مصنف کی اپنی رائے پر مبنی ہے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *