10 ماہ میں 39.3 بلین ڈالر کا تجارتی خسارہ معیشت کیلئے شدید نقصان دہ ہے: عرفان اقبال شیخ

10 ماہ میں 39.3 بلین ڈالر کا تجارتی خسارہ معیشت کیلئے شدید نقصان دہ ہے: عرفان اقبال شیخ

کراچی: ایف پی سی سی آئی کے صدر عرفان اقبال شیخ نے کہا ہے کہ پاکستانی معیشت تجارتی خسارے کی موجودہ سطح کے دباؤ کو برداشت کرنے کی صلا حیت نہیں رکھتی، جو کہ موجودہ مالی سال کے محض 10 ماہ یعنی جولائی 2021 تا اپریل 2022 کے دوران 39.3 بلین ڈالر ہو چکا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ اوسطاً تقریباً 4 بلین ڈالر فی ماہ بنتا ہے اور سال کے اختتام تک 50 بلین ڈالر تک پہنچ سکتا ہے، جس کی ہماری اقتصادی تاریخ میں اس سے پہلے کوئی مثال نہیں ملتی۔

عرفان اقبال شیخ نے اس بات پر زور دیا ہے کہ حکومت کو انڈسٹریلائزیشن، امپورٹ سبسٹی ٹیوشن، کم لاگت درآمدات کے لیے نئی درآمدی منڈیوں کی تلاش، آئی ٹی برآمدات اور سمال اینڈ میڈیم انٹر پرائزز (SMEs) میں ایکسپورٹ اورینٹڈ انڈسٹری کی حوصلہ افزائی اور سبسڈی دینا چاہیے۔

انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ کاروباری اداروں کے لیے علاقائی اور بین الاقوامی منڈیوں میں مسابقتی رہنے کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے کے لیے قرضوں تک رسائی کو قابل برداشت بنایا جانا چاہیے۔

صدر ایف پی سی سی آئی نے مزید کہاکہ اس سال امپورٹس میں اضافے کی شرح برآمدات میں اضافے کی شرح سے دوگنی رہی ہے اور اس کی وجہ سے ملک کے لیے قیمتی زرمبادلہ کمانے والے ایکسپورٹرز کی انتھک محنت رواں مالی سال میں امپورٹس میں بے پنا ہ اضا فے کی وجہ سے ماند پڑگئی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ ایکسپورٹرزکی سپورٹ کے لیے تیزی سے بڑے فیصلے کیے جائیں؛ کیونکہ اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر 10.5 بلین ڈالر دو ماہ کی امپورٹس کو بھی پورا کرنے کے لیے بھی کافی نہیں ہیں۔ جولائی 2021 تا اپریل 2022 کی مدت کے لیے درآمدات 65.5 ارب ڈالر رہی ہیں، جو کہ 20.8ارب ڈالر کا غیر معمولی اضافہ ظاہر کرتی ہیں۔

عرفان اقبال شیخ نے مزید کہا کہ سیاست کو ایک طرف رکھتے ہوئے یہ بات قابل غور ہے کہ حکومت پاکستان نے تخمینہ لگایا تھا کہ مالی سال2021-22 میں کل امپورٹس 55.2ارب ڈالر رہیں گیں، تاہم اس کے برعکس پاکستان نے صرف 10 ماہ میں 65.5 ارب ڈالر کی امپورٹس کی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس رجحان کا وسیع تر قومی مفاد میں اچھی طرح سے جائزہ لینے اور تجزیہ کرنے کی اشد ضرورت ہے اور ملک کی اکنامک سیکورٹی کو یقینی بنانے کے لیے اسٹریٹجک اقدامات کیے جانے چاہئیں۔

عرفان اقبال شیخ نے آگاہ کیا کہ ایکسپورٹرزنے رواں مالی سال میں بہت اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے، کیونکہ انہوں نے گذشتہ سال کی نسبت تقریباً 25 فیصد زیادہ ایکسپورٹس کی ہیں اور اگلے سال بھی ان کا یہی عزم ہے، بشرطیکہ حکومت کاروبار ی لاگت کو کم کرنے کے لیے ضروری اقدامات کرے، کاروبار کرنے کے ماحول میں مشکلات کو دور کرے، صنعتوں کو مناسب قیمتوں پربجلی اور گیس کی فراہمی کو یقینی بنائے، ایکسچینج ریٹ کو مستحکم رکھے اور اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت کے ساتھ بزنس فرینڈلی بجٹ پیش کیا جائے۔

صدر ایف پی سی سی آئی نے وضاحت کی کہ صرف ایکسپورٹس میں اضافے اور تجارتی خسارے کو کم کرنے ہی سے معیشت کو مستحکم بنا یا جا سکتا ہے، کیونکہ اس طر یقے سے ہی زرمبادلہ کے ذخائر میں پا ئیدار بنیادوں پر اضافہ کیا جا سکتا ہے، روپے کی قدر میں کمی کو روکا جا سکتا ہے، لاکھوں ملازمتیں پیدا کی جا سکتی ہیں اور سینکڑوں ارب روپے کے مزید ٹیکس اکٹھے کیے جا سکتے ہیں۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *