لگژری آئٹمز کی درآمد پر پابندی سے 600 ملین ڈالر کی بچت ہو گی، عرفان اقبال شیخ،

کراچی () صدرایف پی سی سی آئی عرفان اقبال شیخ نے مطالبہ کیا ہے کہ جمعرات کو اعلان کردہ فہرست میں ممنوعہ اشیاء کے پہلے سے کیے گئے درآمدی آرڈرز کو پہلے کلیئر کیا جائے تاکہ درآمد کنندگان کو نقصان سے بچایاجا سکے۔ بصورت دیگر درآمد کنندگان کو بھاری نقصان اٹھانا پڑے گا کیونکہ وہ ممنوعہ فہرست میں شامل 41 ایچ ایس کوڈ کی اشیاء کے لیے دوسرے ممالک کے ایکسپورٹرز کو پہلے سے کی گئی ادائیگیوں کی وصولی نہیں کر پائیں گے۔

عرفان اقبال شیخ نے وضاحت کی کہ جیسا کہ امپورٹ پالیسی آرڈر (IPO) 2022 کے پیرا 4 کے تحت کہا گیا ہے کہ وہ درآمدات جن کے لیے ترمیمی آرڈر کے اعلان سے قبل بل آف لیڈنگ یا لیٹر آف کریڈٹ جاری کیا گیا تھاپابندی سے مستثنیٰ ہونگی؛ اس لیے پابندی کے بعد مارکیٹ میں پھیلنے والے خوف و ہراس کو کم کرنے کے لیے حکومت کو قانون کے مطابق وضاحت جاری کرنا چاہیے۔

مزید پڑھیں: جامعہ کراچی کے طالبات کا شدید گرمی میں پرند وں کے لیے پانی کا انتظام

صدرایف پی سی سی آئی نے اس بات پر زور دیا کہ فیصلے پر عمل درآمد احتیاط کے ساتھ کیا جائے اور دو ہفتے تک کی مہلت دی جائے؛ تاکہ پابندی کے اعلان سے پہلے کے تمام درٓمدی آرڈرز کو مکمل کیا جا سکے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ حکومت کی جانب سے فیصلہ لینے سے قبل دیے گئے درآمدی آرڈز پر پابندی کو نافذ کرنا غیر قانونی ہوگا۔ عرفان اقبال شیخ نے مزید کہا کہ تاجر برادری عمومی طور پر غیر ضروری لگژری آئٹمز پر پابندی کو سراہتی ہے؛ کیونکہ اس سے موجودہ بحران میں قیمتی زرمبادلہ کی بچت ہوگی۔

مزید پڑھیں: پی ٹی آئی رہنما شیریں مزاری کو ‘گرفتار’ کرلیا گیا

انہوں نے حکومت سے اپنی امیدیں بھی وابستہ کیں کہ دو ماہ کی پابندی کی مدت ختم ہونے سے قبل زرمبادلہ کی کمی کو کے بحران کو حل کر لیا جائے گا۔

عرفان اقبال شیخ نے کہا کہ اس اقدام سے دو ماہ کے دوران 600 ملین ڈالر کی بچت ہوگی اور اس کے نتیجے میں زرمبادلہ کے ذخائر کی کمی کو روکنے اور روپے کی قدر کو مستحکم کرنے میں مدد ملے گی۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *