فتنہ!!

تحریر: علی ہلال

معاشرتی اقدار اور اخلاقی گراوٹ سمیت عالمی سیاسی منظرنامے سے متعلق سوچ و نظریات میں آنے والی تبدیلی کے بارے خیال کیا جارہاہے کہ یہ مغرب سے لائی گئی ہے۔ شائد یہ ٹھیک بھی ہو۔ میرا خیال ہے کہ ایسی کوششیں تو ہمیشہ سے ہوتی رہی ہیں۔ مگر ان کے اثرات نے ہمارے معاشرے کو اس قدر لپیٹ میں کبھی نہ لیا جسے ہم آج دیکھ رہے ہیں۔

حالات وواقعات کا تجزیہ کیا جائے تو کئی عوامل سامنے آتے ہیں۔ جن میں سرفہرست بعض مذہبی اداروں اور شخصیات کا رویہ اور نظریہ ہے۔ مثال کی طور پر آپ ڈاکٹر اسرار مرحوم کی خدمات دیکھیں، اور ان کے بیٹے اور تنظیم کے موجودہ فیصلے ۔ گزشتہ ہفتے ڈاکٹر صاحب کے بیٹے نے اعلی وفد کے ساتھ عمران نیازی کے ساتھ ملاقات کرلی ہے۔ حالانکہ اسرار صاحب ہی پہلے شخص تھے جنہوں نے نیازی کے بارے میں وہ پیشنگوئیاں کی تھیں جنہیں آج تک بطور استدلال پیش کیا جارہا ہے۔

مزید پڑھیں: ترجمان ریلوے نے ایف پی سی سی آئی کے بیان کی تردید کر دی

اگر یہ غلط تھا تو ڈاکٹر صاحب کو اپنی زندگی میں ہی وضاحت یا معذرت کرلینی چاہیئےتھی یا کم ازکم وصیت ہی لکھ لیتے۔ ہم انہیں سن رہے ہیں۔ان کے درس کو پسند کرتے ہیں ۔مگر یقین جانیں اس ملاقات کے بعد سے میری تمام عقیدت کی عمارت دھڑام سے گری ہے۔ مجھے سب مایا مایا سا لگنے لگا ہے۔

صرف یہ نہیں بلکہ تنظیم اسلامی سے قبل اس کی ہم فکر دو اہم اسلامی جماعتیں عملی طور پر تحریک انصاف کو سپورٹ کرتی رہی ہیں۔ جبکہ ان دونوں میں سے ایک تنظیم کشمیر اور جہاد کی دعویدار بھی تھی اور اس کی بلاشبہ خدمات بھی تھیں۔ خان کے دور میں کشمیر کا کیا بنا وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے۔ 2019ء میں تحریک انصاف دورمیں کشمیر کی حیثیت میں لائی جانے والی تبدیلی کے نتیجے میں اب کشمیر 74 برس بعد مسلمان وزیراعلی سے محروم ہوجائے گا۔ مگر کشمیر کاز کے لئے کام کرنے والی تنظیمیں اج عمران خان کی مخالفت کے بجائے ان کے چرن چھورہی ہیں۔

میرا اپنا مشاہدہ یہ ہے کہ درس نظامی کے زمانہ طالب علمی میں میرے اساتذہ میں سب سے متصلب اساتذہ اشاعت وتوحید والے ہوتے تھے۔ یہ لوگ اخبار پڑھنا پسند نہیں کرتے تھے۔ یہ سیاست کو پسند نہیں کرتے تھے ۔ یہ سیاسی مولیوں پر جلسے جلوسوں میں خواتین کے ساتھ اختلاط کی وجہ سے تنقید کرت تے تھے۔ یہ وزراء اور سیاستدانوں کے مزارات کے دوروں کو بنیاد بناکر ان کے ساتھ مذہبی سیاسی مولویوں کے اتحاد کو شرک وبدعت کی حمایت سے تعبیر کرتے تھے۔

مزید پڑھیں: ڈاکٹر عاصم حسین و دیگر کیخلاف 462 ارب روپے کرپشن ریفرنس کی سماعت ایک بار پھر ملتوی

یہ مشرک اور بدعتی کی بات کرتے تھے۔ یہ جمہوریت کو سرعام کفر کہتے تھے۔ اس پر ان کی کتابیں بھی موجود ہیں۔ دیگر علماء تو کیا عقائد العقیان نامی کتاب کے ایک قابل مصنف نے تو سیاست کی حمایت پر مفتی نظام الدین شامزئی جیسی شخصیت کو بھی معاف نہیں کیا تھا ۔انہیں آڑے ہاتھ لیکر شدید تنقید کا نشانہ بنایا ۔

شائد یہ میری بدقسمتی ہے کہ میں باقاعدہ اشاعت کے مدرسوں میں قران نہ پڑھ سکا ۔ جس کا مجھے آج بھی دکھ ہے۔ میں تین سال قبل تک ان پر تنقید کو پسند نہیں کرتا تھا ۔میں انہیں رجال صدقوا کی ٹولی سے خیال کرتا رہا۔ مگر گزشتہ تین سالوں کے دوران ان کی قیادت کے نظریات میں جو تبدیلیوں کا جو انقلاب بپا ہوتے دیکھا تو اس پرمجھ سمیت بہت سے لوگ محوئے حیرت ہیں۔

ٹھیک ہے میرے اساتذہ آج بھی عفیف ہیں۔وہ اج بھی سیدھے سادھے ہیں۔وہ نیک ہیں۔وہ صوم وصلاہ کے پابند بھی ہیں۔ وہ کبھی سیاسی جلسوں میں نہیں جاتے۔ مگر فکری طور پر وہ تصلب اب جاتا دکھائی دے رہاہے۔ آج ان سے بھی درسگاہوں میں سوال ہورہا ہے کہ کیا جمہوریت اب جائز ہوگئی؟ کیا جس شخص کی تم حمایت کرتے ہو ،اس کے جلسوں میں دیگر سیاستدانوں کے مقابلے میں اختلاط کم ہے ۔؟ کیا اس کے اعمال پر شرک وبدعت کے اثرات واضح نہیں ہیں۔؟۔

مزید پڑھیں: لگژری آئٹمز کی درآمد پر پابندی سے 600 ملین ڈالر کی بچت ہو گی، عرفان اقبال شیخ،

اشاعت وتوحید کے بعد اس ملک میں کچھ علماء اور درسگاہیں ایسی بھی تھیں جن کا بلکل الگ مزاج تھا۔ وہ تصویر کو حرام کہتے تھے۔ انہوں نے فری میسن اور دجالی نظام پر بڑا تحقیقی کام کیا۔ وہ مسجد اقصی اور قبلہ اول کےبھی پکے عاشق تھے مگر آج ان کے اداروں پر بھی تحریک انصاف کی خاموش حمایت کے باعث انگلیاں اٹھائی جارہی ہیں ۔

مذکورہ بالا درسگاہیں اور طبقے مذہبی اداروں کے مکھن تصور کئے جاتے رہیں۔ تصلب میں۔ رجال سازی میں۔ فکری ونظریاتی پختگی میں ۔مگر اب حالات کا نقشہ کچھ اور ہوچکا ہے۔ تجزیہ کرکے یہ بات سامنے آتی ہے کہ ہمارے علماء اور مذہبی تنظیمیں کبھی تطرف،غلو،مبالغہ آمیزی اور غیر ضروری انتہاپسندی کا شکار ہوجاتی ہیں۔ یہ لوگ ان فکری تطرف میں مذہب کا حوالہ بھی شامل کردیتے ہیں۔ ذاتی نظریات اور مذہبی رنگ ہماری رائے ،نظرئے کو مقبولیت کا درجہ دیتا ہے۔

یہ اپنے معتقدین ،شاگردوں اور ہمدردوں کی تعداد میں اضافے کے لئے انتہاپسندی میں چلے جاتے ہیں اور انہیں انتہاپسندانہ فکر دیتے ہیں۔ مگر پھر وقت کا تقاضا یا ان کی ضروریات یاپھر خارجی دباو کے سبب ان کے لئے ان نظریات پر رہنا ممکن نہیں رہتا۔ انہیں پیچھے ہٹنا پڑتا ہے۔ یہ خود تو اپنا بولا بھول کر پٹری بدل دیتے ہیں۔ سافٹ وئیر تبدیل کرلیتے ہیں ۔ مگر ان کے دروس،ان کی تحریروں ،کتابچوں اور وعظ ونصیحت کی مجلسوں کے مارے ہوئے عام انسان یا شاگرد حیرت زدہ رہ جاتے ہیں کہ خدایا یہ کل کیا تھا اور آج کیا ہورہا ہے۔

مزید پڑھیں: جامعہ کراچی کے طالبات کا شدید گرمی میں پرند وں کے لیے پانی کا انتظام

آج ہمارے ملک میں یہی منظرنامہ ہے۔ اس کے لئے محققین "الاستبدال العظیم "کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں۔ یعنی بڑی تبدیلی۔ آج کل ہم اور ہمارا ملک اسی تبدیلی کی لپیٹ میں ہیں۔ آپ اسے فتنہ بھی کہہ سکتے ہیں۔ جس کے درست اور غلط ہونے بابت انسان فیصلہ نہیں کرپاتا ۔ آج ہم فتنے کا دور جی رہے ہیں۔

میرا خیال ہے ہمیں اعتدال کی طرف آنا ہوگا۔ ہمیں اپنے نظریات،معتقدات اور رائج سوچ کو اعتدال کی چھلنی سے اتارنا ہوگا۔ ہمیں کسی چیز کی حمایت یا مخالفت میں معتدل رہنا ہوگا۔ تاکہ کل کو پچھتانا نہ پڑے۔ تاکہ ہماری انتہاپسندی کسی کو ذہنی طور پر مفلوج کرنے کا سبب نہ بنے۔ وگرنہ وہ دن دور نہیں جب ان مذہبی راہنماوں اور مبلغین کو جوتے لگیں گے اور ان کی درسگاہوں میں گھوڑے بندے جائیں گے۔

نوٹ: ادارے کا تحریر سے متفق ہونا ضروری نہیں، یہ بلاگ مصنف کی اپنی رائے پر مبنی ہے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *