قرآن اور محبت الہی کا حصول

رمضان المبارک اور قرآن کریم لازم و ملزوم ہیں۔ رمضان المبارک کی بہاریں شروع ہوتے ہی قرآن کریم کی بہاریں بھی شروع ہو جاتی ہیں۔ ہر طرف تلاوت و تراویح کی صدائیں بلند ہوتی ہیں۔ جوں جوں رمضان المبارک اختتام کی طرف گامزن ہوتا ہے تو یہ رونقیں اور بہاریں بھی ماند پڑتی چلی جاتی ہیں۔ آخری ایام میں تراویح بھی انتہائی اختصار کے ساتھ ہوتی ہیں اور سورتوں پر ہی اکتفا ہوتا ہے، ذاتی مشاہدہ یہ ہے کہ تراویح میں تکمیل کے بعد حفاظ کرام کی تلاوت کا معمول بھی کم اور شاید بالکل ختم ہو جاتا ہے۔

معمولات نبوی کو دیکھا جائے تو وہ اس کے بالکل برعکس نظر آتے ہیں، آخری ایام میں اعمال میں کمی کی بجائے اضافہ اور زیادتی دیکھنے کو ملتی ہے۔ ہمارے ماحول میں آخری ایام کی ناقدری کی جاتی ہے اور حتی کہ تراویح تک کا اہتمام بھی بعض اوقات قائم نہیں رہتا۔
سو ان ایام میں انفرادی عبادت کثرت کے ساتھ کیجئے۔ میں جس عبادت کی طرف متوجہ کرانا چاہتا ہوں وہ تلاوت قرآن کریم ہے۔ اللہ تعالٰی سے براہ راست ہم کلام ہونے کا واحد ذریعہ تلاوت ہے۔ اب تلاوت کیجئے مگر ایک خاص زاویہ اور نیت سے، وہ یہ کہ اللہ تعالٰی سے ہم کلام ہونے اور اس کی محبت کے حصول کی نیت سے تلاوت کریں۔ پہلے جو ہم یعنی حفاظ اور علماء تلاوت کرتے رہے اس میں کہیں نہ کہیں دیگر عوامل بھی تھے کہ رات تراویح سنانی ہے تو یاد کرنے کے لئے اور منزل پختہ بنانے کے لئے ہم پڑھتے رہے۔

اب اللہ سے باتیں کیجئے اور زبان سے بارگاہ الہی میں عرض کیجئے کہ اللہ! اب تلاوت کا کوئی اور مقصد نہیں صرف آپ سے ہم کلام ہونے، رضا حاصل کرنے اور آپ کی محبوبیت کے تقاضے سے تلاوت کر رہا ہوں۔ اس تلاوت کو قبول کرتے ہوئے ہم سے راضی ہو جائیے اور اپنی رضا کا اعلان کرتے ہوئے محبوبیت عطا کر دیجئے۔ امید بلکہ یقین ہے کہ اس انداز سے کی گئی تلاوت سے ان آخری ساعات میں قرب کے اس مقام تک پہنچیں گے جو شاید آپ کو اب تک حاصل نہ ہو سکا ہو۔ اور ہاں آخری بات کہ اس تلاوت کے بعد بندہ محمد سعد سعدی کو بھی دعاؤں میں ضرور یاد کیجئے گا۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *