بھارتی مسلمانوں کو معتوب اقوام کی تاریخ سے سبق سیکھنا ہوگا: جسٹس وجیہ

بھارتی مسلمانوں کو معتوب اقوام کی تاریخ سے سبق سیکھنا ہوگا: جسٹس وجیہ

کراچی: عام لوگ اتحاد کے رہنما جسٹس (ر) وجیہ الدین نے بھارت میں مساجد کو شہید کرنے اور مندروں میں تبدیل کرنے کی مکروہ کارروائیوں کو حیوانی عمل قرار دیا ہے۔

انہوں نے کہا بھارت میں ہندوتوا حکومتوں کےمس ہاتھ مساجد کو ہدف بناکر پاش پاش کرنے کی ڈگڈی آگئی ہے، اس حیوانی عمل میں حکومت کے حصول اور اس کی بقا کا راز ہندو انتہا پرستوں نے دریافت کرلیا ہے، یہ بظاہر ایک لا متناہی سلسلہ معلوم ہوتا ہے۔

بابری مسجد ہو یا وارانسی و متھرا کی عبادت گاہیں، تاج محل ہو یا اورنگ آباد کا مقبرہ، مسلمان خاتون کا حجاب ہو یا برقعہ کچھ بھی محفوظ نہیں ہے۔ ذرا سونچیں کہ کیا تین چار سو سال گزرنے اور نام نہاد مندر پر مسجد کی تعمیر کے بعد کوئی بھی مندر کے آثار بچ سکتے ہیں؟

مسلمانوں کا کہنا ہے کہ حوض کے فوارے کو شیوانگ کے "مقدس” نام سے موسوم کیا جارہا ہے۔ اس پر طرہ یہ کہ مسلمانوں کو عدالتوں سے انصاف نہیں مل رہا۔

اس صورتحال میں مسلمان ممالک کچھ کرسکتے تھے، مگر یہ وہاں کے تخت نشینوں کے ضمیر جگانے والے مگدے نہیں۔ علاج صرف اور صرف مسلمانان ہند کو تاریخ سے سبق سیکھنے میں مضمر ہے۔

خود ہندو کی ہزار سالہ غلامی کی تاریخ، یورپ کے تاریک ادوار، یہود کی نشاط ثانیہ گواہ ہیں کہ اقوام عالم تعلیم، تربیت، راست گوئی و راست روی، عمل پیہم، یقین محکم اور اتحاد کے زریں اصولوں پر کاربند ہوکر حقوق و معاشرہ میں کھویا ہوا مقام حاصل کرتے ہیں۔ ہند کے معتوب مسلمانوں کیلئے بھی اب صرف ان کی اپنی جہد مسلسل ہے، جو رنگ لا کر رہے گی۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *