اغتصاب العقول !!

تحریر: علی ہلال

خان کے حورایوں کو آج ٹیپو سلطان کی بڑی یاد آگئ ہے۔ فواد تو ایسے ٹیپو کا تذکرہ کررہے ہیں جیسے ان کے نانا جان تھے۔ دوران اقتدار دجالی ٹولے کی تمام تر جدوجہد اور اخراجات رنجیت سنگھ اور راجہ داھر کے مجسموں کی تنصیب پر صرف ہوتے رہے ہیں۔مگر خان نے دنیا کے اعلی ترین برین واش فرمز کی خدمات لیکر نوجوانوں کی ایسی ذہن سازی کررکھی ہوئی ہے کہ انہیں یہ سب درست اور عین دین و وطن سے وفاداری ہی محسوس ہورہا ہے۔

اسے عربی میں "اغتصاب العقول” اور "فن تغييب الوعي "کہاجاتا ہے ۔یعنی برین ریپ ۔(کاش مدینہ یونیورسٹی اپنے فضلاء کو یہ حقائق سکھاتی تو آج عرب ممالک کی جامعات سے پڑھنے والے مدینہ منورہ کی نسبت کے ساتھ دجالی نظام کے ترجمان نہ بنتے۔

مزید پڑھیں: فخر محسوس کرتا ہوں کہ میری پیدائش نواب شاہ کی ہے: آصف زرداری کا خطاب

اس موضوع پر بہت کچھ پڑھا ہے مگر وقت کم اور کام زیادہ ہے۔ وسائل کی عدم موجودگی آڑے آرہی ہے وگرنہ نحو وصرف اور صحافت وابلاغ کے کورسزز سے یہ مواد ہزار درجے بہتر ہیں دور حاضر کی ضرورت ہے۔)

ماہرین کا ماننا ہے کہ اغتصاب العقول ، اغتصاب الاجسام سے کئی گنا زیادہ خطرناک عمل ہے۔ جب ایک انسان اس عمل سے گزرتا ہے اس کی ری ہیبلشن اور نارمل بنانے کے لئے دوبارہ انہیں فرمز کی خدمات لینی پڑتی ہیں وگرنہ وہ زندگی بھر عقل وخرد سے محروم ہوکر زندگی گزارتا ہے۔

ماضی میں برین ریپ کے سب سے بڑے ماہر نیپولین بونا پارٹ کو قرار دیا گیا ہے۔ جس نے مصری عوام کو متاثر کرنے کے لئے ان کی دریائے نیل سے وفا کے نام منائے جانے والے ایک تہوار میں مصری جبہ پہن لیا ۔ نپولین سب سے زیادہ دولت جشن عید میلاد النبی پر خرچ کرتے تھے۔ وہ تسبیح بھی ہاتھ میں رکھتا تھا۔ وہ عربی لباس بھی پہنتا تھا۔ وہ دینی کلمات اور آیات کا بھی استعمال کرتا تھا۔ یہاں تک کہ مصریوں نے ان کا نام "علی بوناپاراٹ” رکھ لیا تھا۔

برطانوی استعمار کے برصغیر میں ایک سفیر کا اجک واقعہ بھی بہت مشہور ہے۔ جو اغتصاب العقول کا کامیاب مظاہرہ تھا۔ماہرین نے اغتصاب العقول کے متعدد حربوں سے پردہ اٹھاتے ہوئے لکھا ہے کہ اس فن کا سب سے موثر ترین ذریعہ میڈیا کو قرار دیا گیا ہے ۔جس کے ذریعے عوام کو یہ باور کروایا جاتا ہے کہ مسیج الدجال اور مسیح ابن مریم میں کوئی فرق نہیں۔

ماہرین نے لکھا ہے کہ اغتصاب العقول کے حربوں میں سب سے مشہور اور کارگر حربہ عوام کو ڈرانا ،دھمکانا، ہراساں کرنا ، جنگ چھڑنے ،خونریزی ہونے اور خانہ جنگی کا خدشہ دلانا ہے۔آپ دیکھ رہے ہیں گزشتہ کئی دنوں سے یہی ہورہا ہے۔

دوسرا حربہ ظلم وجہل اور شیطانی پروپیگنڈے کے مخالف اور رکاوٹ بننے والی شخصیات کو نظر انداز کرنا، انہیں بدنام کرنا یا انہیں سیاست کے بارے میں ناسمجھ قراردینا ہے۔ تاکہ ان کا اعتبار ختم ہو۔

ایک موثر حربہ عوام کی لاعلمی کا فائدہ اٹھا کر من گھڑت معلومات، بے اساس دعووں اور جھوٹ وفریب کے ذریعے حقائق مسخ کرنا بھی ہے۔

مزید پڑھیں: یہ عید سیر و تفریح اور خوشیوں کی عید رہی۔ افغان باشندے

ایک غیر ضروری معاملے کو بہت بڑا اور اہم ایشو بناکر پیش کرنا اس جنگ کا خاص حصہ ہے جس کا نفسیات پر تیر بہدف اثر ہوتا ہے۔ اس کی مثال امریکی خط اور امپورٹڈ کے نعرے بازی ہے۔

ایمان کے مقابلے میں علم کی اہمیت کا دعوی کرنا بھی ایک اہم تکنیک ہے۔ تاکہ ڈگری یافتہ عناصر اپنے مذموم مقاصد تک رسائی کے مواقع پاسکے۔

اس منصوبے کا پانچواں حربہ اپنے تمام تر پروپیگنڈے کو تیز تر کرکے اس انداز سے کرنا کہ عوام اس سے متاثر ہوئے نہ رہ سکے۔ ایسی صورت میں عالم اور مبلغ کا کردار بھی ایک جسم فروش عورت اور طوائف کا رہ جاتا ہے۔

نوٹ: ادارے کا تحریر سے متفق ہونا ضروری نہیں، یہ بلاگ مصنف کی اپنی رائے پر مبنی ہے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *