پاک سعودی رابطوں میں نئی پیش رفت کا انکشاف

تحریر: علی ہلال

اس نے انتہائی کڑوے قہوے گھونٹ لینے کے بعد فنجان کو ایک مخصوص زاوئے سے پکڑ لیا۔ سامنے بیٹھے مہمانوں پر نظر ڈالی اور ان کے تجزیوں پر تبصرہ کے بجائے ہلکی سی مسکراہٹ لبوں پر لاکر گویاں ہوئے۔ کہ یہ سب رجماً بالغیب ہے۔ سعودی عرب کو اس وقت پاکستان کی جتنی ضرورت ہے وہ مملکت خداداد پاکستان کی تاریخ میں پہلے کبھی نا تھی۔

سعودی عرب کو یقین ہوچکا ہے کہ ایران جوہری پروگرام کے اخری مراحل سے بھی آگے پہنچ چکا ہے۔ اوباما نے جس سیڑھی تک پکڑ کر ایرانی ایٹمی پرگرام کو پہنچادیا تھا ۔جوبائڈن نے وہیں سے دوبارہ انگلی پکڑ کر آگے کا سفر طے کرانا شروع کردیا ہے۔ مذاکرات کے نام پر امریکہ دنیا کو دھوکے میں رکھ کر ایران کو ڈھیل دیتے ہوئے جوہری پروجیکٹ کی تکمیل تک رسائی کا وقت فراہم کر رہا ہے۔

سعودی عرب کو اندازہ ہے کہ طہران کے اعلان کے بعد اس کے لئے حالات سازگار نہیں ہوں گے۔ یہی خوف ترکی کو بھی ستا نا شروع کرچکا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کل تک اخوان کے نام پر سیاست کرکے خلیجی ممالک سے بگاڑنے والے ترک صدر بھی کشاں کشاں سعودی عرب اور اس سے قبل متحدج امارات پہنچ گئے ہیں ۔

مزید پڑھیں: پرویز خٹک کی ہفوات شرمناک ہیں ، معافی مانگے، قاری محمد عثمان

اس نے سٹریٹ اور بروکن لہجے میں بات کو آگے بڑھاتے ہوئے بتایا کہ امریکی تیور سمجھ کر ہی ریاض سخت فیصلو ں کا آغاز کرنے پر مجبور ہوا ہے۔ امریکی ناراضگی مول لیتے ہوئے ریاض نے چین کے ساتھ ڈالر کے بجائے یوان میں چین کے ساتھ پٹرول معاہدہ کرنے کا رسک لے لیا ہے۔

سعودی عرب کے برادرانہ تعلقات پاکستان کیساتھ ہیں۔ پاکستانی عوام سے ہیں۔ یہ کبھی نہ ختم ہونے والے تعلقات ہیں۔ حکومت فوجی ہو یا سویلین۔ عمران کی ہو یا شریفوں کی۔ بس اتنی سی بات ہے کہ خان کے بعض مشکوک تعلقات سے سعودی عرب شدید ناخوش تھا۔

آپ کو یاد ہوگا 2018ء میں سعودی ولی عہد نے انٹرویو میں کہا تھا کہ ایران کے ایٹمی ہتھیار کے حصول کے ساتھ سعودی عرب بھی دیر نہیں کرے گا۔ بعد میں پاکستان کا دورہ کرکے ولی عہد نے خود کو پاکستان کا سفیر قرار دے دیا ۔ مگر خان کے عزایم کو جانتے ہوئے انہوں نے بھارت میں سرمایہ کاری کا اعلان کرکے سفارتی سیونگ کی ۔

2020ء میں امریکی جریدے نے دعوی کیا کہ چین نے سعودی عرب کے ساتھ ایٹمی ری ایکٹر کی تعمیر میں تعاون کیا ہے۔خان کے ایران، ترکی اور ملائشیا کی جانب جھکاو پر ہی سعودی عرب نے نہ صرف پاکستان سے اپنا قرض واپس لینے کا مطالبہ کیا بلکہ اسلام اباد کو اپنی ناراضگی کا احساس دلانے کے لئے اپنے آرمی چیف کو بھی نیو دہلی بھیج دیا۔ یہ بہت بڑا پیغام تھا۔ ناراضگی کا اظہار تھا۔

مزید پڑھیں: عامر لیاقت کی تیسری اہلیہ بھی طلاق کیلئے عدالت پہنچ گئی

26 اپریل کو سعودی عرب کے سابق سفیر برائے پاکستان نے بتایا کہ 70ء کی دہائی میں پاکستان کو بھارت کے مقابلے میں ایٹمی پروگرام میں سعودی عرب نے تعاون فراہم کیا تھا۔جس کے دوروز بعد پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف سعودی عرب کے سرکاری دورے پر پہنچ گئے۔ سعودی عرب کی قیادت نے پاکستانی وزیراعظم کا استقبال کیا اور دوطرفہ بات چیت ہوئی۔ کچھ شرانگیز قوتوں نے اس دورے کے اصل ہدف کو ناکام بنانے کے لئے کئی سازشیں کیں ۔ مسجد نبوی کے واقعہ کو بھی اسی تناظر میں دیکھا جارہا ہے۔

اطلاعات بھی یہی ہیں کہ سعودی اداروں نے پاکستان سے بھی اس معاملے کی انویسٹی گیشن کرنے کا مطالبہ کردیا ہے۔ جس پر پی ٹی آئی کے عناصر نے فوری طور پر معاملے کو اقوام متحدہ تک پہنچا دیا۔ انہیں معلوم ہے ۔اس معاملے میں سعودی عرب انوالو ہے۔ سعودی عرب ابھی ہم جنس پرستوں کے معاملے پر بھی عالمی ادارے کی مخالفت کرچکا ہے لہذا اقوام متحدہ ضرور پاکستان کے خلاف ایکشن لے گا۔

شہباز حکومت کے خلاف جاری غل غپاڑہ اگر چہ اندرونی سیاسی رسہ کشی کا نتیجہ ہے مگر اس کی آڑ میں کچھ عناصر اپنا الو سیدھا کرنے کے لئے کوشاں ہیں۔ اس راز سے خان کے بعض سابق مشیر اور قریبی افراد بھی بے خبر نہیں ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ وہ خان کا ساتھ دینے کے بجائے اب نئی حکومت کا ساتھ دیتے نظر آرہے ہیں۔

کیا اس کے اثرات آگلے الیکشن پر مرتب ہوسکیں گے ؟ اس سوال پر وہ پھر مسکرائے اور کچھ کہے بغیر دیوار پر لگے ہوئے خوبصورت اور دل کش سینری کو دیکھنے لگے جس میں صحراء میں اونٹوں کا ایک قافلہ گزر رہاتھا اور ڈوبتے سورج کی پیازی اور سنہری کرنیں ریت پر پڑ کر ماحول پر عجیب تصویر بنارہی تھیں۔

نوٹ: ادارے کا تحریر سے متفق ہونا ضروری نہیں، یہ بلاگ مصنف کی اپنی رائے پر مبنی ہے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *