سودی نظام کے خاتمے کا تاریخی فیصلہ: قابل توجہ اور قابل وضاحت اجزاء

سودی نظام کے خاتمے کا تاریخی فیصلہ: قابل توجہ اور قابل وضاحت اجزاء

تحریر: مفتی رفیق احمد بالاکوٹی

استاذ جامعۃ العلوم الاسلامیہ علامہ محمدیوسف بنوری ٹاؤن نگران و مشرف تخصص فقہ اسلامی جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی۔

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم 28 اپریل، 26 رمضان المبارک 2022ء بمطابق 1443ھ کو وفاقی شرعی عدالت کی طرف سے ملک پاکستان میں سود کے خاتمے سے متعلق فیصلہ سنایا گیا ہے، میڈیا کی رپورٹس کے مطابق جسٹس ڈاکٹر سید انور نے فیصلہ پڑھ کر سنایا ہے، اس فیصلے میں کہا گیا ہے کہ تمام علماء اور اٹارنی جنرل کو سننے کے بعد فیصلہ سنایا گیا ہے۔

ذیل میں اس فیصلے کے اہم قابل توجہ اور قابل وضاحت اجزاء اور شقوں کی طرف نشاندہی کرتے ہیں : "ربا کا خاتمہ اسلامی نظام کی بنیاد ہے کسی بھی طرح کی ٹرانزیکشن جس میں ربا شامل ہو وہ غلط ہے، قرض سمیت کسی صورت میں لیے گئے سود ربا میں آتےہیں، حکومت کی جانب سے بیرونی قرضوں پر سود دینا بھی ربا میں آتا ہے، آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک اور بین الاقوامی اداروں سے ٹرانزیکشن سود سے پاک بنائی جائے۔

اسلامک بینکنگ اور سودی نظام سے پاک بینکاری نظام دو مختلف چیزیں ہیں۔ پاکستان میں پہلے سے کچھ جگہوں پر سود سے پاک نظام بینکاری موجود ہے، ربا کو پاکستان میں ختم ہونا چاہیے، چین بھی اسلامی شرعی نظام کے مطابق سود سے پاک بینکاری کی طرف جا رہا ہے۔

حکومت، بینکنگ سے متعلق انٹرسٹ کا لفظ ہر قانون سے نکالے، حکومت کے وہ تمام قوانین جن میں سود کا لفظ استعمال ہوا ہے اس کو فوری خارج کیا جائے، وہ تمام شقیں کالعدم تصور ہوں گی جن میں سود کا لفظ استعمال ہوا ہے، سپریم کورٹ کے ایپلٹ بینچ نے 2000ء میں سودی نظام کے خاتمے کے حکم پر عملدرآمد کا حکم دیا تھا۔

عدالت کو بتایا جائے کہ سودی نظام کے خاتمے کے لیے کتنا وقت درکار ہے، یہ بھی کہا کہ پانچ سال یعنی 2027 دسمبر تک سود سے مکمل پاک نظام ملک میں نافذ کیا جائے، آرٹیکل 38 ایف (ربا کو جتنی جلد ممکن ہو ختم کرے گی) پر عمل درآمد ہوتا تو ربا کا خاتمہ دہائیاں پہلے ہو چکا ہوتا، بینک کے اسٹریٹجک پلان کے مطابق 30 فیصد بینکنگ اسلامی نظام پر منتقل ہو چکی ہیں”۔

مذکورہ بالا فیصلہ مجموعی طور پر خوش آئند ہے اور ہم اس کا خیر مقدم کرتے ہیں، اللہ تعالی جزائے خیر دے ان معزز ججز حضرات کو کہ سالوں کے وقفوں کے ساتھ،اپنی سی کوشش فرما کر اس نوع کے فیصلے صادر کرکے نئی نسل کو وقتی خوشی کا سامان مہیا کر دیتی ہے۔

بہرحال آئین کی دفعہ 203 کے شق (د) کے نمبر (2) اور نمبر(3) کے مطابق اگر وفاقی شرعی عدالت کے کسی فیصلے میں ذکر کی گئی آخری مدت سے پہلے (جو حالیہ فیصلے میں پانچ سال یعنی 2027ء دسمبر کی مدت ہے) عدالت عظمیٰ میں اس فیصلے کے خلاف اگر اپیل دائر کر دی جائے تو اپیل کا فیصلہ ہونے تک وفاقی شرعی عدالت کا کوئی بھی فیصلہ مؤثر نہیں ہوگا، قانونی زاویہ سے یہ تلوار اب بھی لٹک رہی ہے!!!

حالیہ فیصلے میں ایک جگہ کہا گیا ہے کہ "پاکستان میں پہلے سے کچھ جگہوں پر سود سے پاک نظام بینکاری موجود ہے”، جب کہ دوسری جگہ کہا گیا ہے کہ "اسٹیٹ بینک کے اسٹریٹجک پلان کے مطابق %30 بینکنگ، اسلامی نظام پر منتقل ہو چکا ہے”.ہم سمجھتے ہیں کہ یہ دونوں باتیں الگ الگ ہیں!!

سود کے خاتمے کے فیصلے اور اسلامک بینکنگ دونوں الگ الگ چیزیں ہیں، دونوں کو خلط ملط نہیں کرنا چاہیے، اول الذکر پر ہمارے نکتہ نظر کے مطابق تاحال حقیقی طور پر نفاذ کا مرحلہ شروع نہیں کیا گیا ہے جس کا دائرہ کاراورآثار بینکنگ سسٹم سے باہربینک کےعلاوہ ملک کے دیگر شعبوں میں بھی موجود ہیں اور اس حوالے سے سنجیدہ اقدامات مشاہدے میں نہیں ہیں، جبکہ ثانی الذکر امر میں اسلامی نظریاتی کونسل کی رپورٹس اور ماہرین قانون اور علمائے شریعت کے مطابق جو خاکہ تجویز کیا گیا تھا وہ بطور ایک ابتدائی اور عبوری مرحلہ کے تھا، جس کا تقاضا یہ نہیں تھا کہ قانونی اور شرعی راہنمایان قوم اسی پر اکتفا کرکے مطمئن ہو جائیں۔

بلکہ وہ خاکہ اب بھی مزید اسلامی اصولوں (مشارکہ ومضاربہ اور رسک پر مبنی حقیقی تجارت اورخرید وفروخت)کے ساتھ ہم آہنگی کی سنجیدہ پیشرفت کا شدید متقاضی ہے، جس میں واضح طور پر سستی اور لاپرواہی نظر آ رہی ہے، حالیہ عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ملک پاکستان میں پہلے ہی سے سود سے پاک نظام بینکاری موجود ہے۔

عدالت عالیہ نے اس موقع پر خلط ملط کرکے بینکنگ کے سود سے پاک ہونے کا جو تاثر دیا ہے یہ تاثر بذات خود سود کے خاتمےکے حالیہ فیصلے کی پس منظر و پیش منظر کو مشکوک بناتی ہے، جسے اسٹریٹجک پلان اور معاشی اداروں کی طرف سے روایتی بینک کی بجائے نام نہاد مروجہ غیر سودی بینکوں کی ناروا تشہیر کی تقویت کی بھونڈی کوشش ہے۔

ہماری رائے کے مطابق 1990ء اور 1999ء کی وفاقی شرعی عدالت اور سپریم کورٹ کے شریعت اپیلنٹ بینچ کے فیصلے پر عمل درآمد(نہ کی محض فیصلوں پر فیصلے اور فیصلوں کے بعد غیر سنجیدہ عملی کوششیں،جس میں آئی ایم ایف اور عالمی مالیاتی اداروں کی دخل اندازی شامل ہوجایا کرتی نظر آرہی ہے) کو یقینی بنانا زیادہ ضروری تھا ،بنسبت نئے اور فیصلوں پر فیصلوں کی تاریخ دینے سے۔

ہم یہ بات برملا کہتے ہیں کہ وفاقی شرعی عدالت کے غیر مؤثر فیصلوں پر قوم کو اور اہل علم و دانش کو دھوکا نہ دیا جائے، نیز سپریم کورٹ کے اپیلٹ بینچ نے جو تاریخ ساز فیصلہ دے دیا تھا، اس کے بعد کسی قسم کی فیصلہ بازی کرنے کی ضرورت نہیں تھی، اور قوم اور اہل علم کو ٹرک کی بتی کے پیچھے لگاکر ان کا وقت ضائع کرنے کے سوا کوئی اور دینی اور ملی فوائد حاصل ہوتے نظر نہیں آتے۔

اور اسی فیصلے پر حقیقی معنوں میں سنجیدگی کے ساتھ عملدرآمد ہی اس کا واحد حل ہے جس کے لیے قائمہ کمیٹی کو سنجیدگی دکھانی ہوگی، سود اور مغربی نظام بینکاری کو پاکستان کے معاشی و معاشرتی نظام کے لیے "ام الامراض” سمجھ کر ہی عملدرآمد کرنا ہوگا، جولائی 1948ء کو قائد اعظم محمد علی جناح مرحوم نے اسٹیٹ بینک کے افتتاح کے موقع پر بینکاری نظام کو اسلام کے معاشرتی اور معاشی اصول پر ترقی دینے کے جس عزم کا اظہار کیا تھا۔

اسی کا اعادہ 1949ء کے قرارداد مقاصد کی منظوری میں دوبارہ کیا گیاتھا، پھر 1956ء (دفعہ 28) میں پاکستان کا پہلا دستور جب منظور ہوا تو سہ بارہ اس اسلامی معاشی اصولوں بالخصوص سودی معیشت کو بعجلت ختم کرنے کی دہائی دی گئی، چوتھی دفعہ 1973ء کے آئین کے دفعہ 38 میں اس دینی و مذہبی ملی وقانونی ضرورت کو بالاتفاق پھر تسلیم کیا گیا۔

پھر 1990ء میں وفاقی شرعی عدالت کے چیف جسٹس جناب تنزیل الرحمن نے سودی قوانین کے خلاف فیصلہ سنایا ،جسے بعد کے حکمران جماعت نے سپریم کورٹ سے سٹے آرڈر لے کر غیر موثر و غیر نافذالعمل کر دیا، اس کے بعد دسمبر 1999ء میں سپریم کورٹ کے شریعت ایپلٹ بینچ نے 1990ء کے سابقہ فیصلے کی تائید و توثیق کرتے ہوئے، سودی قوانین کے خلاف فیصلہ سنایا،اس کے بعد حکمران حلقوں کی طرف سے نا قابل معافی سرد مہری چھائی رہی

اس دوران دینی حلقوں،مدارس دینیہ کے ماہناموں اور کالم نگاروں، اداریوں اور سیاسی جماعتوں کی طرف سے فیصلہ پر عمل درآمد کی جانب حکمران طبقے کو مختلف طریقوں سے متوجہ کیا گیا لیکن ملک پاکستان کو مغربی نظام معیشت کے تلے ترقی دینے کی فرسودہ اور غیراسلامی اور غلامانہ سوچ رکھنے والے حکمرانوں کی جانب سے مجرمانہ خاموشی اختیار کی گئی، اب دوبارہ جب وفاقی شرعی عدالت کا یہ تازہ فیصلہ سامنے آیا ہے۔

یہ فیصلہ وفاقی شرعی عدالت کی بجائے اگر سپریم کورٹ کے شریعت ایپلنٹ بینچ کی طرف سے زیادہ مؤثر انداز میں صادر ہوتا تو اس میں سنجیدگی کے آثار زیادہ نظر آتے، بہرحال عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ فیصلوں پر فیصلے ہمارے معاشی مسائل کے حل کے ضامن اگر ہوتے تو 1990ء میں وفاقی شرعی عدالت کے چیف جسٹس جناب تنزیل الرحمن صاحب کے فیصلے کے بعد ہی یہ دیرینہ ملکی فریضہ مکمل ہو جاتا،اورقوم کا ہرطبقہ اس سے نفع اندوزہوتا، سنجیدہ عمل درآمد ہی ان فیصلوں پر حقیقی خوشی کا واحد باعث ہوگا۔

خدارا مزید کھیل کھیلنے کی بجائے اس حوالے سے ٹھوس عملی اقدامات اٹھائے جائیں، آئی ایم ایف اور دیگر بین الاقوامی مالیاتی،عالمی اداروں سے دوٹوک اور واضح طور پر کہہ دیا جائے کہ ہمارا مذہب اسلام سودی قرض ،کے لین دین کی مکمل ممانعت کرتا ہے، ہمارا ملک اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے، اس کا آئین اسلامی ہے، جس کی رو سے ہم پابند ہیں کہ سودی قرضوں اور لین دین سے مکمل دور رہیں گے، اور اسے قانون کا حصہ نہیں بنا سکتے۔

اب تک جو کوتاہیاں کی ہیں اس پر ہم آئین کی رو سے مجرم ہیں، آئینی رو سے یہ بات بے غبار ہے اور حالیہ فیصلے میں بھی اس کا تذکرہ کیا گیا ہے، نیز سودی قرضوں کے حوالے سے آئی ایم ایف اور اندرونی اور بیرونی ممالک سے کیے گئے سودی معاہدات بھی اسلامی اور آئینی و قانونی رو سے غیر موثر اور ناقابل عمل ہیں۔

قدم بڑھانے کی ضرورت یہی سے ہے، تین چار قدم ریورس مار کر دوبارہ فیصلوں پر فیصلے دینے سے اس دینی قومی اور ملی فرائض سے اللہ کے ہاں ہمارا حکمران طبقہ (وقت کا وزیر اعظم اور اس کا کابینہ) کسی بھی طور پر سبکدوش شمار نہیں ہو سکتا، ورنہ نتائج اور عواقب ملک پاکستان کے، جیسے اب ہیں۔

اس کھلواڑ میں تسلسل سے اس سے زیادہ بھیانک ہوں گے، اورحکمران طبقہ اپنی دوغلی پالیسی ، دھوکہ اور منافقت عملی کی وجہ سے خدا کے عذاب کا کلی طور پر مستحق بن جائے گا، اوریوں ملک تباہ حالی کی آخری دہانے تک پہنچ جائے گا۔

ولا فعل اللہ ذلک۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *