ترجمان ریلوے نے ایف پی سی سی آئی کے بیان کی تردید کر دی

لاہور () ترجمان ریلوے نے انگریزی روزنامے میں شائع ہونے والی ایف پی سی سی آئی کے بیانئے کو حقیقت کے بر عکس قرار دیا ہے جس میں اقتصادی تعاون تنظیم کی فریٹ ٹرین کے استنبول نہ پہنچنے پر محکمہ ریلوے کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے۔

ترجمان ریلوے کے مطابق پاکستان ریلوے اپنے زیر انتظام علاقوں میں آپریشن کا ذمہ دار ہے۔ معاہدے کے مطابق کسٹم کلیئرنس، لوڈنگ، ان لوڈنگ، ٹرانس شپمنٹ اور اس سے جڑے معاملات کی ذمہ داری تین کمپنیوں میسرز ہارون برادرز پاکستان، میسرز رسان ریل پارس ایران اور ایم ایف اے لاجسٹکس ترکی کی ہے۔

مزید پڑھیں: ڈاکٹر عاصم حسین و دیگر کیخلاف 462 ارب روپے کرپشن ریفرنس کی سماعت ایک بار پھر ملتوی

ترجمان کے مطابق اس مالی سال دسمبر سے مارچ تک چار ٹرینیں پاکستان سے روانہ ہوئیں جن میں سے تین نے مقررہ وقت پر مال اپنی منزل تک پہنچایا جبکہ چوتھی ٹرین ایران ترکی سرحد پر رکی رہی جس کی بنیادی وجہ ہارون برادرز اور ایم ایف اے لاجسٹکس کے مابین داخلی تنازع تھا۔

ان معاملات کو سلجھانے کے لیے پاکستان ریلوے آفیشلز نے میسرز ہارون برادرز کو ہدایات جاری کیں جن ہر عمل کرتے ہوئے مذکورہ فریٹ فارورڈر کمپنی کے ذمہ داران ترکی گئے اور گفت و شنید کے بعد معاملے کو حل کر لیا گیا۔

اس وقت مال گاڑی لیک وین کے مقام پر کھڑی ہے جہاں سے فیری بوٹ کے ذریعے اسے دریا کے پار پہنچا دیا جائے گا۔ چونکہ اس وقت لیک وین پہ ایک ہی فیری بوٹ ہے اس لیے اس عمل کو مکمل ہونے میں تین سے چار روز لگ جائیں گے۔ٹرین کے لیٹ ہونے کے حوالے سے تمام معاملات کو اقتصادی تعاون تنظیم کے بارہویں اعلیٰ سطحی ورکنگ گروپ اجلاس میں طے کر لیا گیا تھا جس کے منٹس ای سی او سیکرٹریٹ جاری کر دے گا۔

مزید پڑھیں: لگژری آئٹمز کی درآمد پر پابندی سے 600 ملین ڈالر کی بچت ہو گی، عرفان اقبال شیخ،

ترجمان نے وضاحت کی ہے کہ ٹرین پہنچنے میں تاخیر ایم ایف اے لاجسٹکس جس کا تعلق ترکی سے ہے کی جانب سے اضافی چارجز لاگو کرنے کی وجہ سے ہوئی۔ اس ضمن میں پاکستان ریلوے یا اس کا کوئی بھی آفیشل ذمہ دار نہیں ہے۔ البتہ آئندہ اس طرح کی صورتحال سے بچنے کے لیے تمام فریٹ فارورڈرز کو ہدایات جاری کر دی گئی ہیں کہ وہ بکنگ سے قبل ترکی اور ایران کے فریٹ فارورڈرز سے با ضابطہ معاہدہ کر کے آپریشن کی طرف بڑھیں۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *