روسی جرنیلوں کو مارنے میں امریکی انٹیلیجنس یوکرین کی مدد کر رہی ہے: واشنگٹن پوسٹ

روسی جرنیلوں کو مارنے میں امریکی انٹیلیجنس یوکرین کی مدد کر رہی ہے: واشنگٹن پوسٹ

نیویارک: 24 فروری کو یوکرین میں چڑھائی کرنے کے فوراً بعد سے روس نے اپنی جوہری فورسز کو ہائی الرٹ پر رکھا ہوا ہے۔

کریملن کے سربراہ نے خبردار کیا ہے کہ اگر مغرب یوکرین کے تنازعے میں براہ راست مداخلت کرتا ہے تو وہ ’’بجلی کی سی سرعت سے‘‘ جوابی کارروائی کرے گا۔

اس دوران مغرب کی جانب سے یوکرین کو ہتھیاروں کی سپلائی کی شکایت کرتے ہوئے روس نے یوکرین میں ریلوے سٹیشنوں اور سپلائی لائن کے دیگر اہداف پر بمباری کی ہے۔

امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق ماریوپول کے میئر نے کہا ہے کہ محاصرے کے شکار ساحلی شہر کی سٹیل مل میں بھی شدید لڑائی جاری ہے۔

روسی فوج نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ اس نے یوکرین بھر میں پانچ ریلوے اسٹیشنوں کی بجلی کی تنصیبات کو تباہ کرنے کے لیے سمندری اور فضا سے مار کرنے والے میزائلوں کا استعمال کیا جبکہ روسی توپ خانے اور طیاروں نے یوکرینی فوجیوں کے مضبوط ٹھکانوں اور ایندھن اور گولہ بارود کے ڈپو کو بھی نشانہ بنایا ہے۔

یوکرین کے وزیر خارجہ دیمیترو کولیبا نے روس پر الزام لگایا کہ وہ یوکرین میں خوف پھیلانے کے لیے میزائل دہشت گردی کی حکمت عملی کا سہارا لے رہا ہے۔

بدھ کی رات ملک بھر کے شہروں میں فضائی حملے کے سائرن بجائے گئے اور دارالحکومت کیئف کے قریب بھی حملوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

حکام نے کہا کہ وسطی اور جنوب مشرقی یوکرین میں ریلوے کی تنصیب کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز میں بتایا گیا کہ وہاں ایک پل پر بھی حملہ کیا گیا ہے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *