سندھ حکومت کا کراچی میں پانی چوری کیخلاف بھرپور ایکشن کا فیصلہ

سندھ حکومت کا کراچی میں پانی چوری کیخلاف بھرپور ایکشن کا فیصلہ

کراچی: وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے پانی چوری کے خلاف بھرپور آپریشن شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ شہر کے قلت والے علاقوں کو پانی فراہم کیا جاسکے۔

انہوں نے کہا کہ کے ڈبلیو ایس بی کو انتظامیہ سے لے کر پانی کی تقسیم تک اپنے پورے نظام میں بہترین پیشہ ورانہ طریقوں کو اپناتے ہوئے اپنی مجموعی کارکردگی کو بہتر بنانا ہوگا، ریونیو کی وصولی سے لے کر ریونیو کے وسائل میں اضافہ، لائن لاسز کو کم کرنا ہے تاکہ اس کے منصوبوں کو بروقت مکمل کیا جا سکے۔

مراد علی شاہ نے کہا کہ کے ڈبلیو ایس بی شہر کے لوگوں میں پانی کی پروڈیکشن، ترسیل اور تقسیم کا ذمہ دار ہے۔ لہذا اسے اپنے کام اور خدمات میں اپنی پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کرنا ہو گا۔ جمعہ کے دن وزیراعلیٰ ہاؤس میں منعقدہ اجلاس میں وزیر بلدیات سید ناصر حسین شاہ، وزیر محنت سعید غنی، ایڈمنسٹریٹر کراچی مرتضیٰ وہاب، چیف سیکریٹری سہیل راجپوت، وزیراعلیٰ کے معاون خصوصی وقار مہدی، چیئرمین واٹر بورڈ نجمی عالم، وزیراعلیٰ کے پرنسپل سیکریٹری فیاض جتوئی، سیکریٹری بلدیات نجم شاہ، سابق ایم ڈی واٹر بورڈ اسد اللہ خان، ایم ڈی واٹر بورڈ، چیف انجینئرز اور دیگر حکام نے شرکت کی۔

وزیر بلدیات سید ناصر شاہ نے وزیر اعلیٰ سندھ کو پانی کے نظام سے متعلق امور پر بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ کراچی شہر کو مجموعی طور پر 406 ایم جی ڈی پانی کی فراہمی ہوتی ہے جبکہ 1000 ایم جی ڈی کی طلب ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پانی کی تقسیم کا نیٹ ورک کئی دہائی پرانا ہے جس کی وجہ سے پانی کی تقسیم کا نظام متاثر ہو رہا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پانی کی فراہمی کیلئے بچھائے گئے پائپ پرانے اور بوسیدا ہوچکے ہیں جس کی وجہ سے پائپ لائن کے جوڑ سے کافی مقدار میں پانی ضایع ہوتا ہے۔

دستیاب پانی کی فراہمی کی تفصیلات بتاتے ہوئے وزیر بلدیات نے کہا کہ کے ڈبلیو ایس بی نے دھابیجی سے 450 ایم جی ڈی، حب سے 100 ایم جی ڈی اور گھارو سے 30 ایم جی ڈی پانی ملتا ہے اس طرح ہمارے پاس 580 ایم جی ڈی فراہم ہوتا ہے، جس میں سے 30 فیصد یا 174 ایم جی ڈی لائن لاسز میں ضائع ہو جاتا ہے یعنی 406 ایم جی ڈی شہر کے لیے دستیاب ہے۔ واضح رہے کہ شہر کی 25 ملین آبادی/ پانی استعمال کرنے والوں کے لیے فی کس 40 گیلن پانی کے حساب سے 1000 ایم جی ڈی بنتا ہے۔

سید ناصر شاہ کے مطابق بلک واٹر سپلائی سورس میں آخری اضافہ 2007 میں K-III پروجیکٹ کے ذریعے 100 ایم جی ڈی کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ دھابیجی، گھارو یا حب میں بجلی کے بریک ڈاؤن کا مسئلہ سپلائی میں فوری کمی کا نتیجہ بنتا ہے۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ ہر ضلع/ ٹاؤن میں پانی کی طلب میں سپلائی کے مقابلے میں دگنا اضافہ ہوا ہے۔ پانی کے مینز/پمپنگ اسٹیشنوں کے قریب صارفین اپنی ضرورت کا پانی کھینچتے ہیں، لیکن ٹیل اینڈرز یا ایلیویٹڈ علاقوں کے صارفین کو پانی کی کمی کی وجہ سے پانی نہیں مل رہا ہے۔

اس پر وزیر اعلیٰ سندھ نے وزیر بلدیات اور واٹر بورڈ کی ٹیم سے کراس سوال کرتے ہوئے کہا کہ جب شہر میں 594 ایم جی ڈی کی اتنی بڑی کمی ہے تو لوگ اسے کیسے پورا کر رہے ہیں۔

انہوں نے جواب دیا کہ پانی کے ٹینکر کے ذریعے گزارا کر رہے ہیں۔ اس پر وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ سسٹم میں پانی دستیاب ہے جہاں سے ٹینکرز پانی کی طلب کو پورا کرنے کے لیے سپلائی کر رہے ہیں۔

ناصر شاہ نے کہا کہ تمام غیر قانونی ہائیڈرنٹس کو ختم کر دیا گیا ہے اور صرف چھ قانونی ہائیڈرنٹس کام کر رہے ہیں۔ اس پر وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ ٹینکر پانی لانے کے لیے کینجھر یا دریائے سندھ نہیں جا رہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ واٹر بورڈ کے نظام سے پانی چوری کر رہے ہیں۔

سید مراد علی شاہ نے چیف سیکریٹری سندھ کو ہدایت کی کہ وہ شہر میں پانی چوری کے خلاف فیصلہ کن آپریشن شروع کرنے کے لیے رینجرز، پولیس اور دیگر متعلقہ اداروں کے ساتھ رابطہ کریں۔

انہوں نے کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ آپ [KWSB] ان صارفین کے خلاف کارروائی کریں جنہوں نے واٹر سپلائی کے پائپوں پر بھاری پمپ لگائے ہیں اور مین پائپ لائن سے پانی کا غیر قانونی کنکشن لگا رکھے ہیں۔

سید مراد علی شاہ نے واٹر بورڈ انتظامیہ کو ہدایت کی کہ وہ سسٹم میں مزید پانی شامل کرنے اور تقسیم کے نظام کو اپ گریڈ کرنے اور پرانی پائپ لائن کو نئے پائپ لائن سے تبدیل کرنے کی اسکیموں کو تیز کریں۔

انہوں نے کہا کہ 9.1 بلین روپے کی 65 ایم جی ڈی اضافی واٹر سپلائی اسکیم، حب کینال کی بحالی اور پی پی پی موڈ کے تحت 5 ایم جی ڈی ڈی-سیلینیشن پروجیکٹ کی تنصیب کے کام کو تیز رفتاری سے شروع کیا جائے۔

انہوں نے مزید کہا کہ کے ڈبلیو ایس بی کو اپنی خدمات، ریوینیو پیداوار، پورے آپریشن کو سنبھالنے کے لیے پیشہ ورانہ مہارت کے لحاظ سے اپنی کارکردگی کو بہتر بنانا چاہیے۔

وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ کے ڈبلیو ایس بی کے پانی کی تقسیم کا نظام اتنا خراب ہے کہ شہر کے کچھ علاقوں کو چوبیس گھنٹے پانی مل رہا ہے جبکہ دیگر کئی علاقے ہفتوں سے انتظار کر رہے ہوتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس نظام کو انصاف پسند بنانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کے ڈبلیو ایس بی کو ہدایت کی کہ وہ پانی کے ٹرنک مین لیول اور ٹاؤن ڈسٹری بیوشن نیٹ ورک پر پانی کی تقسیم کے لیے ایک زوننگ پلان تیار کرے تاکہ ٹیل اینڈ صارفین کو پانی فراہم کیا جا سکے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *