قلم کی ذمہ داری اور اسلوبِ تحریر

(نو آموز لکھاریوں کی اصلاح اور راہنمائی کے لیے مفصل مضمون)

تحریر: بنتِ ایوب مریم

قلم کی نعمت اللہ تعالی کی بہت خوب صورت عطا اور سراسر خدا داد صلاحیت ہے۔ کوئی بھی انسان فقط تحریر نگاری کے کورس سے ایک اچھا مصنف نہیں بن سکتا۔ لیکن اتنا ضرور ہے کہ ہم خدا داد صلاحیت کو تھوڑی سی توجہ سے مزید نکھار سکتے ہیں۔ اللہ کی دی ہوئی نعمت کا مناسب استعمال جان کر خوب اچھے سے استعمال کرنا نعمت کی قدر بڑھاتا ہے۔ اگر اللہ نے ہمیں تحریر نگاری کے فن سے آشنا کیا ہے تو لازم ہے کہ ہم قلم کی ذمہ داری کو سمجھیں اور اپنی صلاحیتوں کو عالمِ اسلام اور پاکستان کی سر بلندی کے لیے صرف کریں۔ اگر اللہ نے ہمارے ہاتھ میں قلم تھمایا ہے تو جہاد بالقلم سے اچھی کوئی اور نیکی نہیں ہے۔ قلم کی ذمہ داری کو سمجھتے ہوئے تحریر نگاری کے فن اور اسلوب سے آشنا ہوں اور خوب لکھیں کہ یہی لکھا روزِ محشر آپ کے کام آئے۔

مزید پڑھیں: “زرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی”

اگر آپ مبتدی لکھاری ہیں تو سینئر لکھاریوں سے اصلاح لینے میں عار محسوس نہ کریں۔ مستقل مزاجی سے آگے بڑھیں اور ادب کی راہ پہ گامزن رہیں۔ ذیل میں دیے گئے نکات ان شاء اللہ آپ کے کیے کار گر ثابت ہوں گے۔
1۔ لکھنے کا منفرد اسلوب اپنائیں اور اپنی جدا گانہ پہچان قائم کرنے کے لیے کوشاں رہیں۔
2۔ مضمون یا کالم لکھتے ہوئے مکھی پہ مکھی نہ ماریں بلکہ اپنی رائے کی روشنی میں لکھیے۔
3۔ کوشش کریں کہ لکھنے کا وقت متعین ہو، ایک ہی وقت پہ لکھنے کی عادت بنائیں گے تو خیالات کی آمد میں آسانی رہے گی۔
4۔ تحریر کے لیے تمام معلومات مستند ذرائع سے حاصل کریں۔
5۔ تحریر کی پختگی کے لیے اپنا مطالعہ بڑھائیں۔ ایک اچھا قاری ہی اچھا لکھاری ہو سکتا ہے۔
6۔ منفرد موضوعات کے انتخاب کے لیے مشاہدے میں بہتری لائیں۔
7۔ آنکھوں دیکھی چیز یا مناظر کو زیرِ قلم لانے کی کوشش کیجیے۔ اس سے لکھنے کی صلاحیت بڑھتی ہے۔
8۔ تحریر کے قاری کا واضح تعین کریں کہ یہ تحریر آپ کس عمر کے قاری کے لیے لکھ رہے ہیں۔ پھر قاری کی ذہنی سطح کا خیال رکھ کر تحریر مکمل کریں۔
9۔ شروع میں مختصر لکھیں، جب قلم میں روانی آ جائے تو بڑی کہانیاں بھی عمدگی سے لکھی جائیں گی۔
10۔ تحریر میں نئی تراکیب اور محاورات کا استعمال کریں۔
11۔ ذہن میں لکھنے کے حوالے سے جو بھی خیال آئے، اسے محو ہونے سے پہلے نوٹ کر لیں۔
12۔ لکھنے کی جگہ کی چیزیں سلیقے سے رکھیں تا کہ لکھتے ہوئے ذہن منتشر نہ ہو۔
13۔ سرقہ اور چربہ سے اجتناب کیجیے۔
14۔ موجودہ حالات پہ لکھنے کی عادت بنائیں، اس سے اپنی رائے قائم کرنے کی صلاحیت بڑھتی ہے۔
15۔ لکھتے ہوئے حق اور دلائل کی روشنی میں لکھیں۔ بے پر کی نہ اڑائیں۔ البتہ بچوں کی مافوق الفطرت کہانیوں میں گنجائش ہے۔
16۔ کالم اور مضمون میں فرق جان کر لکھیں۔ کالم وقتی اور حالاتِ تازہ کے مطابق ہوتے ہیں جب کہ مضمون کی حقیقت دس سال بعد بھی وہی رہتی ہے۔
17۔ اگر آپ شاعر یا شاعرہ ہیں تو علمِ عروض سیکھیے۔
18۔ آپ خود قابل بن جائیں تو مبتدی لکھاریوں کی خوب حوصلہ افزائی کریں اور ان کے لیے معاون ثابت ہوں۔
19۔ اگر کبھی رائٹر بلاگ کا شکار ہوں تو بالکل مت گھبرائیں بلکہ ان دنوں میں خوب مطالعہ کریں۔ ذہن کو نئی نہج پہ لانے کی کوشش کریں۔ بلاگ کے ٹوٹتے ہی ان شاء اللہ قلم میں خوب روانی دیکھنے کو ملے گی۔

مزید پڑھیں: ایشیا کی سب سے بڑی کچی آبادی اورنگی بنیادی سہولیات سے محروم ،چیرمین کراچی گرینڈ الائنس

اسی طرح ہم تحاریر لکھ کر قلم آزمائی کرتے ہیں اور تحاریر کا ڈھیر لگا لیتے ہیں۔ لیکن رکیے! کیا ہم اغلاط سے پاک تحاریر لکھتے ہیں؟ اگر نہیں! تو تحاریر کا ڈھیر لگانے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ کم لکھیے لیکن معیاری لکھیے۔ اپنی تحریر اس قدر احسن انداز سے لکھیں کہ ایڈیٹر کو اشاعت کے لیے خود محنت نہ کرنی پڑے۔ اکثر محنت طلب تحریریں ردی کی ٹوکری کی نذر ہوتی ہیں اور اس طرح ہماری ساری محنت اکارت ہو جاتی ہے۔ اپنی تحریر کو میل کرنے یا بھیجنے سے پہلے بنظرِ غائر پڑھیے اور ذیل میں دی گئی تمام اغلاط سے پاک کیجیے!
1۔ اپنا نام، شہر کا نام، تحریر کی صنف اور تحریر کا عنوان تحریر کے شروع میں لکھیے اور آخر میں لکھنے سے گریز کیجیے۔
نام: بنتِ ایوب مریم
شہر کا نام: ساہیوال
صنف: کہانی
عنوان: مٹی کی خوشبو
2۔ نام اور عنوان کو موٹا کرنے کے لیے سٹار لگانے سے گریز کیجیے۔
عنوان: چاندنی (یہ طریقہ غلط ہے۔)
آپ کی تحریر وٹس اپ پر نہیں شائع ہوتی کہ اسٹار لگا کر حروف بولڈ کیے جائیں۔
3۔ فقرے کے اختتام پر سپیس دیے بغیر ختمہ کی علامت استعمال کیجیے اور ختمہ کے بعد ایک سپیس سے اگلی لائن شروع کریں۔
میرا نام بنتِ ایوب ہے ۔میں نہم جماعت میں پڑھتی ہوں۔ (یہ غلط ہے۔)
میرا نام بنتِ ایوب ہے۔ میں نہم جماعت میں پڑھتی ہوں۔ (یہ درست ہے۔)
4۔ لفظ "اور” کا استعمال کرتے ہوئے اس سے قبل ختمہ کی علامت کے استعمال سے گریز کیجیے۔
میرا نام فاطمہ ہے۔ اور میں نہم جماعت میں پڑھتی ہوں۔ (یہ غلط ہے۔)
میرا نام فاطمہ ہے اور میں نہم جماعت میں پڑھتی ہوں۔ (یہ درست ہے۔)
ختمہ کی علامت کو پہچانیے۔
(۔)یہ ختمہ کی درست علامت ہے
جب کہ یہ نقظہ ہے۔ (.)
6۔ فقرے یا مصرعے کے تمام الفاظ کے درمیان صرف ایک سپیس دیں۔
7۔ رموزِ اوقاف کی تمام علامات فقرے کے ختم ہوتے ہی بغیر سپیس دیے استعمال کیجیے اور علامت کے بعد ایک سپیس ڈالیے۔
فاطمہ ! قدسیہ نے اسے آواز دی۔ (یہ غلط ہے)
فاطمہ! قدسیہ نے اسے آواز دی۔ (یہ درست ہے)
8۔ تحریر کو پیرا گراف کی صورت میں لکھیے۔
9۔ تحریر میں ایموجیز، سٹار اور مختلف علامات سے گریز کیجیے۔ اگر کوئی علامت سکتہ، وقفہ، ندائیہ یا فجائیہ استعمال کرنی ہو تو صرف ایک بار استعمال کیجیے۔
اچھا سنو!!
وہ سکول گئی،،،
(یہ دونوں طریقے غلط ہیں۔)
10۔ اردو کے مرکب الفاظ کو الگ الگ کر کے لکھیے۔
خوشبو (یہ نا موزوں ہے۔)
خوش بو (یہ درست ہے)
11۔ مرکب الفاظ میں حرکات کا استعمال لازمی جانیے۔
جیسے بنتِ ایوب میں بنت کے ت کے نیچے زیر ہے۔
12۔ لفظ نا اور نہ میں فرق پہچانیے۔ لفظ نا تاکید کے لیے استعمال ہوتا ہے اور نہ انکار کے معنی میں۔
البتہ اگر لفظ نا مرکب حروف میں سابقے کے طور پہ استعمال ہو تو اس کا مطلب بھی نفی ہی ہوتا ہے۔
جیسے نا خوش
13۔ لفظ کے اور کہ میں فرق پہچانیے۔
14۔ لفظ بالکل کو بالکل ہی لکھیں، بلکل لکھ کر الف حذف کرنے کی کوشش مت کریں۔
15۔ فی الحال کو فلحال مت لکھیں۔
16۔ صحیح اور سہی میں فرق پہچانیں۔ درست کے لیے صحیح اور سہی کا استعمال رہی سہی کے لیے ہوگا۔
17۔ لفظ جذبہ اور ذرا لکھتے ہوئے ذ اور ز میں فرق پہچانیں۔
18۔ تحریر لکھنے کے بعد کم از تین دفعہ پڑھ کر املاء کی غلطیوں کی اصلاح کیجیے۔ اصلاح کے بعد متعلقہ ادارے کو بھیجیے اور اطمینان سے اشاعت کا انتظار کیجیے۔ مدیران کو پریشان مت کریں۔ آپ کی تحریر قابلِ اشاعت ہوئی تو ان شاء اللہ ضرور وقت آنے پہ رسالے یا اخبار کی زینت بن جائے گی۔
19۔ آپ جس اخبار یا رسالے کے لیے تحریر لکھ رہے ہیں اس کے مزاج سے آشنائی بھی بہت ضروری ہے کیونکہ ہر رسالے کا اپنا مزاج ہوتا ہے، اگر آپ اس کے مطابق تحریر بھیجیں گے تو لکھاری اور مدیر دونوں کو ہی فایدہ ہوگا۔

مزید پڑھیں: ایران دہشت گردانہ عزائم سے بازآجائے، اہلسنّت والجماعت

رسائل اور اخبارات میں اشاعت کے لیے تحریروں کو یونی کوڈ سے ان پیج میں کیا جاتا ہے، جس سے کچھ الفاظ بکھر جاتے ہیں یا پہلی سی حالت پر قائم نہیں رہتے۔ اس لیے یونی کوڈ تحاریر اخبار میں شائع کروانے کے لیے تحریر کیسے لکھیں؟ اس سے متعلق چند اہم نکات بتائے جارہے ہیں، امید واثق ہے کہ آپ سے مستفید ہوں گے۔
1۔ لفظ جمائی، کمائی یعنی ئی والے الفاظ میں الف کے بعد سپیس نہ دیجیے۔
جما ئی(یہ غلط ہے)
جمائی(یہ درست ہے)
2۔ جلاؤ اور کماؤ جیسے الفاظ کی واؤ پر حمزہ نہ دیجیے۔ و پر حمزہ دینے سے ان پیج میں یہ واؤ ختم ہو جاتے ہے اور لفظ جلاؤ اور کماؤ جلا اور کما بن جاتے ہیں۔
3۔ قوسین یعنی بریکٹ میں لکھے جانے والے الفاظ کو لکھتے ہوئے الٹی بریکٹ لگائیے۔
جیسا کہ )فاطمہ بتول(
ان پیج کرتے وقت یہ بریکٹ خود ہی سیدھی ہو جائے گی۔

نوٹ: ادارے کا تحریر سے متفق ہونا ضروری نہیں، یہ بلاگ مصنف کی اپنی رائے پر مبنی ہے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *