داؤد انجینئرنگ یونیورسٹی کا گولڈن جوبلی جشن

داؤد انجینئرنگ یونیورسٹی کا گولڈن جوبلی جشن

کراچی: داؤد یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کی گولڈن جوبلی جشن کے حوالے سے تقاریب کا انعقاد شاندار انداز میں کیا جارہا ہے۔

گولڈن جوبلی جشن کے پہلے روز افتتاحی تقریب کے مہمان خصوصی صوبائی وزیر برائے بورڈز و جامعات محمد اسماعیل راہو تھے جبکہ چیئرمین سندھ ہائر ایجوکیشن ڈاکٹر طارق رفیع، سیکرٹری یونیورسٹیز اینڈ بورڈ محمد مرید راہموں اور داؤد انجینئرنگ یونیورسٹی کے المنائی اور ایم ڈی او جی ڈی سی ایل خالد سراج سبحانی نے بطور اعزازی مہمان شرکت کی۔

پرو وائس چانسلر ڈاکٹر عبدالوحید بھٹو، رجسٹرار ڈاکٹر سید آصف علی شاہ نے مہمانوں کا استقبال کیا۔ افتتاحی تقریب کا آغاز تلاوت قرآن پاک سے ہوا جس کے بعد وائس چانسلر ڈاکٹر فیض اللہ عباسی نے خطاب کرتے ہوئے معزز مہمانان گرامی، المنائی، طلبہ و طالبات، فیکلٹی ارکان کو خوش آمدید کہا اور یونیورسٹی کے شاندار ماضی اور اس سے فارغ التحصیل طلباء کے دنیا بھر میں اعلیٰ عہدوں پر تعیناتی کے حوالے سے بتایا۔

انہوں نے کہا کہ عروج کا سفر زوال میں تبدیل ہوچکا تھا تاہم 2013ء کے بعد میری قابل ٹیم کی انتھک جدوجہد کے نتیجے میں یونیورسٹی کے اندر نہ صرف استحکام آیا بلکہ ترقی ہوئی، اب یونیورسٹی میں گریجویشن کے علاوہ ایم ایس اور پی ایچ ڈی کے پروگرامز اور شام میں بی ایس کی کلاسز بھی ہورہی ہیں۔

وائس چانسلر ڈاکٹر فیض اللہ عباسی نے مزید کہا کہ یونیورسٹی میں استحکام کے بعد ہمیں وسعت کی ضرورت ہے، 1800 طلبہ و طالبات سے 2500 طلبہ و طالبات کا سفر طے کرلیا ہے لیکن جگہ وہی ہے وسائل بھی وہی ہیں، مالی امور میں مسائل کا سامنا ہے۔

تاہم ابھی تک ایک پیسے کو اوور ڈارفٹ یونیورسٹی نے نہیں لیا اور اپنے وسائل سے تمام امور چلا رہے ہیں۔ البتہ یونیورسٹی کی ترقی اور وسعت کیلئے ہمیں حکومت سندھ کی مدد کی ضرورت ہے، نئی عمارت اور نئے کیمپس کی کمی سے ترقی کا سفر سست پڑ سکتا ہے۔

اس موقع پر یونیورسٹی کے شاندار ماضی، اس کے بعد پیدا مسائل اور 2013ء کے بعد سے تبدیلی کے سفر سے متعلق ایک دستاویزی فلم بھی دکھائی گئی۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *