متاثرہ ماں سے نومولود میں کرونا وائرس منتقل ہونے کے امکانات کم، تحقیق

کراچی: () ڈاکٹر پنجوانی سینٹر برائے مالیکیولر میڈیسن اور ڈرگ ریسرچ، جامعہ کراچی کے تحت کرونا وائرس(SARS-CoV-2)پر ہونے والے جامع تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ کرونا وائرس سے متاثرہ ماں سے نومولود بچوں میں وائرس منتقل ہونے کے امکانات نہ ہونے کے برابرہوتے ہیں، یہ تحقیق دراصل زچّہَ سے نومولود بچوں میں کرونا وائرس کی منتقلی کے رجحان پر کی گئی ہے۔

بین الاقوامی مرکز برائے کیمیائی و حیاتیاتی علوم (آئی سی سی بی ایس) جامعہ کراچی کے ترجمان نے پیر کو ایک بیان میں کہا ہے متعلقہ تحقیق نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف وائرولوجی جامعہ کراچی میں زینب پنجوانی میموریل اسپتال کے تعاون سے کی گئی جبکہ جے ایس بینک نے اس تحقیق کی مالی معاونت کی۔

آئی سی سی بی ایس جامعہ کراچی کے سربراہ اور کامسٹیک کے کوارڈینیٹر جنرل پروفیسر ڈاکٹر محمد اقبال چوہدری نے پیر کو متعلقہ ریسرچ ٹیم سے ملاقات کے دوران ماہرین کی تحقیقی کوششوں کی تعریف کی۔

مزید پڑھیں: ڈپٹی سپیکر زاہد اکرم درانی کی وزیر اعظم شہباز شریف سے ملاقات

بین الاقوامی مرکز کے ترجمان نے کہا ہے اس تحقیق میں 18 مارچ سے 31 دسمبر تک140حاملہ خواتین کو رجسٹرڈ کرکے اُن کے کرونا ٹیسٹ کیے گئے، ان خواتین میں اکثریت کا تعلق کراچی کے ضلع وسطی اور شرقی سے تھا، ان خواتین کو کرونا وائرس کی مختلف لہروں کے دوران سائینسی بنیادوں پر پرکھا گیا۔

رجسٹرڈ خواتین میں ہلکی اور درمیانے درجے کے انفیکشن سے متعلق آثار پائے گئے جبکہ شدید لہروں کے درمیان بھی کسی خاتوں میں انتہائی درجے کا انفکیشن نہیں پایا گیا، اس پورے عمل کے دوران انفیکشن کے ساتھ اور اس کے بغیر خواتین میں یکساں کلینکل علامتیں ظاہر ہوئیں۔

مزید پڑھیں: ای سی سی نے آٹےکا 20 کلوکا تھیلا 150 روپے سستا کرنےکی منظوری دیدی

تحقیق کے دوران یہ بات بھی سامنے آئی کہ بچوں کی پیدائش کے لئے آپریشن، حمل کا گرنا، وقت سے پہلے پیدائش اور امواتِ زچگی میں کرونا انفیکشن باعثِ خطرہ نہیں ہے۔ تحقیق میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ پیدائش کے بعد نومولود بچوں میں فوری طور پر وائرس کی تشخیص نہیں ہوتی، جبکہ اینٹی باڈیز ضرور منتقل ہوتی ہیں۔

زچہ کو اگر ویکسین لگا ہوا ہے تو اس کی مدد سے وائرس بچوں میں منتقل نہیں ہوپاتا۔ وائرس سے متاثرہ ماں خصوصی توجہ درکار ہوتی ہے کیونکہ دیکھا گیا ہے کہ پیدائش کے سات روز بعد بچوں میں وائرس منتقل ہوا ہے۔ واضح رہے کہ جنوبی ایشیائی عوام پر یہ پہلے سب سے منظم تحقیق ہے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *