مولانا محمد اسلم شیخوپوری

تحریر: بنتِ ایوب مریم

الحمدللہ مختصر سی بیتی ہوئی زندگی میں بے شمار مصنفوں اور کئی کتابوں کے مطالعے کا شرف حاصل ہوا لیکن جو بات مولانا محمد اسلم شیخوپوری کی کتب میں ہے وہ کسی اور ادیب کی کتب میں کہاں۔ ان کی تالیفات دین اور دنیا کا انتہائی حسین امتزاج ہیں۔ ان میں ارشادات باری تعالی، احادیث، اردو و فارسی اشعار، ان کے اپنے فرمودات، سائنسی سروے اور غیر ملکی رپورٹس ہر معاشرتی مسئلے سے متعلق احسن انداز میں پیش کی گئی ہیں۔

مزید پڑھیں: قلم کی ذمہ داری اور اسلوبِ تحریر

گھر کی مختصر سی لائبریری میں ان کی کتاب ندائے منبرومحراب کی تین جلدوں نے ہی مجھے دل سے انکی خصوصیات کا معترف کردیا۔اور یہ میری زندگی کی پہلی کتاب ہے جس نے مجھے انتساب پڑھنے کی طرف راغب کیا ورنہ میں صرف کہانیوں یا سادہ مواد پر ہی اکتفا کرتی تھی۔ ان کی کتاب کا مواد تو سبحان اللہ لیکن انتساب اور حرف چند بھی الگ ہی مزہ دیتا ہے۔ البتہ ان کی مزید کتب کے نام پڑھ کر ہی دل مچلنے لگتا ہے کہ انہیں ضرور پڑھا جائے۔

اگر اللہ تعالی توفیق دیں تو ان کی کتب سےضرور فیض حاصل کرنا چاہیے۔ میرے بچپن میں بھی ان کی تحاریر بچوں کے اسلام میں چھپتی تھیں اور کچھ عرصے بعد اب پھر وہی تحاریر دوبارہ چھپ رہی ہیں۔ فرق صرف اتنا سا ہے کہ پہلے یہ مد ظلہ تھے اور اب نام کے ساتھ رحمةاللہ علیہ کا اضافہ لئے ہوئے ہیں۔

مزید پڑھیں: ایشیا کی سب سے بڑی کچی آبادی اورنگی بنیادی سہولیات سے محروم ،چیرمین کراچی گرینڈ الائنس

چند سال قبل انہیں داغ مفارقت سے جواب دینا پڑا۔ علم وادب اور اسلام کے یہ عظیم شاہکار ٹانگوں سے معذور تھے ۔ بس روح انقلاب ہونے کے باعث کراچی میں 13 مئی کے روز گولیوں سے بھون دیے گئے۔ اللہ تعالی انہیں شہادت کے بلند مرتبے پہ فائز کرے اور ان کے کام کو دنیا اور امت مسلمہ کے لئے صدقہ جاریہ بنائے۔

نوٹ: ادارے کا تحریر سے متفق ہونا ضروری نہیں، یہ بلاگ مصنف کی اپنی رائے پر مبنی ہے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *