ای او بی آئی کے اعلیٰ افسران عید تعطیلات کے بعد سے بدستور غیر حاضر

ای او بی آئی کے اعلیٰ افسران عید تعطیلات کے بعد سے بدستور غیر حاضر

کراچی: ای او بی آئی کے چیئرمین شکیل احمد منگنیجو کے اچانک تبادلہ کے بعد اعلیٰ افسران مادر پدر آزاد ہوگئے، عیدالفطر کی تعطیلات ختم ہونے کے باوجود ای او بی آئی ہیڈ آفس میں بعض اعلیٰ افسران کی بڑی تعداد ڈیوٹی سے غائب ہیں، جس سے ادارہ میں کام کاج بالکل ٹھپ اور نظم و نسق شدید متاثر ہونے کے باعث مزرگ، معذور اور بیوگان بیمہ دار اپنی جائز پنشن کے لئے رل گئے ہیں۔

صدقہ ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ پچھلے دنوں ای او بی آئی کے چیئرمین شکیل احمد منگنیجو کے اچانک تبادلہ کے بعد ای او بی آئی کے اعلیٰ افسران مادر پدر آزاد ہوگئے ہیں اور تب سے چیئرمین ای او بی آئی کا عہدہ بھی خالی پڑا ہوا ہے اور ادارہ کے چیئرمین کی عدم موجودگی کے اس سنہری موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ادارہ کے اعلیٰ افسران عیدالفطر کی تعطیلات ختم ہو جانے کے باوجود بھی تاحال اپنی ڈیوٹی سے مسلسل سے غیر حاضر ہیں۔

اگرچہ وفاقی حکومت نے 2 مئی تا 5 مئی عیدالفطر کی چار روزہ تعطیلات کا اعلان کیا تھا، لیکن بتایا جاتا ہے کہ اس وقت خلاف ضابطہ طور پر ڈیپوٹیشن پر تعینات ای او بی آئی کی سب سے سینئر افسر شازیہ رضوی، ڈائریکٹر جنرل ایچ آر ڈپارٹمنٹ ہے جو چیئرمین صاحب کے تبادلہ کی خبر سنتے ہی گزشتہ بدھ 27 اپریل سے تاحال ہیڈ آفس سے غیر حاضر ہیں۔ جبکہ شازیہ رضوی کو ماضی کی طرح اس بار بھی ای او بی آئی کا قائم مقام چیئرمین بنائے جانے کی خبر بھی گردش کررہی ہے۔ جس پر ای او بی آئی کا اللّٰہ ہی حافظ ہے۔

اسی طرح خاتون ڈائریکٹر جنرل ایچ آر ڈپارٹمنٹ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ادارہ کے ہیڈ آفس سمیت ملک بھر کے بی اینڈ سی اور ریجنل آفسوں کے دیگر اعلیٰ افسران بھی عید الفطر کے بعد بلا اطلاع ڈیوٹی سے غائب ہیں ۔ جن میں سے ایک اعلیٰ افسر خالد نواز مروت (MBA ڈگری فیم)، ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل ایچ آر ڈپارٹمنٹ کا نام قابل ذکر ہے جس کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ عیدالفطر کی تعطیلات ختم ہونے کے باوجود تاحال اپنی ڈیوٹی سے غیر حاضر ہے ۔ جس کے باعث پورے ادارہ خصوصاً ہیڈ آفس کے روز مرہ دفتری امور بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ طویل چھٹیوں پر رہنے کے عادی افسر خالد نواز مروت نے آبائی علاقہ میں عید الفطر منانے کے لئے دس روز کی چھٹی طلب کی تھی لیکن چیئرمین صاحب نے اس کی دس روز کی چھٹی کی درخواست مسترد کرتے ہوئے اس کی صرف دو دن کی چھٹی منظور کی تھی۔

کیونکہ ای او بی آئی کے اصول پرست اور دیانتدار چیئرمین شکیل احمد منگنیجو نا صرف خود نہایت ذمہ داری سے اپنے فرائض انجام دیا کرتے تھے بلکہ دفتری اوقات کار ختم ہو جانے کے بعد بھی رات گئے تک آفس میں بیٹھ کر تمام اہم امور اور فائلیں نمٹا کر گھر جایا کرتے تھے۔ بلکہ وہ ادارہ کے ماتحت افسران کو بھی اپنے فرائض ذمہ داری کے ساتھ انجام دینے کی تلقین کیا کرتے تھے۔

چیئرمین شکیل احمد منگنیجو نے اپنی مختصر مدت کے دوران اپنی ذاتی دلچسپی اور کوششوں کی بدولت ادارہ کے ملازمین کے دیرینہ مسائل حل کر دیئے تھے۔ جن میں وفاقی حکومت کے اعلان کردہ 25 فیصد اور 15 فیصد ڈسپیریٹی الاؤنس اور ادارہ کے متوفی ملازمین کے 50 یتیم بچوں کی تقرری کے معاملہ کو بھی بورڈ آف ٹرسٹیز سے منظور کرایا تھا۔

شکیل احمد منگنیجو کے ان مثبت اقدامات پر ای او بی آئی کے ملازمین شکیل احمد منگنیجو کے بیحد شکر گزار اور ان کے لئے دعاگو ہیں۔

لیکن اس دوران ان کے ای او بی آئی میں کی جانے والی اصلاحات اور پنشن اسکیم کو مزید بہتر بنانے کے لئے ان کے متعدد منصوبہ ادھورے رہ گئے ہیں اور چیئرمین صاحب کا اچانک تبادلہ ہوگیا اور اب انہیں وزیر اعظم آفس اسلام آباد میں ایڈیشنل سیکریٹری تعینات کردیا گیا۔

جس پر خالد نواز مروت نے اس صورت حال سے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے بدعنوان اور جعلساز خاتون افسر نزہت اقبال، ڈائریکٹر ایچ آر ڈپارٹمنٹ کی ملی بھگت سے اپنی دو دن کی منظور شدہ چھٹی کی درخواست اپنے پاس دبالی تھی اور خود عیدالفطر منانے چھٹی پر چلا گیا تھا۔ لیکن چیئرمین کے اچانک تبادلہ اور ان کی عدم موجودگی سے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے وہ عید الفطر کی تعطیلات ختم ہونے کے باوجود تاحال اپنی ڈیوٹی سے غیر قانونی طور پر غیر حاضر ہے۔

واضح رہے کہ ای او بی آئی میں 2007ء اور 2014ء کے بیچ سے تعلق رکھنے والے انتظامیہ کے لاڈلے اور انتہائی چالاک و جعلساز افسران کا یہ وطیرہ رہا ہے کہ وہ اپنی آؤٹ اسٹیشن چھٹی کی باقاعدہ درخواست منظور کرائے بغیر محض اعلیٰ افسران کو فون پر مطلع کرکے اچانک چھٹیوں پر اپنے آبائی شہر چلے جاتے ہیں یا پھر دکھاوے کے طور پر اپنی چھٹیوں کی درخواست ڈائریکٹر جنرل ایچ آر ڈپارٹمنٹ یا چیئرمین صاحب کے پاس جمع کراتے ہیں اور مقررہ طریقہ کار کے مطابق اپنی ان چھٹیوں کا اندراج آفس ڈائری میں کرائے بغیر بالا ہی بالا اور غیر قانونی طور پر منظور شدہ چھٹی کی درخواست اپنی ذاتی تحویل میں رکھ کر چھٹیاں منانے اپنے گھروں کو چلے جاتے ہیں۔

اس گھناؤنے کھیل میں خاتون افسر نزہت اقبال، ڈائریکٹر ایچ آر ڈپارٹمنٹ کا کردار قابل ذکر ہے جو اپنے ذاتی مفادات کے خاطر انتہائی بد نیتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے طویل چھٹیوں پر جانے والے ان بااثر اور پسندیدہ افسران کے نام کے سامنے خانہ کو سرخ پین سے on leave لکھنے کے بجائے جان بوجھ کر ان کا خانہ خالی رکھتی ہے اور پھر یہ افسران اپنی چھٹیاں ختم ہو جانے کے بعد ڈیوٹی پر آکر طریقہ کار کے مطابق joining report جمع کرانے کے بجائے چھٹیوں کی اس درخواست کو پھاڑ کر ردی کی ٹوکری میں پھینک دیتے ہیں اور پھر موقع غنیمت جان کر نزہت اقبال، ڈائریکٹر کی ملی بھگت سے ڈپارٹمنٹ کے حاضری رجسٹر میں اپنی چھٹیوں کے دنوں کی بھی حاضری لگا لیتے ہیں۔ اگر ایچ آر ڈپارٹمنٹ کے حاضری رجسٹر کی صحیح معنوں میں جانچ پڑتال کی جائے تو ساری حقیقت سامنے آجائے گی

ای او بی آئی کے بااثر اور طاقتور افسران کی اس جعلسازی کے باعث مقررہ طریقہ کار کے مطابق ان افسران کی ان طویل چھٹیوں کا ان کی Leave file میں ریکارڈ نہیں رکھا جاتا اور اس طرح یہ جعلساز اور بدعنوان افسران آپس کی ملی بھگت سے اپنی سالانہ چھٹیوں کی حد ختم ہو جانے اور without pay ہو جانے کے باوجود غریب محنت کشوں کے پنشن فنڈ سے مال مفت دل بے رحم کی طرح بھاری تنخواہوں اور پرکشش مراعات میڈیکل، سرکاری گاڑی معہ سینکڑوں لٹر پٹرول، ڈرائیور کی تنخواہ، ٹی اے ڈی اے اور بنیادی تنخواہ کے 20 فیصد کے مساوی ایڈیشنل الاؤنسوں سے پوری طرح لطف اندوز ہو رہے ہیں۔

اگر ایچ آر ڈپارٹمنٹ کا کوئی چھوٹا ملازم ان بااثر افسران کی اس غیر قانونی پریکٹس پر آواز اٹھائے تو اسے ایچ آر ڈپارٹمنٹ سے فوری طور پر بیدخل کردیا جاتا ہے بدعنوان اور جعلساز افسران کی جانب سے حاضری رجسٹر میں ہیرا پھیری کا یہ غیر قانونی سلسلہ کافی عرصہ سے جاری و ساری ہے لیکن اس معاملہ میں انتظامیہ مصلحت آمیز رویہ اختیار کرتے ہوئے چشم پوشی کا شکار ہے۔

بتایا جاتا ہے کہ ہیڈ آفس میں ایچ آر ڈپارٹمنٹ کے اعلیٰ افسران کی جانب سے غیر قانونی طور پر مسلسل ڈیوٹی سے غائب رہنے کے باعث ہیڈ آفس سمیت دیگر آفسوں اور ڈپارٹمنٹ کے عید الفطر منانے کے لئے آؤٹ اسٹیشن جانے والے بعض اعلیٰ افسران بھی اپنی اپنی ڈیوٹی سے تاحال غیر حاضر ہیں۔ جن میں 2014ء بیچ سے تعلق رکھنے والا بااثر افسر محمد علی نامی ڈائریکٹر فنانس اینڈ اکاؤنٹس قابل ذکر ہے۔

ای او بی آئی کی انتظامیہ کے بدعنوان اعلیٰ افسران کے اس غیر ذمہ دارانہ رویہ اور لاپرواہی کے باعث ہیڈ آفس سمیت دیگر آفسوں میں سناٹا چھایا ہوا ہے اور اس صورت حال کی وجہ سے عیدالفطر کی چھٹیاں ختم ہوتے ہی اپنی ڈیوٹی پر واپس آجانے والے دیگر فرض شناس افسران اور ملازمین کی شدید حوصلہ شکنی بھی ہورہی ہے اور ادارہ میں رائج اس دوہری پالیسی اور امتیازی سلوک کے باعث ان میں سخت احساس محرومی پایا جاتا ہے۔

یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ مارچ 2020ء سے ای او بی آئی میں خلاف ضابطہ طور پر ڈیپوٹیشن پر تعینات خاتون افسر شازیہ رضوی کی جانب سے ڈائریکٹر جنرل ایچ آر ڈپارٹمنٹ کا چارج سنبھالنے کے بعد ای او بی آئی میں ہر قسم کی بدانتظامی اور بدعنوانیاں عروج پر پہنچ چکی ہیں۔

شازیہ رضوی ای او بی آئی میں ایک پارٹ ٹائم افسر کہلاتی ہیں جو صرف آدھا دن دفتر میں موجود ہوتی ہیں اور آئے دن مختلف حیلے بہانوں سے ڈیوٹی سے غائب رہتی ہیں۔ جس کے باعث پورے ای او بی آئی میں افسران کی حاضری اور دیگر دفتری امور کی انجام دہی کا نظم ونسق بری طرح تباہ ہو چکا ہے۔

واضح رہے کہ ماضی میں ای او بی آئی ہیڈ آفس میں لاکھوں روپے کی لاگت سے ملازمین کے لئے بائیو میٹرک حاضری سسٹم کی تین مشینیں لگائی گئی تھیں ۔ لیکن کووڈ 19 کے بہانے لاکھوں روپے کی لاگت سے خریدی گئی ان بائیو میٹرک حاضری مشینوں پر حاضری لگانے کا سلسلہ بالکل ختم کردیا گیا تھا۔

لیکن اب کووڈ 19 کی وباء کے خاتمہ کے باوجود ڈائریکٹر جنرل ایچ آر ڈپارٹمنٹ شازیہ رضوی کی عدم دلچسپی اور غفلت کے باعث حاضری کے لئے ان بائیو میٹرک حاضری مشینوں کا استعمال مستقل طور پر بند کردیا گیا ہے اور ان کی مناسب دیکھ بھال اور سروس نہ ہونے کے باعث یہ تینوں بائیو میٹرک مشینیں تیزی سے ناکارہ ہو رہی ہیں اور اب ای او بی آئی کا حاضری سسٹم دوبارہ پرانے حاضری رجسٹروں پر چل رہا ہے جس میں جعلسازی کرنا ان افسران کے لئے نسبتاً آسان ہوتا ہے۔

اس سلسلہ میں ایچ آر ڈپارٹمنٹ جیسے اہم ڈپارٹمنٹ کا حاضری رجسٹر شازیہ رضوی، ڈائریکٹر جنرل کی ایک انتہائی لاڈلی، ایم اے اردو کی غیر متعلقہ ڈگری اور دیہی سندھ (ضلع دادو) کے ڈومیسائل کی حامل اور 2017ء میں پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف منیجمنٹ ( PIM ) کراچی کے زیر اہتمام اگلے گریڈ میں ترقیوں کے لئے منعقدہ ٹریننگ کورس میں فیل ہو جانے کے باوجود ایچ آر ڈپارٹمنٹ کے چند مہربان افسران کی سرپرستی میں ڈپٹی ڈائریکٹر کے عہدہ پر ترقی پانے والی انتہائی بدعنوان خاتون افسر نزہت اقبال، ڈائریکٹر کی ذاتی تحویل میں رہتا ہے۔

جو نا صرف شازیہ رضوی کی آشیرباد سے خود بھی مختلف حیلے بہانوں سے ہفتے میں کم از کم دو تین چھٹیاں کرنے کی عادی ہے بلکہ ڈائریکٹر ایچ آر ڈپارٹمنٹ جیسے ذمہ دار عہدہ پر فائز رہنے کے باوجود وہ روزانہ خود لیٹ آفس آتی ہے اور موقع غنیمت جان کر وقت مقررہ سے قبل ہی گھر چلی جاتی ہے لیکن اس بااثر خاتون افسر سے کوئی باز پرس کرنے والا نہیں ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ بدعنوان خاتون افسر نزہت اقبال، ڈائریکٹر اپنے اختیارات کا بھرپور طور سے ناجائز استعمال کرتے ہوئے غیر قانونی طور پر ایچ آر ڈپارٹمنٹ کے حاضری رجسٹر میں نہ صرف اپنی ان غیر حاضریوں کو حاضری میں تبدیل کر لیتی ہے بلکہ اپنی پسند نا پسند کی بنیاد پر روزانہ تاخیر سے آنے والے عادی افسران اور بلااجازت طویل چھٹیاں گزار کر آنے والے مخصوص افسران کو ان کی چھٹیوں کے دنوں کی بھی حاضری لگانے کے پورے پورے مواقع فراہم کرتی ہے۔

جو ایک انتہائی غیر قانونی عمل اور قانون کے مطابق مستوجب سزا ہے۔ جس کے باعث ایچ آر ڈپارٹمنٹ کے متعدد افسران آپس کی ملی بھگت سے اپنی سالانہ چھٹیاں ختم ہو جانے کے باوجود باقاعدگی سے ماہانہ تنخواہیں اور بھاری الاؤنسز بھی حاصل کر رہے ہیں۔

اس تشویشناک صورت حال کے باعث ای او بی آئی کے اہم ترین ڈپارٹمنٹ، ایچ آر ڈپارٹمنٹ میں اندھیر نگری چوپٹ راج قائم ہے۔ جس سے پورے ادارہ کے ریجنل آفسوں کا نظم ونسق بری طرح متاثر ہو رہا ہے اور ای او بی آئی کے بوڑھے معذور اور بیوگان بیمہ دار جن کو فوائد کی فراہمی کی غرض سے یہ فلاحی ادارہ قائم کیا گیا تھا وہ مجبور اور بے بس طبقہ اپنی جائز پنشن کے حصول کے لئے کئی کئی ماہ سے ریجنل آفسوں کے دھکے کھانے پر مجبور ہیں۔ لیکن ان بدعنوان اور بااثر افسران سے جوابدہی کرنے والا کوئی نہیں ہے۔

ای او بی آئی کے ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ ادارہ کے بدعنوان اور طاقتور اعلیٰ افسران کے سیاہ کرتوتوں، اختیارات کے ناجائز استعمال اور ملک کے غریب محنت کشوں کے پنشن فنڈ میں بڑے پیمانے پر غبن، لوٹ کھسوٹ اور بد انتظامیوں کی خبریں میڈیا کے ذریعہ منظر عام پر آنے کے بعد یہ مافیا سخت بوکھلاہٹ کا شکار ہے۔

صحافیوں اور شک کی بنیاد پر ادارہ کے فرض شناس اور بے گناہ افسران اور ملازمین کو دھونس و دھمکیاں دینے کے ساتھ ساتھ ای او بی آئی کی اس مافیا نے اپنی اصلاح کرنے کے بجائے ادارہ کے ریٹائرڈ بزرگ ملازمین کے خلاف بھی انتقامی کارروائیوں کا سلسلہ شروع کردیا ہے ۔ جو نا صرف اس قومی فلاحی ادارہ کی ترقی اور ترویج میں اپنی زندگی کا ایک بڑا حصہ قربان کر چکے ہیں بلکہ وہ آج بھی ای او بی آئی کے مفادات کے نگہبانی اور وفاداری کا دم بھرتے ہیں۔

ای او بی آئی پر قابض مفاد پرست ٹولے کی جانب سے اختیارات کے غلط استعمال، ای او بی آئی پنشن فنڈ میں میں سنگین بد انتظامیوں، غیر قانونی اقدامات اور بڑے پیمانے پر کرپشن کے معاملات پر تمام دستاویزی ثبوتوں کے ساتھ وزیراعظم پاکستان، وفاقی وزیر،وفاقی سیکریٹری اور چیئرمین ای او بی آئی کو حقائق سے آگاہ کرنے کی پاداش میں انتقامی کارروائی کے طور عوامی مرکز میں قائم ادارہ کے ریٹائرڈ اور بزرگ ملازمین کی ایسوسی ایشن ای او بی آئی ریٹائرڈ ایمپلائیز ویلفیئر ایسوسی ایشن آف پاکستان رجسٹرڈ (REWA) کو پرائماکو کے ایک بدعنوان افسر محمد سلیم کی جانب فوری طور ایسوسی ایشن کا دفتر خالی کرنے کا نوٹس جاری کیا گیا ہے۔ جبکہ ایسوسی ایشن کو یہ دفتر ماضی کے ایک چیئرمین بریگیڈیئر (ر) اختر ضامن کی جانب سے نے الاٹ کیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ ای او بی آئی کا ذیلی ادارہ پاکستان ریئل اسٹیٹ انوسٹمنٹ اینڈ منیجمنٹ کمپنی(PRIMACO) ایک غیر قانونی ادارہ ہے جو ملک کے غریب محنت کشوں کے پنشن فنڈ سے کروڑوں اور اربوں روپے کی بھاری رقوم وصول کرنے کے باوجود نہ تو اب تک کوئی میگا تعمیراتی پروجیکٹ مکمل کرسکا ہے بلکہ اس کمپنی میں بڑے پیمانے پر غبن اور لوٹ کھسوٹ کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ جس کی ایف آئی اے اور نیب میں تحقیقات جاری ہیں ۔ پرائماکو ای او بی آئی پر ایک زبردست مالی بوجھ بن کر رہ گیا ہے جس کے باعث اسے ای او بی آئی کا سفید ہاتھی بھی کہا جاتا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ پرائماکو کراچی آفس عوامی مرکز میں بھی لوٹ مار کا بازار گرم ہے۔ عمارت کی دیکھ بھال میں لاپرواہی اور غفلت کے باعث عوامی مرکز کی شاندار عمارت دن بدن شدید بدحالی کا شکار ہوتی جارہی ہے۔

پوری عمارت کی چھتیں، فلورز، دیواریں، لفٹیں، بجلی، پانی اور سیوریج کی لائینیں ناکارہ ہوچکی ہیں اور کرائے دار دکاندار اور آفسز پرائماکو کے لاکھوں روپے کے نادہندہ ہوگئے ہیں ۔ جن سے واجبات وصول کرنے والا کوئی نہیں ہے ۔ جس کے باعث عوامی مرکز کی انتہائی اہم اور بیش قیمت عمارت سخت خسارہ کا شکار ہے۔

جبکہ پرائماکو عوامی مرکز میں تعینات سید خورشید احمد شاہ کی سفارش پر بھرتی شدہ جنرل منیجر جنید احمد اور اسسٹنٹ منیجر محمد سلیم پرائماکو کے وسائل کی لوٹ کھسوٹ اور سنگین بدعنوانیوں میں ملوث ہیں اور وہ عوامی مرکز کے باہر اور اطراف میں غیر قانونی پارکنگ اور بھتہ خوری کے دھندے میں مصروف ہیں۔ جس پر پرائماکو ہیڈ آفس اسلام آباد میں تعینات سی ای او بریگیڈیئر (ر) طارق حسین مریدی کو فوری طور پر نوٹس لیتے ہوئے اس معاملہ کی تحقیقات کرانے اور ان افسران کے خلاف سخت کارروائی کرنے کی ضرورت ہے

ای او بی آئی کے ملازمین نے وزیراعظم میاں شہباز شریف، وفاقی وزیر ساجد حسین طوری اور وفاقی سیکریٹری محترم عشرت علی سے مطالبہ کیا ہے کہ اپنے فرائض سے غفلت برتنے والے اور سرکاری ریکارڈ میں جعلسازی کے مرتکب ہونے والے ای او بی آئی کے خود کو قانون سے بالاتر سمجھنے والے ان تمام اعلیٰ افسران کے Leave Record کی مکمل چھان بین کرکے ان کے خلاف سخت ترین کارروائی کی جائے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *