*نفاذ قومی زبان : ہم کیا کریں؟ *

تحریر: محمد اسلم الوری

نفاذ قومی زبان کے لئے جدوجہد کرتے ہوئے کارکنان اور قائدین درج ذیل امور ذہن نشین رکھیں:

1۔اردو کسی خاص قوم، مذہب ،فرقہ یا علاقہ کی زبان نہیں۔ یہ اپنی علمی ثروت، ابلاغی صلاحیت اور لسانی خصوصیات کی بنا پر عالمی سطح پر اور خاص طور پر برعظیم کے اربوں افراد کے مابین باہمی رابطے کی سب سے بڑی اور سب سے موثر زبان ہے۔

2۔ اردو نے برعظیم میں استعمار سے آزادی اور تحریک پاکستان کو کامیاب بنانے میں ایک قوت محرکہ کا کردار ادا تھا اس لئے رفتہ رفتہ یہ مسلم ہند میں بسنے والے کروڑوں مسلمانوں کی قومی زبان بن گئی۔

3۔ پاکستان کی بانی جماعت مسلم لیگ کا قیام بھی 1906ء میں ڈھاکہ میں منعقدہ اردو ڈیفنس کونسل کے اجلاس میں عمل میں لایا گیا تھا۔

4۔قیام پاکستان سے آج تک بننے والے تمام دساتیر میں اردو کو قومی زبان قراردیا گیا اور عوام سے اس کھ بطور سرکاری زبان رائج کرنے کا بار بار عہد کیا گیا۔

5۔ 1973ء میں بننے والے متفقہ آئین پاکستان کی دفعہ 251 کی رو سے قومی زبان اردو کو ریاست کی سرکاری زبان قرار دیا گیا اور 1988ء تک پورے ملک میں اس کے مکمل نفاذ کا عہد کیا گیا۔

6۔حکومت پاکستان کی آئین پاکستان سے مسلسل روگردانی اور قومی زبان کو سرکاری زبان نہ بنانے کے خلاف 27 سال مسلسل قانونی چارہ جوئی کے نتیجہ میں آخر کار عدالت عظمی پاکستان نے جسٹس جواد ایس خواجہ کی سربراہی میں 8 ستمبر 2015ء کو اپنے تاریخی فیصلہ میں اسے عوام کے بنیادی حقوق کا مسئلہ قرار دیتے ہوئے حکومت پاکستان کو فوری طور پر بلاتاخیر اور پوری قوت سے قومی زبان اردو کے کامل نفاذ کا حکم صادر کیا۔

مزید پڑھیں: عامر لیاقت کی تیسری اہلیہ بھی طلاق کیلئے عدالت پہنچ گئی

7۔لیکن افسوس کہ عدالت عظمی پاکستان کے اس واضح حکم کے باوجود آئین شکنی کا سلسلہ مسلسل جاری ہے اور ابھی تک ملکی وسائل پر قابض سامراجی قوتوں کی آلہ کار بدمعاشیہ عوام پاکستان کو نفاذ قومی زبان کا ان کا آئینی حق دینے پر تیار نہیں۔

8۔ قومی زبان اردو کا ہر شعبہ میں بطور سرکاری زبان فوری اور مکمل نفاذ ایک آئینی تقاضا ہی نہیں بلکہ ہماری آزادی و خود مختاری ، قومی بقا و سلامتی اور تعمیر و ترقی کا معاملہ ہے۔

9۔ قومی زبان اردو کے نفاذ میں مسلسل تاخیر دستور شکنی اور عدالت عظمی کے فیصلو ں کی توہین اور قائداعظم و علامہ اقبال سمیت بانیان پاکستان کے افکار و نظریات سے انحراف کے زمرہ میں آتا ہے۔

10۔مندرجہ بالا حقائق کی روشنی میں قومی زبان اردو اور اس کے رسم الخط کا تحفظ اور سرکاری زبان کے طور پر اس کے فوری اور ہمہ گیر نفاذ کی جدوجہد ہر شہری پر فرض ہے۔

11۔ آپ خواہ کسی بھی شعبہ سے تعلق رکھتے ہوں آپ اپنے علم و معلومات، پیشہ ورانہ صلاحیت، وقت اور خداداد وسائل صرف کرکے نفاذ قومی زبان کی اس مقدس جدوجہد کو کامیاب بنانے میں اپنا بھرپور قسمی س ملی کردار ادا کرسکتے ہیں۔

12۔ اس جدوجہد میں لکھتے بولتے یا ترغیب و تحریک دیتے ہوئے سیاسی وابستگیوں سے بالاتر رہیں، اپنے نصب العین پر نظر رکھیں، نہایت علمی انداز اپنائیں ہر قسم کے لسانی و گروہی تعصب سے گریز کریں ۔

13۔ سادہ ترہن الفاظ میں ہم انگریزی سمیت کسی بھی زبان کے خلاف نہیں لیکن ہم کسی بھی طور کسی بدیسی زبان کو اپنے روز مرہ معاملات اور قومی امور کی انجام دہی میں اپنی قومی زبان و اقدار پر ترجیح دینے کو تیار نہیں۔

14۔ عربی ہماری مذہبی ، فارسی ہماری ہماری تہذیبی اردو ہماری قومی اور وطن عزیز میں بولی جانے والی دیگر تمام زبانیں ہماری مادری زبان ہیں۔ دستور پاکستان کے مطابق وفاقی سطح پر قومی زبان اردو کو سرکاری زبان کے طور پر نافذ کرنا اور صوبائی سطح پر دیگر پاکستانی زبان کی ترویج و ترقی حکومتوں کی آئینی ذمہ داری ہے۔

15۔ آئیے اپنے بچوں کو اسکول بھیجنے سے پہلے اپنی مادری زبان سکھائیں، انہیں اسکول میں اپنی قومی زبان اردو میں جملہ علوم و فنون کی معیاری تعلیم دیں۔ اعلی تعلیم کے لئے جہاں ضرورت ہو اردو کے علاوہ ایک یا ایک سے زائد غیرملکی زبانیں سیکھنے کی حوصلہ افزائی کریں۔

مزید پڑھیں: وفاقی حکومت کا سرکاری دفاتر میں ہفتہ کی چھٹی بحال نہ کرنے کا فیصلہ

16۔ سوشل میڈیا پر اظہار خیال اور باہمی میل جول اور بات چیت کرتے ہوئے قومی و مادری زبان کو ترجیح دیں اور رومن اردو لکھنے کی شدید حوصلہ شکنی کریں کہ یہ ہماری قومی زبان کے لئے انتہائی تباہ کن ہے۔

17۔ مقامی سطح پر نفاذ اردو کے لئے اپنے شہر کے اساتذہ ، علماء ، ایوان صنعت و تجارت ، مقامی حکومتوں کے نمائندوں طلبا انجمنوں ، پیشہ ورانہ تنظیموں کے عہدیداروں اور انتظامی افسران کے ساتھ رابطہ رکھیں ۔

18۔ اپنی تحریروتقریر اور روزمرہ گفتگو میں غیر ضروری طور پر انگریزی کے ایسے الفاظ استعمال کرنے سے گریز کریں جن کے بہترین مترادفات آپ کی قومی اور مادری زبانوں میں پہلے سے موجود ہیں ۔

19۔انگریزی زبان کے خلاف شدت پسندی کی بجائے زبانوں کی معیاری تعلیم و تربیت پر زور دیں اور قومی زبان کے تحفظ ، نفاذ اور فروغ کی جدوجہد کرتے ہوئے کثیر لسانی ثقافت کو فروغ دینے یعنی ایک سے زائد پاکستانی اور غیر ملکی زبانیں سیکھنے کی حمایت کریں۔

20۔ اپنی زندگی کے کامیاب تجربات و مشاہدات کو سماجی ذرائع ابلاغ کے ذریعہ دوسروں تک منتقل کرنے کے لئے اردو کمپیوٹری سہولیات سے بھرپور استفادہ کریں ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *