مفتی سردار صاحب حقانی کی شہادت اور ہماری سادگی

تحریر: محمد رضوان عزیز

خیبرپختونخوا کے معروف عالم دین اور ختم نبوت کے خادم مفتی سردار صاحب حقانی رحمہ اللہ کی روڈ حادثہ میں ہونے والے شہادت پر اٹھنے والے سوالات اگرچہ اپنی جگہ وزن رکھتے ہیں لیکن کہیں ایسا تو نھیں کہ ہمارے علماء کرام اور دین متین کی خدمت میں دن رات مصروف دوست اپنی حفاظت سے بھی غافل ہیں ؟

توکل علی اللہ کا یہ مطلب ہم نے کیوں لے لیا کہ ہمیں اپنی سیکیورٹی کے حوالے سے کچھ بھی اہتمام نھیں کرنا ۔اگر ہمارے معروف لوگ اس حوالے سے چند امور کا لحاظ کر لیں تو امید ہے ان شاءاللہ سانحات کی شرح کم ہو جائے گی اگرچہ قضاء قدر کا معاملہ اٹل ہے مگر بعض معلق تقادیر ہماری تدابیر سے بھی تو جڑی ہوئ ہوتی ہیں ۔

چند احتیاطی تدابیر جن سے ہم بہت زیادہ غفلت کا شکار ہیں خدارا ان تدابیر کو ہر معروف اور غیر معروف شخص اختیار کرنے کی کوشش کرے یہ بیس تجاویز ان شاءاللہ ہمارے لیے باعث خیر ہوں گی

مزید پڑھیں:ای او بی آئی کے اعلیٰ افسران عید تعطیلات کے بعد سے بدستور غیر حاضر

ہماری کوتاہیاں

1-اپنے ہر سفر کا سٹیٹس لگانا اور ہر ایک کو اپنے سفری شیڈول سے آگاہ کرنا

2-ہر تفریحی مقام یا وی آئ پی ہوٹل اور بڑی شخصیت کے ساتھ سیلفی بنانا اور تازہ ترین اپڈیٹ دینا کہ میں اسوقت کہاں ہوں

3-بلاوجہ اپنی شخصیت کو حساس بنانا اور ایسے لوگوں سے مراسم رکھنا جو کسی بھی درجے میں ریاست کی نظر میں مجرم ہیں

4-ہر فیس بکی فرینڈ پر اعتماد کرنا اور راستے سے گزرنے کا پورا پلان بتلا کر بلکہ اس کی دعوت بھی قبول کرلینا جس کی مثال مولنا ناصر مدنی صاحب کا واقعہ ہے

5-اسٹیج پر مجمع کی نعرہ بازی اور قدم بڑھاؤ قائد کے آپشن کو قبول کر کے واقعی قدم بڑھا دینا

6-جرات مند اور مرد جری کہلوانے کے شوق میں بلاوجہ کسی نہ کسی کو ایسی تنقید کا نشانہ بنانا جس کے ثمرات کڑوے ہوں

7-راستے میں چلتے ہوئے اپنے موبائل کی جی پی ایس آن رکھنا کہ آپ کی لائیو لوکیشن سے آپ کو ٹریس کیا جاسکے ۔

8-شارٹ کٹ کے لیے یا تیل کی بچت کیلئے غیر معروف راستوں کا استعمال کرنا

9-سستا ڈرائیور رکھنا یہ اپنے ہی شاگرد کو ڈرائیور بنانا جس کا فوکس صرف بحفاظت ڈرائیونگ تک ہوتا ہے ارد گرد گاڑیوں کی نقل وحرکت تعاقب اور کسی بھی ایمرجنسی سے نمٹنے کیلئے ہوش وحواس کا برقرار رکھنا ہنگامی حالت میں متبادل راستوں کا استعمال اور ان کی واقفیت ان سب سے وہ ڈرائیو یا یوں کہیے مرید صادق نا آشنا ہوتا ہے ۔

مزید پڑھیں:سندھ حکومت کا کراچی میں پانی چوری کیخلاف بھرپور ایکشن کا فیصلہ

10-سفر سے قبل تمام خدام مریدین و متوسلین سب کو لمحہ بہ لمحہ کی خبر دینا کہ حضرت اب یہاں پہنچے ہے یہاں سے نکل چکے ہیں یعنی مسنون رازداری کا ذرہ برابر اہتمام نہ ہونا ۔

11-سفر سے قبل اپنی گاڑی کے تکنیکی چیک اپ پانی بریک انجن آئل ٹائر وغیرہ کو نہ دیکھنا اور محض حسن ظن پر ہی گاڑی چلائے رکھنا (۔یہ مرض بندہ ناچیز محمد رضوان عزیز میں بھی موجود ہے ۔راقم )

12-گاڑی کے ٹائر انجن آئل اور ٹیونگ میں اپنی نگرانی اور ذاتی خرچ کی بجائے مریدین کی جیب اور خدمت پر کلی اعتماد کرنا جس کی قیمت بعد میں اپنی جان سے چوکانی پڑے

13-ریاست سے اپنے علماء کی حفاظت کیلئے قانونی لائسنس حاصل کر کے بہترین محافظ رکھنے کا اہتمام نہ کرنا اور اس کو اپنی بزرگی کے منافی سمجھنا

14-کسی بھی سانحہ کے بعد بلا تحقیق ریاستی اداروں کو طعن و تشنیع کا نشانہ بنا کر انہیں اپنا فریق بنا لینا اور بعد میں پھر انہی سے شفاف تحقیقات کا مطالبہ کرنا۔

15-حساسیت اور عدم برداشت کی اس وادی تیہ میں کسی بھی سامری وقت کا غیرمحتاط تذکرہ کرتے ہوئے اپنی سب رفقاء مجلس کو اپنا ہی سمجھنا

16-اپنے استاذ شیخ یا خطیب کو کسی بھی اجنبی کو مسئلہ بتانے یااس کا مسئلہ سننے کیلئے تنہا چھوڑ دینا اور ساتھ ایک چوکس اور قوی الجثہ شخص کو نہ رکھنا جو کسی بھی حادثہ کو کنٹرول کر سکے

17-ہر ملنے والے کو بلا تحقیق و تفتیش اپنے بڑوں تک رسائ دے دینا چاہے اس کا ۔مسئلہ کتنا ہی سطحی قسم کا ہو ہم فورا اعلی حکام یعنی اکابرین تک اسے لیجاتے ہیں

مزید پڑھیں: شدت پسندوں کے حملے میں گیارہ مصری فوجی ہلاک

18-اپنی ذات کے متعلق اگر محسوس ہو کہ معاشرے میں حساسیت بڑھ رہی ہے تو کچھ عرصہ کیلئے اسٹیج کی دنیا سے الگ ہو جائے جب تک معاملات نارمل نھیں ہوتے فیا لیت العلماء یومئذ تحامقو(کاش کے اس دن علماء انجان بن جائیں) پر عمل کر لیں

19-آپ جس شعبے کے اسپیشلسٹ عالم یا خطیب ہیں اپنی گفتگو کو اپنے عنوان میں ہی بند رکھیں مجمع کے نعرے اور جذبات دیکھ کر اپنی تقریر کا رخ تبدیل نہ کریں

20-اور سب سے اہم بات کہ سفر پر جانے سے قبل دو نفل ادعیہ ماثورہ اور دیگر دعاؤں کا بھر پور اہتمام کریں اور اپنے والدین بیوی بچوں اور بہنوں وغیرہ میں سے جو بھی سردست گھر میں ہو اس سے کہیے کہ وہ آیت الکرسی پڑھ کر آپ پر دم کرے اور آپ پڑھ کر ان پر دم کرو حضرت مفتی رفیع عثمانی صاحب مدظلہ نے کسی جگہ لکھا تھا کہ یہ عمل جانبین کیلئے باعث حفاظت اور باعافیت دوبارہ ملاقات کا سبب بنے گا ان شاءاللہ

یہ چند وہ کوتاہیاں ہیں جن میں ہم لوگ دانستہ یا نادانستہ مبتلاء ہیں اور بالخصوص موبائل فوٹو گرافی اور ہر لمحہ اپنے آپ کو نمایاں رکھنے کی خواہش آج زہر قاتل بنی ہوئ ہے

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا
انجحوحوائجکم بالکتمان۔او کماقال۔

اپنی ضرورتیں چھپا کر پوری کیا کرو ہر بات ہر وقت نشر کیلئے نھیں ہوتی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے سفر کے کیسے چھپا کر رکھا کہ آخر تک اپنی سمت سفر بھی معلوم نہ ہونے دی ۔ مفتی صاحب رحمہ اللہ کو اللہ غریق رحمت فرمائے انہون نے تو کوئی سٹیٹس سفر کے حوالے سے نھیں لگایا ہوگا کہ وہ جتنے مصروف تھے ایسے فضول کام کی انہیں کہاں فرصت مگر ارد گرد والے ساتھ چلنے والے سب ہی صاحب بصیرت ہونے چاہیں۔۔۔۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *