خاتون صحافی شیریں ابو اکلح شہید- ذمہ دار کون؟

تحریر: اسرار ایوبی

قطر میں قائم عالمی نیوز ٹی وی چینل الجزیرہ کی ممتاز نیوز رپورٹر شیریں ابو اکلح بدھ کو اپنے صحافتی فرائض انجام دینے کے دوران اسرائیلی افواج کی فائرنگ سے جاں بحق اور ایک صحافی شدید زخمی ہوگئے ۔

فلسطینی وزارت صحت کے مطابق شیریں ابو اکلح اپنے صحافی ساتھیوں کے ساتھ مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر جنین میں اسرائیلی افواج کی جانب سے فلسطینی لڑاکوں کے خلاف جاری ایک آپریشن کی کوریج کے لئے گئی تھیں کہ وہ اور ان کے ساتھی اچانک اسرائیلی افواج کی براہ راست فائرنگ کی زد میں آگئے، اس دوران ان کے سر میں گولی لگی اور وہ زمین پر گرپڑیں انہیں انتہائی نازک حالت میں قریبی اسپتال پہنچایا گیا لیکن کچھ دیر بعد ڈاکٹروں نے انہیں مردہ قرار دیدیا اس واقعہ کے وقت ان کے ساتھ موجود الجزیرہ کے ایک اور ساتھی رپورٹر علی سمودی بھی اپنی کمر میں گولی لگنے سے شدید زخمی ہوئے تھے ۔

مزید پڑھیں: پارک میں داخلے سے روکنے پر تشدد سے گارڈ جاں بحق

سمودی کا کہنا ہے کہ ہم اسرائیلی افواج کی جانب سے جنین شہر میں فلسطینی لڑاکوں کے خلاف آپریشن کی فلم بندی کرنے جارہے تھے لیکن اس دوران ہم پر اچانک اس وقت گولیاں چلائی گئیں جب وہاں کوئی فلسطینی لڑاکا موجود نہیں تھا اور نہ ہی اسرائیلی افواج نے ہمیں اس واقعہ کی فلم بندی سے روکا تھا اور ہمیں وہاں سے ہٹ جانے کا کہے بغیر ہی ہم نہتے صحافیوں پر گولیاں چلادی تھیں۔ پہلی گولی مجھے آکر لگی اور دوسری شیریں ابو اکلح کو جبکہ اس موقع پر دور دور تک کوئی مسلح فلسطینی مزاحمت کار موجود نہ تھے۔

اس المناک واقعہ کے وقت خاتون صحافی شیریں ابو اکلح کے ساتھ موجود قدس نیوز نیٹ سے تعلق رکھنے والے فلسطینی صحافی ہنیشاتھا، ہنیشا کا کہنا ہے کہ جس دوران اسرائیلی فوج کے جانب سے ہم پر اندھا دھند گولیاں چلائی گئیں تو اس وقت وہاں فلسطینی لڑاکوں اور اسرائیلی فوج کے درمیان کسی قسم کی محاذ آرائی نہیں تھی۔ اسرائیلی افواج نے جان بوجھ کر ہم صحافیوں کو اپنا ہدف بنایا اس موقع پر ہم چار صحافی تھے اور ہم نے حفاظتی اقدامات کے تحت صحافیوں کی مخصوص ویسٹ کوٹ جن پر واضح الفاظ میں PRESS درج تھا اور حفاظتی ہیلمٹ بھی پہنے ہوئے تھے۔

اسرائیلی افواج نے اس وقت تک بلادریغ فائرنگ جاری رکھی جب تک شیریں ابو اکلح زمین پر نہیں گر گئیں ۔ اس دوران اس قدر شدید فائرنگ تھی کہ ہم میں سے کوئی بھی کوشش کے باوجود ان تک پہنچ نہیں پارہا تھا۔ میں بھی انہیں سہارا دینے کے لئے ان کی جانب اپنے ہاتھ تک نہیں بڑھا پا رہا تھا جونہی فائرنگ رکی ہم نے انہیں زمین سے اٹھایا اور فوری طور پر اسپتال پہنچایا۔

مزید پڑھیں: شدید گرمی کے باعث پیاسے پرندے آسمان سے گرنے لگے

الجزیرہ نیوز چینل کی صحافی ندا ابراہیم کا کہنا ہے کہ شیریں ابو اکلح کی جانب سے مقبوضہ مغربی کنارے کے شمال میں واقع جنین شہر میں جو فلسطینی فتح تحریک کا اہم گڑھ بھی ہے اسرائیلی افواج کے آپریشن کو آشکار کرنے کے دوران ان کے سر میں گولی ماری گئی، بتایا جاتا ہے کہ شیریں ابواکلح نے بدھ کی صبح 6:13 منٹ پر الجزیرہ نیوز چینل کے رملہ بیورو میں ایک ای میل ارسال کرکے اطلاع دی تھی کہ اسرائیلی افواج نے جنین شہر کے فلسطینی مہاجرین کیمپ پر ہلہ بول دیا ہے اور فلسطینی مہاجرین کے کیمپ جبریت کے نواح میں ایک مکان کا محاصرہ کیا ہوا ہے میں فوری طور پر وہاں جارہی ہوں اور جونہی صورت حال واضح ہوئی آپ کو خبر بھیجوں گی ۔

ان کی ساتھی صحافی ندا ابراہیم نے آنسوؤں کے ساتھ روتے ہوئے بتایا کہ شیریں ابو اکلح صحافت میں ایک بیحد شاندار پیشہ ورانہ خدمات کے علاوہ بہت عزت دار صحافی تھیں۔ 51 سالہ شیریں ابو اکلح بیک وقت فلسطین اور امریکی شہریت کی حامل ہونے کے ساتھ ساتھ 1997 سے الجزیرہ نیوز چینل سے منسلک تھیں اور گزشتہ کئی دہائیوں سے عرب اسرائیل تنازعہ کی شاندار کوریج کے باعث وہ عرب دنیا کی ایک معروف اور جانی پہچانی صحافی تھیں۔

اسرائیلی افواج کے ہاتھوں الجزیرہ نیوز چینل کی خاتون صحافی کی موت پر تبصرہ کرتے ہوئے اسرائیلی وزیراعظم نفتالی بینیٹ کا کہنا ہے کہ اس بات کا امکان ہے کہ خاتون صحافی شیریں ابو اکلح سرائیلی افواج اور فلسطینی بندوق برداروں کے درمیان فائرنگ کے تبادلے اور دھماکوں کے دوران فلسطینی بندوق برداروں کی گولیوں کا نشانہ بنی ہوں اس واقعہ کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ جبکہ فلسطینی صدر محمود عباس کا کہنا ہے کہ وہ اس جرم کے عملدرآمد کا ذمہ دار براہ راست اسرائیلی حکومت کو سمجھتے ہیں۔

مزید پڑھیں: اسرائیلی فورسزکی فائرنگ سے الجزیرہ کی خاتون صحافی شہید

الجزیرہ نیوز چینل نے عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ اسرائیلی افواج کی جانب سے صحافی شیریں ابو اکلح کے میڈیا کوریج کے دوران جان بوجھ کر اور ہدف بناتے ہوئے صریحاً قتل اور عوام کو خبریں پہنچانے والے صحافیوں کے فرائض کے لئے رائج عالمی قوانین کی خلاف ورزی کی شدید مذمت کرے ۔

خاتون صحافی شیریں ابو اکلح نے یروشلم کے ایک مسیحی گھرانے میں آنکھ کھولی اور پروان چڑھیں انہوں نے اردن کی یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی سے فن تعمیر میں ڈگری کے بعد اردن کی یرموک یونیورسٹی سے صحافت میں اعلٰی تعلیم حاصل کی تھی اور قطر میں قائم الجزیرہ نیوز چینل میں شمولیت سے قبل وہ UNRWA، صدائے فلسطین ریڈیو، عمان سٹیلائٹ چینل، مفتاح فاؤنڈیشن اور مونٹی کارلو ریڈیو میں بھی خدمات انجام دیتی رہی تھیں۔

نوٹ: ادارے کا تحریر سے متفق ہونا ضروری نہیں، یہ بلاگ مصنف کی اپنی رائے پر مبنی ہے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *