کچھ یادیں

کچھ یادیں

تحریر: علی ہلال

کچھ یادیں آج جن کا یوم وفات منایا جارہا ہے ان سے متعلق پڑھی جانے والی کتابوں اورلٹریچرز میں سے وہ کتاب بڑی دلچسپ لگی جو ان کے بیٹے اورپہلی اہلیہ کی آپ بیتی کی شکل میں امریکی صحافی خاتون نے لکھی ہے۔

انگریزی میں لکھی جانے والی اس کتاب کا عربی میں ترجمہ ہوا ہے اور میں نے وہ کتاب پڑھی ہے۔ کتاب کا تجزیہ کرکے معلوم ہوا کہ کتاب جھوٹ کا پلندہ تو نہیں ہے مگر جھوٹ کی بہت بڑی آمیزش سے بھری ہوئی ضرور ہے۔

مگر باوجود اس تڑکے کے بھی بڑی دلچسپ ہے۔ اس کتاب میں ان کی کردار کشی کی کوشش بھی کی گئی ہے مگر شائد مواد نہ ملا تو ان کے بارے میں لکھا کہ وہ جانوروں کے حقوق کے قائل نہیں تھے۔

ان کے لوگوں نے سوڈان میں ایک بندر کو بے دردی سے مارا تھا اوران کا نظریہ تھا کہ بندر دراصل ایک مخصوص قوم کی بگڑی ہوئی شکل ہے۔

بیٹے نے لکھا ہے کہ ہم آخری مرتبہ سوڈان سے ایران کے راستے ہم افغانستان آرہے تھے۔ یہ مئی 1996ء تھا جب ہم ایک چارٹرڈ طیارے میں بیٹھے تھے ۔ میرے پاپا کی گود میں کلاشنکوف پڑی تھی۔ جیسے ہی ہمارا طیارہ سعودی فضائی حدود میں داخل ہوا ہماری پریشانی بڑھ گئی کہ کہیں ہم پکڑے نہ جائیں۔ مگر بخیریت نکل گئے۔

ایران پہنچ کر ہمیں ایندھن بھرنا تھا ۔ مگر ایرانی ہوائی اڈے پر شدید سیکورٹی الرٹ تھی ۔ ہمارے معاون ایک شاطر شخص تھے اس نے اتر کر جہاز کی تلاشی کے لئے آنے والے افسران کو باتوں میں لگایا اورانہیں بتایا کہ یہ ایک امیر سوڈانی تاجر کا طیارہ ہے وہ کہیں تجارتی سفر پر جارہے ہیں۔

اور پھر ایک موٹی گڈی ان کے ہاتھ میں دے کر ایندھن بھر نے کے بعد طیارے پر چڑھ گئے ۔ جہاز اڑا اورہم افغانستان کے حدود میں داخل ہوگئے۔ یہ ایک خطرناک سفر تھا۔ ہمارے میزبان ملا نوراللہ نے ہمیں ریسیو کیا۔

وہ بلیک ویگو کی ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ گئے وہ سگریٹ پیتے اور کچھ گنگاتے رہے۔ وہ ایک خطرناک ڈرائیور تھے۔ انتہائی پرخطر دشوار گزار گھاٹیوں میں گاڑی چلاتے ہوئے اس کا دل نہیں کانپتا تھا۔

اس نے میرے بارے پوچھا، بتانے پر اپنا ہاتھ میری طرف بڑھایا اور میری ناک کو چھوا۔ پھر مسکراتے ہوئے بتایا کہ عمر تم مردانہ ناک رکھتے ہو۔ تم بڑے جی دار مرد ہوں گے۔

جلال آباد میں ہمیں ایک سابق شاہی محل میں ٹہرایا مگر پاپا نے وہاں اقامت کے بجائے پہاڑکی چوٹی پر جانے کی خواہش ظاہر کی۔ ہم پہاڑ پر چلے گئے۔

میزبان نے مجھے ایک خوبصورت پپی دی۔ پاپا کے اعتراض پر میزبان نے بتایا کہ پہاڑ کی خاموشی ہے۔ سکوت ہے۔ تنہائی ہے اور لاڈلا بچہ ہے۔ ماں سے دور۔ بہن بھائیوں سے دور اس جان نکال دینے والی تنہائی میں یہ پپی ہی بچے کا واحد ساتھی ہوگا۔

پاپا خاموش ہوگئے۔ پاپا ہنستے نہیں تھے۔ انتہائی سادہ کھانا کھاتے تھے۔ وہ قہوہ نہیں پیتے تھے۔ سبز چائے پیتے تھے۔ یا پھر نیم گرم پانی میں شہد ان کا پسندیدہ مشروب تھا۔ کسی قسم کی کولڈ ڈرنکس سے وہ دور رہتے تھے۔

کشمش کا پانی بھی ان کا پسندیدہ مشروب تھا۔ پھل وہ بہت استعمال کرتے تھے مگر آم ان کا پسندیدہ ترین پھل تھا۔ جس کا وہ بیتابی سے انتظارکرتے تھے۔

وہ گوشت کے شوقین نہیں تھے مگر اگر کھانا پڑجاتا تو وہ چکن پر دنبے کو ترجیح دیتے تھے۔ وہ تمام تر جدید پروڈکٹس سے دوررہتے تھے۔ یہاں تک کہ سوڈان ورسعودی میں بھی گھر سے ائیرکنڈیشن اور صوفے ہٹادئے تھے۔

بس ان کا ایک ہی شوق تھا کہ اعلی ترین نئے اورفریش ماڈل گاڑیاں رکھنا۔ وہ ایک سے ایک گاڑی لیتے تھے۔ ان کا دوسرامشغلہ سرعت رفتاری تھی۔ وہ سعودی عرب میں تیزرفتاری میں ضرب المثل بنے تھے۔

ہواں کی دوش پر اڑنے والے عربی شیخ کے ساتھ کسی کے لئے بیٹھ کر سفر کرنا ناممکن تھا۔ گاڑیوں سے محبت شائد ان کی بچپن کی ایک محرومی کا نتیجہ تھا۔

جب وہ بہت کم عمر تھے تب ان کے والدین کے درمیان طلاق ہوئی وہ اپنی والدہ کے ساتھ چلے گئے۔ ان کی والدہ نے والد کے کمپنی مینجر محمد العطاس سے نکاح کرلیا جو ایک رحم دل اورنیک انسان تھے۔

اس کے برعکس ان کے والد خرچ کرنے میں کفایت شعار بلکہ کسی حد تک کنجوس تھے۔ میری نو برس عمر تھی جب میں کار دلوانے کے لئے ضد کرنے لگا۔

میری والدہ کا شوہر مجھے میرے والد کے پاس لے گئے میرے والد کثیر الاولاد تھے اوراپنے بیشتر بچوں کے نام انہیں یاد نہیں ہوتے تھے۔ انہیں اپنی والدہ کا نام لیکر اپنا تعارف کروانا پڑتا تھا۔

میں نے تعارف کروایا تو کچھ دیر مجھ گھورنے کے بعد مجھے سائیکل دلانے کا کہہ گئے۔ میں خاموش ہوگیا۔ شائد یہی میری اپنے والد کے ساتھ آخری ملاقات تھی۔

اسی سال میرے والد کا جہاز حادثے میں انتقال ہوگیا۔ مگر کچھ ہی دنوں بعد میرے گھر کے باہر ایک چمکتی کارکھڑی تھی جو میری ملکیت تھی۔ یہ محمد عطاس اورمیری والدہ نے مل کر مجھے گفٹ کردی تھی۔

جانوروں میں انہیں گھوڑے پسند تھے اور وہ اعلی عربی نسل کے گھوڑے رکھتے تھے۔ بھی پالتے تھے۔ ان کے پاس کئی قیمتی ترین گھوڑے تھے مگر سعودی عرب کے قانون کے مطابق ملک سے عربی گھوڑے باہر لیجانے کی اجازت نہیں ہوتی جس کے باعث ہمیں جلاوطنی کے وقت وہ گھوڑے فارم ہاوس میں ہی چھوڑنا پڑے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *