اللہ کی رضا

عید مبارک! عید مبارک!
ابو جی اور عبداللہ بھائی کے آتے ہی صحن میں عید کی مبارک باد دی جا رہی تھی۔ دادی امی کھڑی ہو کر بیٹے اور پوتے کو ملیں، اتنی دیر میں امی جان نے آ کر سب کو سلام کرتے ہوئے عید کی مبارک باد وصول کی۔
گیارہ سالہ عائشہ دوپٹے کا پلو سر پہ ٹکاتے ہوئے ابو سے عید مل رہی تھی کہ بھائی نے بڑے سے گلابی غبارے کے ساتھ سو کے دو کرارے نوٹ تھما دیے۔
میری عیدی ی ی ی! دونوں ہاتھوں میں ایک ایک نوٹ تھامے وہ خوشی سے لہرا رہی تھی کہ ابو جی بھی عیدی کے لیے نوٹ نکالنے لگے۔
عیدی وصول کرنے کے بعد کھانا کھایا گیا اور عبداللہ بہن کو گھمانے گاؤں میں سجنے والے میلے پہ لے گیا۔ جہاں سے عائشہ نے کھلونے خریدے اور جھولے لے کر آئس کریم کے ساتھ گھر واپسی ہوئی۔ گھر آ کر عائشہ نے امی جان کو اپنے کھلونے دکھائے اور سب کے ساتھ آئس کریم کھائی۔
اتنی دیر میں ظہر کی اذان ہونے لگی تو عبداللہ بھائی اور ابو نماز کی تیاری کرنے لگے۔
عائشہ کو مسلسل کھیل میں مصروف پا کر امی جان نے نماز کی تلقین کی مگر وہ اپنی مہندی اور چوڑیوں کو دکھاتے نماز سے رعایت چاہ رہی تھی۔ امی جان نے نماز کے بعد بھی عائشہ کو یوں ہی کھیل میں مگن دیکھا تو محبت سے پاس آ کر بیٹھ گئیں۔
عائشہ بیٹا: آپ کو پتا ہے عید کا چاند نظر آتے ہی اللہ تعالی نے کل رات شیطان کو آزاد کر دیا ہے؟
جی امی آپ نے ہی بتایا تھا کہ رمضان ختم ہوتے ہی اللہ تعالی اسے آزاد کر دیتے ہیں۔
پھر سوچو کہ آپ رمضان میں ساری نمازیں پڑھتی رہی ہو اور اب نہیں پڑھ رہی، شیطان کتنا خوش ہوگا کہ اللہ نے اپنے بندوں کے لیے مجھے قید کیا تھا اور یہ اگلے ہی دن نماز میں سستی کر رہے ہیں۔
جی ی ی ی امی! دانت نمایاں کرتے شرمندگی سے عائشہ کہہ رہی تھی۔
چلو پھر شاباش! ہم نے شیطان کو خوش ہونے کا موقع نہیں دینا، جو لوگ شیطان کو خوش رکھتے ہیں، اللہ تعالی کبھی ان سے راضی نہیں ہوتے۔
جی امی میں ابھی نماز پڑھتی ہوں تا کہ شیطان کو پتا چلے کہ میں بھی اللہ تعالی کو ہی خوش کروں گی۔
شاباش بیٹا! چلو اب نماز پڑھ لو
امی جان واپسی کے لیے اٹھیں تو عائشہ چوڑیاں اتار کر رکھ رہی تھی تا کہ وضو کر سکے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *